کوئٹہ: لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج جاری

35

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کو 3687دن مکمل ہوگئے۔ سندھ کے شہر حیدر آباد سے سیاسی و سماجی رہنماؤں نے کیمپ کا دورہ کیا۔

وی بی ایم پی کے وائس چیئرمین ماما قدیر نے اس موقعے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک میں انصاف نہ ہو وہ ملک نہیں جنگل ہوتا ہے، بلوچستان، سندھ اور خیبر پختونخواہ میں ظلم و جبر اور تشدد بند کیا جائے پوری دنیا اس بات کی گواہ ہے کہ جہاں بھی ظلم و ستم ہو وہاں انقلاب آتا ہے اور انقلاب آنے کی وجہ ظلم و زیادتی ہے۔ بلوچستان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے، حکمران نے بھی کہنا شروع کیا ہے کہ بلوچستان کے عوام کے ساتھ ظلم ہورہا ہے، بلوچستان میں 2001سے آج تک فوجی آپریشن اپنے تسلسل کے ساتھ جاری ہے، سیاسی کارکنوں کو لاپتہ کرکے انہیں غیر انسانی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد ان کی گولیں سے چھلنی لاشیں ویرانوں میں پھینک دی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال جب امریکی کانگریس میں بلوچستان مین انسانی حقوق کے پامالیوں کے حوالے سے قرار داد پیش کی گئی تو پورے پاکستان کے سایسی جماعتیں اور حکمران اس کی مخالفت کررہے تھے یہاں تک بلوچستان میں مسخ شدہ لاشوں، لوگوں کو لاپتہ کرنے اور انسانی حقوق پر خاموش رہنے والا پاکستان کا میڈیا بھی بلوچستان کے ایشو پر گرما گرم بحث مباحثہ کررہا تھا، وہی میڈیا جوکہ کھیل کی خبروں پر زیادہ توجہ دیتی ہے۔

ماما قدیر نے کہا کہ اس وقت امریکی کانگریس نے بلوچستان اور بلوچ قوم کے درد کو محسوس کیا لیکن اس حوالے سے پاکستان کے اداروں اور میڈیا کی جانب سے جو تاثر دیا جارہا تھا اس میں کوئی منطق نہیں تھی، کسی بھی بیرونی قوت اور ملک کو اقوام متحدہ کے قواتین کے مطابق یہ حق ہے کہ وہ جہاں انسانی حقوق کی پامالی ہورہی ہو تو بغیر کسی قرار داد کے مداخلت کرے لہٰذا ہم نے مسلسل عالمی برادری، یورپی یونین، امریکہ اور اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ براہ راست بلوچستان میں مداخلت کرے۔