وزیر تعلیم بلوچستان کے نام، ایک پیغام – نعیم بلوچ

40

وزیر تعلیم بلوچستان کے نام، ایک پیغام

تحریر: نعیم بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

جناب عالی!
آپ نے جعفرآباد کے کچھ ایسے ہیڈ ماسٹروں کو بھی معطل کیا ہے، جن کے اسکولوں کو پورے نصیرآباد میں رول ماڈل بنایا جاسکتا ہے۔ اگر واقعی آپ ایماندار ہو تو آپ لوگ جعفرآباد کے گھوسٹ اساتذہ کے خلاف بھی ایکشن لیں، جن کو اپنے اسکولوں تک کا پتہ نہیں۔ اگر آپ واقعی ایماندار ہوتو جعفرآباد کے ان اسکولوں کو کھلوا لیں، جن کو بھوتاروں اور جاگیرداروں نے یا تو بیٹھکوں میں تبدیل کیا ہے یا ان اسکولوں میں بھیڑ بکریاں بندھی ہوئی ہیں۔

کیا آپکے ہاتھ کانپتے ہیں انہیں معطل کرنے سے، جن لوگوں پر حکمومتی نمائندوں کا ہاتھ ہوتا ہے؟ اس طرح تو جعفرآباد کے بہت سے دوسرے اسکول بھی تباہ ہیں تو انکے ہیڈ ماسٹروں کا اس لسٹ میں نام نظر نہیں آیا؟

جناب! آپ نے 15 کی تعداد میں جعفرآباد کے ان تعلیم دوست ہیڈ ماسٹروں کو بھی معطل کیا ہے شاید جنکے اسکولوں کی پہلے کی اور ان ہیڈ ماسٹرز کے آنے کے بعد کی حالت دیکھینگے تو آپ کو اپنے معطلی کے جاری کردہ نوٹیفکیش پر بھی افسوس ہوگا۔

محترم! محکمہ تعلیم کے پالیسی بنانے والوں اور وہاں بیٹھے عقل مندوں، آپکو اتنا تو معلوم ہو کہ جعفرآباد کے 15 ہیڈ ماسٹرز میں ایسے بھی کچھ ہیڈمسٹریس اور ہیڈ ماسٹرز ہیں جن کو کلسٹر فنڈ تک نہیں ملا، نہ ہی ان کے پاس ڈی ڈی پاور ہیں تو انہوں نے کس طرح کلسٹر فنڈز میں کرپشن کی ہوگی؟

جناب! آپ لوگوں سے گذارش ہے پہلے پالیسی میکر اور وہاں بیٹھے فیصلے کرنے والے آفیسروں کو کچھ سکھائیں نہ کہ تعلیم دوست ہیڈ ماسٹرز کو معطل کر کے انہیں مایوس کریں۔ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے یا تو آپ نہیں چاہتے ہیں کہ کوئی سربراہ اپنے ادارے سے مخلص ہو، اور جعفرآباد کے بچے اس ادارے سے فائدہ اٹھائیں۔

جناب! آپکی ایمانداری کا تو اس وقت پتہ چل رہا تھا جب آپ لوگ مختلف طریقوں سے ایجوکیشن کی پوسٹوں کو بغیر ٹیسٹ و انٹرویو کے اپنے آشیربادی لوگوں کو اٹھانے کے اشتہارات دے رہے تھے، شکر ہے آپ کے اس اقدام کے خلاف بی ایس او پجار کے مرکزی قائدین نے ہائی کورٹ بلوچستان میں کیس ڈال دیا اور پوسٹیں بلوچستان پبلک سروس کمیشن کے ذریعے شائع کرنے کا حکم جاری ہوا۔

آپ کی دانشوری اور عقل مندی تو اسی وقت نظر آرہی تھی، جب محکمہ تعلیم میں ریٹائرڈ اساتذہ کو پھر سے کنٹریکٹ پر بھرتی کی جانے کا آپ لوگوں نے نوٹیفکشن جاری کیا تھا، پھر بھی باشعور نوجوانوں نے آواز بلند کرکے اسے بھی مسترد کردیا۔

میرا چھوٹا سا پیغام اگر آپ تک پہنچ جائے تو جاب اتنی سی گذارش کرونگا، پہلے ہی ہمارے تعلیمی ادارے تباہ ہیں لیکن جو چند لوگ ان اداروں سے مخلص ہیں انہیں مایوس نہ کیا جائے اس اقدام پر نظر ثانی کی جائے اور تحقیقات کریں، جو ہیڈ ماسٹرز کرپشن میں ملوث نہیں انہیں فوری طورپر بحال کیا جائے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔