پاکستان کے ہوتے ہوئے دنیا میں امن ناممکن ہے – ڈاکٹر اللہ نظر

325

بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کی جانب سے بلوچستان میں بربریت اور بلوچ نسل کشی کا فرعونی عمل عشروں سے نہ صرف جاری ہے بلکہ اس میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے تاریخ کا بدترین انسانی حقوق کی پامالیاں بلوچستان میں اپنے عروج پر ہیں آج ہمارے بچے ماں بہن اور بوڑھے پاکستان کی سفاکانہ پالیسیوں کا بھینٹ چڑھ رہے ہیں۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ پاکستان نے بلوچ قوم کے ساتھ تمام محکوم اور مظلوم قوموں پشتون سندھی مہاجر اور دوسرے اقوام پر درندگی کی تمام حدیں پار کی ہیں لوگوں کو اُٹھا کر جبری لاپتہ کرنا ٹارچر سیلوں میں دوران تشدد شہیدکرنا اور ان شہدا ء کی مسخ شدہ لاشیں پھینکنا پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے روز کا معمول بن چکا ہے بلوچستان میں ایسا کوئی خاندان نہیں ہے جو ان مظالم اور بربریت سے متاثر نہ ہو۔

ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی طرف سے واویلا منافقت کی انتہا ہے پاکستان کس منہ سے دوسری قومیتوں کا نمائندہ بن سکتا ہے جس کے اپنے ہاتھ لاکھوں بلوچوں پشتون اور سندھیوں کے لہوسے رنگے ہوئے ہیں یہی پاکستان دنیا کی آنکھوں کے سامنے تیس لاکھ بنگالی قتل کرچکا ہے پاکستان کی درندہ فوج ہزاروں بنگالی ماں بہنوں کی عصمت دری کا مرتکب ہوچکا ہے کشمیر بارے قانونی تبدیلیوں کے بعد پاکستانی وزیر اعظم نے جس طرح پلوامہ واقعہ کو دُہرانے کی بات کی یہ واضح اعتراف تھا کہ خطے میں تمام تر دہشت گردانہ واقعات کا مرکز و منبع پاکستان ہی ہے مجھے افسوس اس بات کا ہوا کہ اپنے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر دہشت گردی کے واضح دھمکی کے باوجود دنیا نے اس کا نوٹس نہیں لیا اس سے قبل بھی پاکستان کے اعلیٰ سطحی اختیاردار کئی دفعہ ایسے اعتراف کرچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کو اپنے زیرنگوں رکھنے کے لئے پاکستان کی مداخلت اورچالیس سالہ خانہ جنگی نے اس ملک کو تباہ و بربا د کردیا ہے اب بھی پاکستان کی مداخلت اور افغانستان کو کمزورکرنے کی پالیسی جاری ہے حالیہ مذاکراتی سلسلے میں کشمیر کی آڑ لے کر پاکستانی حکام اعلانیہ کہہ رہے کہ افغان مذاکراتی عمل متاثر ہوسکتاہے اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستا ن اس عمل کو سبوتاژ کرنے کا تہیہ کرچکا ہے یہ پاکستان کی دہشت گردی مذہبی انتہاپسندی اور پراکسیوں کے ذریعے بلیک میل کرنے کی مسلسل پالیسی کاغماز ہے پاکستان اب بھی اس پر قائم ہے-

انہوں نے کہا بلوچ سیاسی قیادت ہمیشہ دنیا پر واضح کرتا چلا آرہا ہے کہ دنیا اور بالخصوص خطے میں دہشت گردی کا مرکز پاکستان ہے اور پاکستان کے وجود کے ساتھ دنیا اور خطے میں کبھی بھی امن وسلامتی کا خواب شرمندہ تعبیرنہیں ہو سکتا اس بات کو دنیا جتنی جلدی سمجھ سکتا ہے، ایک بہتر دنیا کی تشکیل کے لئے اتنا ہی بہتر اور سود مند ہے۔

ڈاکٹر اللہ نذر بلوچ نے کہا کہ کشمیر میں پاکستان کی براہ راست مداخلت اور سرحد پار سے دراندازی کوئی راز نہیں ہے پاکستانی افواج کا ہیڈکوارٹر جی ایچ کیو دنیا میں دہشت گردی کے ایکسپورٹ کا سب سے بڑا مرکز ہے دہشت گردی کی افزائش دہشت گردوں کی ٹریننگ اور بھارت افغانستان سمیت دنیا بھر میں دہشت گردی پھیلانا پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اورپاکستان اس سے کبھی بھی دست بردار نہیں ہوگا۔

ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ نے مزید کہا ایک بہتر دنیا کی طرف بڑھنے کے لئے اب وقت آن پہنچا ہے کہ دنیا بلوچ قومی تحریک کی حمایت کا اعلان کرے اور بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا نوٹس لے کر پاکستان کو انصاف کے کٹہرے میں لاکھڑا کرے اگر بلوچستان میں پاکستان کی درندگی و بربریت کا غیرجانبدارانہ تحقیقات کرکے انہیں سامنا لایا گیا تو انسانیت کی روح کانپ اٹھے گی اور ساری دنیا تاریخ میں ہونے والے تمام مظالم کو بھول جائے گی۔