کیا ہم انقلابی ہیں؟ – عبدالواجد بلوچ

164

کیا ہم انقلابی ہیں؟

تحریر: عبدالواجد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ معاشرے میں انقلابی تحریک کی ترجیحات کیا ہوں؟ یہ ایک اہم فکری اور عملی موضوع ہے جس پر سوچنا سمجھنا اور عمل کرنا انتہائی لازمی ہے اس سلسلے میں غور کرتے وقت پہلا سوال یہ سامنے آتا ہے کہ بلوچ معاشرہ کیا ہے؟ اور اس کے بعد یہ کہ ’’انقلابی تحریک‘‘ سے کیا مراد ہے؟ پھر تیسرا سوال یہ ہے کہ ترجیحات کیا ہوتی ہیں؟ جہاں تک بلوچ معاشرے کا تعلق ہے تو اس حوالے سے کہتا چلوں کہ میں بذات خود کس معاشرے سے تعلق رکھتا ہوں (لفظ معاشرے سے مراد وہ معاشرہ ہے جس کا دارومدار و رشتہ موجودہ تحریک سے ہو، موجودہ تحریک جس کا مقصد بلوچستان کو پاکستانی قبضہ گیریت سے چھٹکارا دلانا).جب جب تحریک نے سر اٹھایا تو ہم نے اس تحریک کو “انقلاب” کا نام دیا، دورانِ جدوجہد ہمارے ہاں مختلف سوچ معرض وجود میں آئے جن جن لوگوں کا تعلق بلواسطہ یا بلاواسطہ رواں تحریک سے تھا تو مخالف سوچ کی طرف سے ہمیشہ اُن لوگوں کو “انقلابی”کہہ کر پکارا گیا اسی طرح یہ لفظ انقلاب سے ہوتے ہوئے ہم ہمیشہ اپنے آپ کو انقلابی کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے تھے جو آج بھی اسی جذبے سے جاری ہے لیکن شومئی قسمت ہم نے یہ کبھی نہیں سوچا، یہ کبھی نہیں دیکھا کہ “انقلاب” کا مقصد کیا ہے انقلابی لوازمات کس طرح کی ہوتی ہیں اور ہم از خود کس پیرائے سے انقلابی لگتے ہیں، بس صرف لفاظی صورت میں اپنے آپ کو انقلابی کہلوانے اور انقلابی سمجھنے سے لوگ انقلابی نہیں ہوتے۔

آج بلوچ کی رواں تحریک کے اس فیز میں ہر اس کارکن کو یہ سوچنا ہوگا، سمجھنا ہوگا کہ ہم انقلاب کو کس طرح سمجھیں۔ ان لوازمات کو کس طرح اپنے اندر Adopt کریں گے سب سے پہلے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ انقلاب آتا کیسے ہے، حقیقی انقلاب کے لوازمات کیا ہونی چاہئیں؟

انقلاب کیسے آتا ہے؟ یہ ایک اہم موضوع ہے اب تک کی معلوم تاریخ میں دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی بھی انقلاب آیا ہے تو وہ تمام شرائط جو انقلاب کے لیئے ضروری ہوتی ہیں، جب پوری ہو گئیں تو انقلاب برپا ہو گا، انقلاب کی جو شرطیں ہیں اس میں پہلی شرط” نظریہ” کہ جس کی بنیاد پر ہم انقلاب لانا چاہتے ہیں۔ دوسری شرط “نظریاتی قیادت” تیسرا “نظریاتی کارکن “چوتھی شرط” تنظیم”پانچویں شرط”مقامی قیادتیں”چھٹی شرط”شعبہ جاتی ماہرین”ساتویں اور آخری شرط”عوامی خواہش کا ہونا”یہ وہ سات شرطیں ہیں جو اگر پوری ہوجائیں تو انقلاب برپا ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ پہلی شرط کہ نظریہ کیا ہے کمیونسٹ انقلاب لانا ہوتو پہلے اس کے نظریے کو متعارف کرانا پڑے گا، اگر سرمایہ دارانہ انقلاب مطلوب ہو تو لوگوں کو سرمایہ داری کے نظریے سے روشناس کرانا ہوگا، پھر جو اپنے نظریات کے مطابق انقلاب لانا چاہتا ہے پہلے خود اپنی ذات کو اس نظریے کے مطابق ڈھالنا ہوگا یعنی ایک نظریاتی قیادت تیار کرنا ہو گا پھر یہ نظریاتی قیادت اپنے نظریات کی تبلیغ کرکے اپنے ساتھ چلنے والوں کو اس نظریے سے محبت کرنے والوں کو اس انقلاب کے لیے تیار کرنا ہوگا، یہ آسان کام نہیں ہے دنیا کا سب سے مشکل کام فرد سازی اور کارکن سازی ہے جب اس نظریے کے مطابق کارکنوں کی ایک مطلوبہ تعداد ہوجاتی ہے تو پھر اس کے بعد ان سب کو ایک تنظیم میں پرونا ہوتا ہے تاکہ انقلابی جدوجہد منظم اور مضبوط انداز میں آگے بڑھے اس کے بعد پانچواں اہم کام مقامی قیادتوں کی فراہمی تاکہ یہ قیادتیں انقلاب کے لیئے عوامی قوت کی فراہمی کا ذریعہ بنیں اور انقلاب کے بعد انقلابی حکمرانوں اور عوام کے درمیان رابطے کا ذریعہ بھی بنیں۔

لیکن بلوچ معاشرے میں ہمیشہ ابتداء میں شروعات موجودہ بالا انقلابی لوازمات سے ہوئیں لیکن درمیان میں جاکر انقلابی رویوں کو بجائے مضبوط کرنے کے انہیں ہمیشہ اپنے عارضی و شخصی مفادات کے بھینٹ چڑھا کر تحریک کا ستیاناس کیا جاتا تھا، اور یہ منفی رویے ہنوز جاری ہیں. ہم جب انقلاب کی بات کرتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے اندر کا مفاداتی جانور کو مارنا ہوگا اپنے شخصی حصار سے نکل کر ہی ہم حقیقی انقلابی کہلائیں گے. یہ اٹل حقیقت ہے کہ انقلابیوں کو انقلاب ہرگز برا نہیں لگتا لیکن ناسمجھ، جذباتی اور دو نمبر انقلابی ہمارے ہاں بہت زیادہ ہو چکے ہیں جو منافقت چاپلوس ہنر بازی کا سہارا لیکر حقیقی انقلابی معاشرے کے اندر ابہام پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور خاصکر ہر کوئی اپنا مفہوم لیکر انقلاب و انقلابی رویوں کی تشریح کرنے میں لگ جاتا ہے. اداروں کی تقدس کو پامال کرکے ریوڑ کی طرح مفاد پرست لوگوں کو جمع کرکے اپنے اپنے صفتیں کروانا یقیناً انقلابی اعمال نہیں ہیں جب خود غرض، مفاد پرست عناصر عوام کی گردن پر سوار ہوں اور نیچے اترنے کا نام نہ لیں اور اس کو جاگیرداری، سرمایہ داری، معتبری اور سرداری کہتے ہیں۔ جب 95 فیصد عوام یا سیاسی کارکنان 5 فیصد مفاد پرست ٹولہ کو اپنی گردن پر سوار رکھنے کی بجائے نیچے پٹخ دیں تو اس عمل کو انقلاب کہتے ہیں۔ آج وقت کی ضرورت اس پٹخنے کے عمل کو پکار رہا ہے جو شخص اداروں سے زیادہ اپنے آپ کو مقدس سمجھتے ہیں، انقلاب میں اگر مگر کوئی چیز نہیں وہ یا تو ہوتی ہے یا نہیں ہوتی۔ فرد کو بات بات پر ڈر لگتا ہے مگر جلوس ہمیشہ نڈر ہوتا ہے، بہت سے لوگ جب یک ارادہ ہوکر یکجا ہوجائیں تو خوف ان کے نزدیک نہیں آتا کوئی بھی ہمہ گیر انقلاب کسی معاشرے میں اس وقت تک برپا نہیں ہوتا جب تک قوم یا حقیقی کارکنان کے اذہان اس کے لئے پوری طرح تیار نہ ہوں۔

انقلاب جب تک اوراق پر رہے فقط لفظ رہتا ہے اور جب انقلاب عملی زندگی میں وارد ہوتا ہے تو ہر چیز نئے انداز سے نظر آتی ہے۔ چشم بینا نئے افق کی تلاش کے لئے بے چین رہتی ہے.خیالات اوج ثریا کے ہم دوش ہونے لگتے ہیں۔ قلب ونظر میں نئے جہاں سما جاتے ہیں پھر اپنی دنیا آپ پیدا کی جاتی ہے.انقلاب خوشبو کا سفر ہے انسان خود باختگی سے خودیابی کی منزل تک پہنچتا ہے اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرتا ہے خواب گراں سے بیدار ہوکر خواب انقلاب کی تعبیر ڈھونڈتا ہے، انقلاب چشم بینا کا سفر ہے جو تلاش حق میں سرگرداں ہے انقلاب فکروعمل کے پیمانوں کی تبدیلی کا نام ہے۔

کوئی بھی انقلابی موجودہ نظام کی منفی پہلوؤں کو حل کرنے سے نہیں گھبراتا بلکہ وہ تو ہر قسم کی قربانی کے لئے تیار ہوتا ہے لیکن اختلاف اسلوب اور شائستگی سے ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے میں ہے اور رہبریت کی براہِ راست راہنمائی سے بہت سے مسائل حل ہو سکتے ہیں لیکن ایک دوسرے کے متعلق شائستہ زبان اور مہذبانہ تعبیرات ہی ہمیں قریب رکھ سکتی ہیں اور احترام متبادل افہام وتفہیم ایجاد کرنے کا پہلا زینہ ہے جتنا بھی اختلاف نظر ہو اور فکری فاصلے پیدا ہو جائیں تب بھی مشترکہ راہیں تلاش کی جا سکتی ہیں اور شبھات کا ازالہ بھی ہو سکتا ہے لیکن تہمت اور الزام تراشی ،جو تنقید کرے اسے رد انقلابی کہہ کر رستے سے ہٹانا ہمیشہ بند گلی کی طرف لے جانے والے راستے ہیں۔

آیئے کچھ دیر کے لئے سوچتے ہیں کہ ہم بلوچستان کے رواں آزادی کی تحریک میں کس طرح کی تبدیلی اور انقلاب چاہتے ہیں۔سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں یہ ماننا چاہیے کہ یہ بحث اپنی جگہ پر قائم ہے کہ ہمارے ہاں کمزوریاں ہیں خامیاں ہیں غلطیاں ہم سے سرزد ہوئی ہیں ان کو ماننا اور انہیں قبول کرکے نئی راہیں ڈھونڈنا ضروری ہے بجائے پے در پے کوتاہیوں کے، دو قدم پیچھے جا کر نئی راہیں تلاشنا ہمارے رویوں کی تبدیلیوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتے ہیں اور ہم حقیقی انقلابی کہلانے کے مستحق بھی ٹہرتے ہیں تب جا کے ایک طاقت ور ریاست کو شکست دینا ممکن بن جاتا ہے.ہمیں لفاظی انقلابیت کے خول سے نکل کر حقیقی انقلابی بننا ہوگا.


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔