کوئٹہ: لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج جاری

40

بلوچ قوم کے پرامن جدوجہد کو دبانے یا ختم کرنے کے لیے پاکستانی حکومت نے مختلف حربے اور ہتھکنڈے استعمال کیے، ترقی و خوشحالی کا نعرہ لگایا، بلوچستان پیکج کا شور بلند کیا لیکن یہ تمام طریقے ناکام ہوئے اور پھر پرامن جدوجہد یا احتجاج کرنے والوں اور ان کے حمایتی سیاسی کارکنوں کو اٹھاکر ان کی مسخ شدہ لاشیں گلیوں، ویرانوں اور شاہراؤں پر پھینکنا شروع کی گئی تاکہ بلوچستان میں خوف کا ماحول پیدا ہو۔ ان خیالات کا اظہار وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے کوئٹہ میں قائم احتجاجی کیمپ میں آئے وفود سے ملاقات کے دوران کیا۔

کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاج کو 3686 دن مکمل ہوگئے۔ وکلاء برادری اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کرکے لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کی۔

ایک دہائی سے زائد عرصے سے بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاج کرنے والے ماما قدیر بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں خوف کا ماحول اس لیے پھیلایا گیا تاکہ لاپتہ افراد کے لواحقین اپنے جائز مطالبات سے دستبردار ہوجائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی جہادی اور غیرت مند میڈیا خاموش رہ کر پنجاب، سندھ، خیبر پختونخواہ بلکہ پوری دنیا کے عوام کو بلوچستان کے حقیقی صورت حال سے لاتعلق ہوکر دنیا کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

ماما قدیر کا مزید کہنا تھا کہ بلوچستان سے 47 ہزار بلوچ لاپتہ ہیں، ہمارے چیخوں اور فریاد کے بدلے مسخ شدہ لاشیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ ہر بات عیاں ہے، پاکستان کے حکمران ہمیشہ جھوٹ بولتے رہے ہیں، ریاستی ادارے یہ بھی کہتے ہیں کہ بلوچستان کے کسی حصے میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہورہی لیکن یہ ان کی روایت رہی ہے کہ کسی مہذب ریاست کی طرح حقائق کو سامنے نہیں لایا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اندرونی معاملات کے نام پر بلوچستان کے ساتھ ہمدردی جتانے کی کوشش کی جارہی ہے تو یہ سب اس وقت کہا تھے جب بلوچستان میں ظلم و جبر ہورہا تھا، ہمارے لوگوں کو لاپتہ کرکے ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینکی جارہی تھی۔