کچھ یادیں اور کچھ باتیں – واحد بخش بلوچ

72

کچھ یادیں اور کچھ باتیں

تحریر: واحد بخش بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

دل چاہتاہے لکھوں، کیا لکھوں؟ تمھاری کون سی باتوں سے شروع کروں، بچپن سے جوانی تک در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، ایک درد لیے تنہا زندگی کا جینا سیکھا،کسی کا پیار شفقت نصیب نہیں لیکن دوسروں پر بوجھ نہیں بنتا تھا ہم تینوں کریم شہزاد سمیر ہم جماعت تھے حالات نے ہمیں الگ کر دیا۔ میں کریم تم سےاور سمیر سے الگ ہو گیا پھر کھبی نہ ملے اس وقت ہم بہت خوش تھے اپنے ہم عمر لڑکوں کیساتھ کھیلتے کودتے تھے، تم شہروں میں رہتے تھے۔ میں پہاڑی علاقے میں رہتا تھا۔ صبح سے شام تک اپنے بکریوں کو چراتے تھے۔ میرے گھر کے قریب سے ایک موٹر سائیکل کا راستہ تھا جہاں سے موٹر سائیکلیں گذرتے تھے، یہ ایک لنک روڈ تھا بلوچستان میں فوجی آپریشنوں کی وجہ سے اکثر موٹر سائیکل روڈوں کی بجائے اسی راستے سے گزرتے تھے اسی راستے سے سرمچار بھی آتے جاتے تھے۔

میں ان کو دیکھا کرتا تھا کہ کیسے چھوٹےچھوٹے بچے بھی شامل ہیں، دیکھنے میں ایسا محسوس ہوتا ہے پڑھے لکھے نوجوان لگتے ہیں بندوق کے ساتھ اور خوبصورت لگتے تھےنہ ہمارے گھر آتے اور نہ ہم سے کوئی چیز طلب کرتے تھے یہی سلسلہ چلتا رہا میں اپنے باپ کے ساتھ بکریاں چراتے ہوئےان سرمچاروں کے راستے سے گزر تا۔

اچانک ایک دن کسی سرمچار کا موٹر سائیکل پنکچر ہوا تو انھوں نے مجھے راستے سے بکریاں چراتے ہوئے گزرتے دیکھا مجھےجیب سے ایک ٹافی نکال کر دیا اور کہا میں تمھارا بھائی ہوں میں حیرانگی سے دیکھتا رہا لیکن مجھے کوئی ڈر محسوس نہیں ہو رہا تھا میرا کوئی بھائی نہیں کم بخت آنکھیں پہچان نہ سکے، لیکن تم نے مجھے نہیں بتایا مجھے معاف کرنا اور دوسرا جو آپ کے ساتھ سائیکل پر سوار تھاوہ میرا دوست اور رشتہ دارسمیر تھا۔ میں اپنے دونوں دوست شہزاد اور سمیر کو نہیں پہچان سکا انھوں نے مجھے نہیں بتایا خدا حافظ کہہ کر چلے گئے۔

بچپن کی یادیں بہت ستاتی رہی کہ تم نے کہا میں تمھیں چھوڑ کر نہیں جاؤنگاتم نے مجھ سے قسم کھائی تھی مرتے دم تک ایک ساتھ رہیں گے وطن کی محبت نے تمھیں چین سے رہنے نہیں دیا اپنے مقصد کے لیے اپنے جان کی قربانی دے کر امر ہو گئے، تیری شہادت کی خبر سن کر یقین ہو گیا تو وفادار نکلے، بے وفائی میں نے کی ہے، تم نے اپنا حق ادا کر دیا اپنے مقصد میں کامیاب رہے۔

سمیر آج کل ہمارے گلی کوچوں میں نظر نہیں آتا، تیری شہادت کے بعد میں سمیر سے کھبی نہیں ملا نہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے آتے تھے، نہ ہمارے گلیوں اور ندیوں میں گھومنے پھرنے آتے۔ وہ شادی کرنے اپنے شہر گیا ہوا تھا ایک دن اخبار میں ان کی تصویر دیکھی ان کو درندہ صفت شکاریوں نے شکار کرکے ہم سے الگ کر دیا۔ شادی کے کپڑے اس کی ماں نے میرے لئے بھیج دیئے، میرے بیٹے کے شادی کے کپڑے کریم تم پہن لو ان کے فکر و نظریئے پرقائم رہو آپ اپنی مقصد میں کامیاب رہو گےایک دوست شہید ہوا دوسرا زندانوں میں بند اور تم پر بھاری ذمہ داری پڑتی ہے کہ اپنے شہیدوں کے کاروان کو اپنی منزل تک پہنچاؤ۔

شہزاد جان کے لہو سے انقلاب آیا آزادی کا جذبہ پیدا ہو گیا سمیر زندانوں میں دشمنوں کو اپنے مقصد سے آگاہ کرتا رہا، میں سمیر کی راہوں کو دیکھتا رہا لیکن وہ نہیں آیا میں نے اپنا رابطہ سمیر کی ماں سے اور شہزاد کے رشتہ داروں سے بند کر دیا۔ وہ شہزاد اور سمیر زمیں کے حقیقی فرزند نکلے میں شہیدوں کے لہو اور ٹارچر سیلوں میں بند اسیروں سےاپنی راہیں الگ کر گیا شہزاد شہید اور سمیر زندانوں میں بند اور میں سرنڈرکر گیا، دشمن کی بوٹ پالیشی سے لے کر اپنے بھائیوں کی مخبری کرنے تک اپنی ضمیر کا سودا کر گیا نہ کوئی عزت رہی اور نہ محبت ہر روز گالیاں بس۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔