چشم بر راہ مجہولیت – برزکوہی

167

چشم بر راہ مجہولیت

برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

کسی گاؤں میں ایک بزرگ رہتا تھا، اس کو موسم کے مدو وجزر کے بارے میں کافی تجربہ تھا، لوگ بڑی تعداد میں اس سے پوچھنے آتے تھے کہ اس سال موسم کیسا ہوگا۔ سردی ہوگی، گرمی، قحط سالی، بارش و سیلاب، برفباری یا ہریالی ہوگی۔ بزرگ جو کہتا تھا ویسا ہی ہوتا تھا۔ جب بزرگ دنیا سے رخصت ہوا تو لوگ پھر اس کے بیٹے کے پاس آنے لگے، اس سے موسم کے بارے میں پوچھتے تھے، مگر بیٹے کو اس بارے میں کوئی علم و جانکاری نہیں تھی لیکن لوگ بضد تھے کہ وہ اپنے اس وراثتی علم کے ذریعے انکی مدد کرے اور بار بار آنے اور پوچھنے سے آخر کار بیٹا تنگ آکر کہنے لگا کہ اس دفعہ سردی ہوگی، چند دنوں تک لوگ آتے رہے اور پوچھتے رہے اور بزرگ کا بیٹا کہتا رہا بہت بہت سردی ہوگی، پھر آکر پوچھتے پھر کہتا بہت بہت سردی ہوگی، اتنی سردی کہ ایسا زندگی میں پہلے کبھی نہیں آیا ہے۔ تو ایک دن اس کے بزرگ والد کے کسی دوست نے ان سے کہا کہ بیٹا آپکے والد کو ستاروں کا علم تھا، تجربہ تھا پھر جاکر موسم کے بارے میں بتاتا تھا، آپ کس بنیاد پر لوگوں کو بتا رہے ہو کہ اس دفعہ بہت سردی ہوگی؟ تو بزرگ کا بیٹا پراعتماد انداز میں کہنے لگا کہ میں تو لوگوں کو بہت زیادہ لکڑیاں جمع کرکے دیکھ کر کہہ رہا ہوں کہ اس بار بہت زیادہ سردی ہوگی۔ اسکے والد کے دوست نے کہا بیٹا لوگ تو آپکے کہنے پر لکڑیاں جمع کررہے ہیں اور آپ لوگوں کو لکڑیاں جمع کرکے دیکھ کر سردی کی پیشنگوئی کررہے ہو۔ باقی صحیح علم نہ آپ کے پاس ہے اور نہ ہی ان لوگوں کے پاس ہے۔

دنیا کی سیاست کی تغیر و تبدیلوں، اونچ نیچ، پیچ و تاب اور کشکمش کے تناظر میں کبھی کبھار ایسا محسوس ہوتا ہے ہمارا نقطہ نظر، تجزیات اور تبصرے بھی بزگ کے بیٹے اور لوگوں کی لکڑیاں جمع کرنے کے مثال پر صادق آتی ہے۔

ایک پرانے مثال کے مصداق لومڑی گائے کے پیچھے بھاگتا رہتا ہے کہ کب اس کے لٹکتے سامان گر جائینگے، اب ہمارے لیئے کبھی ایران گائے کا سامان تو کبھی کشمیر، ہم انتظار میں کہ اب گرینگے کہ اب گرے۔ ایران پر امریکہ یا دوسرے کا حملہ ہوگا نہیں ہوگا، کشمیر کے ایشو پر بھارت پاکستان پر حملہ کریگا یا نہیں کریگا، یہ الگ بحث ہے۔

ہم اکثر دھمکیوں، بیانوں، رپورٹوں، معاہدوں، حمایت و مخالفت وغیرو کے بل بوتے پر اک دم رائے دینے کے بجائے حتمی فیصلہ دیتے ہیں۔ کیا جو چیزیں ظاہری ہیں، جو میڈیا کی زینت بنتے ہیں، واقعی بیک چینل ڈپلومیسی میں من و عن وہی ہوتا ہے یا اصل حقائق اس کے برعکس ہیں؟ 2012 میں امریکی کانگریس میں کانگریس مین روہرا بیکر بلوچستان کے حق میں بل جمع کرتا ہے، ہمارا فیصلہ ہوتا ہے امریکہ اب بلوچ قوم کا دوست بن کر بلوچستان کو آزاد کردیگا، جب گذشتہ مہینے امریکہ بلوچ قومی آزادی کے لیئے برسرپیکار مسلح تنظیم بی ایل اے کو کالعدم قرار دیتا ہے تو امریکہ بلوچستان کی آزادی نہیں چاہتا بلکہ بلوچوں کا دشمن بن گیا۔ امریکہ کب دوست تھا کب دشمن بن گیا اور اب کیا ہے اور آئندہ کیا ہوگا؟ کیا کسی کو اس بارے میں مکمل جانکاری اور ادراک ہے؟

اسی طرح امریکہ اور ایران پاکستان اور بھارت کے درمیان اندرونی طور پر کیا چل رہا ہے؟ کیا اس بارے میں صحیح جانکاری ہے؟ یا بس انتظار کرو امریکہ ایران پر حملہ کریگا، پھر ہمیں آزادی ملے گی یا بھارت پاکستان پر حملہ کریگا، ہمیں آزادی ملے گی۔ بالکل ایسے موقعوں پر مثبت مواقع ضرور ملیں گے، دنیا کے دیگر تحریکوں میں ایسا ہوا ہے، مگر انتظار کرنے، صرف پیر پر پیر رکھ کر انتظار میں آرام سے بیٹھنا؟ مجھے دنیا میں ایسی ایک بھی مثال آج تک نہیں مل رہی ہے کہ تیاری کے بغیر، صرف اور صرف انتظار در انتظار پر تکیہ کرنے سے کوئی آزاد ہوا ہو۔

اگر ایسا ممکن ہوتا تو 100سال سے بلوچ قوم غلام نہیں ہوتا، ان 150سالوں میں 100سے زیادہ مواقع بلوچ قوم کو میسر آئے لیکن بلوچ قوم کیوں آزاد نہیں ہوا؟ کیونکہ قومی آزادی صرف مثبت مواقع سے نہیں بلکہ تیاری اور قربانی کے ساتھ مثبت مواقع سے فائدہ اٹھانے سے قوموں کو نصیب میں ہوتا ہے۔ اگر کوئی کہتا ہے کہ بحیثیت بلوچ ہم قربانی دے چکے ہیں، دے رہے ہیں یا پھر ہم تیار ہیں، تیاری کرچکے ہیں، پھر کیا قومی آزادی یا ایک قومی ریاست کی تشکیل کے کماحقہ تیاری اور قربانی کافی ہے اور خود قومی تیاری اور قومی قربانی کا معیار اور سطح کیا ہے؟

میں تو کہتا ہوں، صرف دنیا کے حالات پر سطحی نظر رکھ کر آرام و سکون سے بیٹھ کر صرف انتظار کرنا آزادی جیسے عظیم نعمت کے لیئے خود ایک قسم کا خطرناک تھکاوٹ اور سرنڈر ہے، اس کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

میرا ایمان اور سوفیصد پختہ یقین ہے، شعوری فیصلہ ہے، جس پر زندگی بھر میں قائم تھا، اور قاہم رہونگا کہ صرف آرام اور سکون سے بیٹھ کر انتظار کرنے سے امریکہ، اسرائیل، بھارت و یورپی یونین وغیرہ کیا آپ کو خدا بھی اس طرح آزادی نہیں دلواسکتا ہے۔

اگر مجھ سمیت کوئی بھی ایسا سوچ پیش کرتا ہے یا پھیلا رہا ہے تو وہ صرف اور صرف بلوچ قوم اور خاص طور پر بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کرکے آرام و سکون، آزاد خیالی اور بے حسی کا نشہ آور سلو پوائزن لگا کر تحریک آزادی سے بیگانہ اور دور کرنے کی کوشش کررہا ہے، خاص طور پر ایسے حربے اور سازش ہمیں سوویت یونین کے عروج کے وقت بہت ملے اور نتیجہ صرف مایوسی اور تحریک سے بیگانگی پر اختتام پذیر ہوا۔

ویسے بھی آرام و سکون اور چین سے بیٹھ کر قومی آزادی کے لیئے انتظار کرنا، قوم اور خاص طور جہدکاروں کی تخلیقی صلاحیتوں، فکر و نظریئے، احساسات اور بہادری پر خنجر سے وار کرنے کے مترادف ہے۔ رفتہ رفتہ وہ جہدکار نہیں بلکہ بے حس، خوف زدہ، مایوس، الجھن کا شکار فرد ہونگے اور تاریخ میں ان کا نام و نشان ہی نہیں ہوگا۔

ماوزے تنگ کے قریب اگر مکمل مزاحمت نہیں ہوگی، تو جزوی مزاحمت دشمن کے خلاف ضرور ہو، اگر کوئی مزاحمت نہیں ہوگی تو قوم کے پاس بربادی کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔

ماضی کو چھوڑ کر پچھلے 19 برسوں سے بلوچ قومی آزادی کی جنگ اور بے شمار قربانیوں کو مدنظر رکھ کر سوچیں، اگر آج ہم انتظار و عالمی حالات و واقعات پر سطحی تجزیہ کرکے صرف انتظار پر تکیہ کریں تو پچھلے 19 برسوں کی قومی جنگ اور قربانیوں پر اپنے ہاتھوں سے ہی پانی پھیرنے کی مترادف ہوگا، پھر یہ شہداء کے لہو اور اسیروں کی اذیت ناک زندگیوں کے ساتھ کھلی طور پر مذاق اور دغا بازی ہوگی۔ پھر ہم نے ان شہداء اور اسیروں کو کیوں یہ پاٹ نہیں پڑھایا کہ قربانی کے بجائے انتظار کرو قومی آزادی ہمیں ملے گی۔

اگر شہداء کا خون دوستوں کی محنت و مشقت اور اسیروں کی اذیت سے فائدہ اٹھاکر بطور ان کو سیڑھی بناکر، آج ہم جہاں پہنچ کر اب آرام و سکون، انتظار اور بیوروکریٹ سوچ اپنا کر دنیا کے حالات پر تکیہ کریں تو یہ تحریک آزادی کی ساتھ بدترین غداری اور دغابازی ہوگی۔ اور اس سے قومی آزادی اور قومی ریاست کی تشکیل کسی بھی صورت ممکن نہیں، پھر قوم اور جہدکاروں کو دھوکا دینے اور سبز باغ دکھانے کے بجائے، جدوجہد، مسلسل جدوجہد اور قربانیوں کے تسلسل کے ساتھ قومی جنگ میں شدت پیدا کرکے اسے منظم و موثر کرنا وقت و حالات کا تقاضہ ہے، اس کے علاوہ بلوچ کے پاس نہ پہلے کچھ تھا اور نا اب کچھ ہے، اگر واقعی ہم قومی آزادی، قومی ریاست کی بحالی کے حقیقی علمبردار اور جہدکار ہیں تو، وگرنہ وقت پاسی اور دعوے کی حد تک پھر سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔