ہاسٹلوں کی تالہ بندی نامنظور ہےBUMHS انتظامیہ جلد از جلد ہاسٹلوں کو کھولے – بی ایس اے سی

37

طلباء کی جانب سے کالج کے سامنے لگائے گئے  کیمپ کی بھرپور حمایت کرتے ہیں ۔ بی ایس اے سی

بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کے مرکزی ترجمان نے بولان میڈیکل یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ہاسٹلوں کی تالہ بندی اور طلباء کی جانب سے کالج کے سامنے کیمپ لگانے پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتظامیہ اپنی نااہلی اور تعصبانہ رویے کی وجہ سے اخلاقی حمایت کھو چکی ہے کیونکہ جب سے موجودہ وائس چانسلر کو یونیورسٹی میں تعینات کیا گیا ہے تب سے طلباء و طالبات مختلف مسائل کا سامنا کرکے مسلسل احتجاجی مظاہرہ اور ہڑتالی کیمپ لگا رہے ہیں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ وائس چانسلر اور انتطامیہ کی آمرانہ رویے کی وجہ سے صوبے کی واحد میڈیکل یونیورسٹی بہتری کی بجائے ابتری کی جانب جا رہی ہے۔ جس کی ذمہ دار موجودہ وائس چانسلر اور رجسٹرار ہیں کیونکہ یہ تمام مسئلوں کو  پیدا کرنے والے یہی ہیں اور ہاسٹلوں کو عید سے پہلے سیل کرکے طلباء سے یہی وعدہ کیا گیا تھا کہ عید کے فوراً بعد کھولا جائے گا لیکن طلباء و طالبات کی کلاسز شروع ہونے کے باوجود اور طلباء کے اصرار کرنے پر بھی نہیں کھولا جا رہا ہے جس کی وجہ سے طلباء مجبور ہوکر بالاخر یونیورسٹی کے سامنے کیمپ لگائے ہیں جس کی ہماری تنظیم بھرپور حمایت کرکے اس حوالے سے طلباء کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ ہم کسی بھی تعلیمی ادارے کے سربراہ اور انتظامیہ کو قطعاً یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ اپنی نااہلی اور آمرانہ رویوں کی وجہ سے طلباء و طالبات کیلئے درد سر بن جائیں اور طلباء کو کلاسوں کی بجائے روڑوں پر لے آئے۔ جس کی وجہ سے تعلیمی ادارے زبوں حالی کا شکار ہوں۔

ترجمان نے آخر میں صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ہم نے بار بار ان مسائل کے حوالے سے صوبائی حکومت کو آگاہ کی ہے لیکن ان کی جانب سے آج تک اس حوالے سے ایکشن نہیں لیا گیا ہے ایسا لگتا ہے کہ تعلیم اور صحت جیسے اہم محکمے حکومت کے ترجیحات میں ہی شامل نہیں ہے کیونکہ تعلیم اور صحت کے حوالے سے ایمرجنسی نافذ کرنے کے باوجود کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے ہیں