مچھلی اپنے سر سے گل چکی ہے؟ – منظور بلوچ

254

مچھلی اپنے سر سے گل چکی ہے 

تحریر  : منظور بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

گذشتہ  روز بلوچستان نیشنل پارٹی کا ایک بیان میری نظروں سے گزرا، جس میں کہا گیا تھا کہ اسلام آباد، گوادر کو بلوچستان سے کاٹ کر ایک مخصوص زون بنانا چاہتا ہے، اویہ بات بھی کہی گئی کہ بلوچستان کو ایک بار پھر ون یونٹ کی جانب لے جایا جارہا ہے، جبکہ بی این پی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اسکی اجازت قطعا نہیں دے گی۔

یقینا گوادر ایک اہم اور بین الاقومی ایشو بن چکا ہے، بی این پی نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے، انہیں بی این پی کی ذہنی اختراع بھی نہیں کہا جا سکتا ہے، جس قسم کی صورتحال بلوچستان میں جاری ہے، اس حوالے سے سبھی کچھ کا امکان ہے، لیکن جو بات سوچنے والی ہے وہ یہ ہے کہ کیا بی این پی اس پوزیشن میں ہے، کہ وہ اسلام آباد کو اسکی اجازت نہ دے، یا یہ سمجھنا کہ اسلام آباد جو کچھ کرے گا، وہ بی این پی سے پوچھ کر کرے گا؟

بلوچستان میں گذشتہ دو عشروں سے جو کھیل کھیلا جا رہاہے، جس سے بی این پی براہ راست متاثر بھی ہوئی ہے، آگے چل کر بھی ہوگی، کیا وفاقی حکومت کے اتحادی ہونے کے ناطے سے آج تک بلوچستان سے متعلق کسی بھی پالیسی میں کیا کہیں بھی بی این پی سے اس کی رائے پوچھی گئی ہے؟ بی این پی بلوچستان سے افغان مہاجرین کا مکمل انخلاء چاہتی ہے، جبکہ اس کے برعکس وزیر اعظم عمران خان افغان مہاجرین کو پاکستانی شہریت دینا چاہتے ہیں۔

بی این پی سے لاکھ اختلاف سہی، لیکن موجودہ صورتحال میں بی این پی بلوچستان کے حوالے سے ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے، کیا بحیثیت اسٹیک ہولڈر کسی بھی موقع پر بی این پی یا اسکی قیادت کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے، تو اسلام آباد کو مورد الزام ٹھہرانے سے قبل ہمیں اپنی داخلی صورت حال کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، آخر وہ کیا اسباب ہیں کہ وفاقی حکومت، بی این پی کی بیساکھیوں پر کھڑی ہونے کے باوجود اسکو پالیسی سازی تو کجا، کسی اہم ایشو پر پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتی ہے۔

دو ہزار نو تک پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم ایشو بلوچستان تھا، اسلام آباد کے اصل حکمرانوں سے لیکر اینکر پرسنز تک پارٹی بن کر بلوچ سیاسی قائدین سے مذاکرات کی درخواست کرتے تھے، ٹھیک اسی زمانے میں اس وقت کی وفاقی حکومت نے آغاز حقوق بلوچستان پیکیج کا اعلان کیا، گو کہ کسی بلوچ سیاسی رہنما یا پارٹی نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا، لیکن آج وہی پیکیج نہ جانے کس ردی کے ٹوکرے میں پڑا ہے، یا اسلام آباد کے کیبنٹ ڈویژن میں پڑا منوں من مٹی کے نیچے دفن ہو چکا ہے، آخر ایسی کیا بات ہوئی کہ 2009 یا اس کے بعد بھی ایک دو سال تک بلوچ ایشو، اسلام آباد کی نیندیں اڑانے کا باعث تھا، لیکن دھیرے دھیرے بلوچ ایشو گھٹتا چلا گیا، اور اب تو وہ اسلام آباد کے حافظے سے تقریبا محو ہو چکا ہے، بلوچ قوم نے کیا اس بے توقیری پر تشویش ظاہر کی گئی، مونگ پھلی کے دانے جتنا اس پیکیج پر ہر سال کچھ نہ کچھ عمل درآمد ہونا تھا، کبھی کسی بلوچ سیاسی رہنما ہونے کے دعوے دار نے اس پر لب کشائی کی، کوئی سوال اٹھایا گیا؟
کیا کبھی بلوچ سیاست کے دعوے داروں نے اس کمزوری کو محسوس کیا، جب اسلام آباد بلوچستان کو مونگ پھلی کے دانے کا بھی حقدار نہیں سمجھتا، وہاں یہ کہنا کہ ہم فلاں عمل کی اجازت نہیں دیں گے، کیا اس دھمکی نما لہجے کی کوئی اہمیت یا کوئی تک بنتی ہے۔؟

فرض کرتے ہیں کہ کل اسلام آباد یہ اعلان کرتا ہے کہ آج سے گوادر عملا اور آئینی اور قانونی طور پر اسلام آباد کا حصہ ہوگا، تو کیا کوئی بلوچ پارلیمانی پارٹی، کوئی سردار، نواب اس کی راہ میں مزاحم ہوسکے گا، بلکہ اکثر تو اسکو ویلکم کریں گے، اسے بلوچستان اور بلوچوں کے تابناک مستقبل قرار دیں گے، اور یوں یار لوگوں کا روزی روٹی کا سلسلہ چلتا رہے گا۔

اس میں شک نہیں کہ بی این پی کے پاس موثر اسٹریٹ پاور موجود ہے، اس وقت تک بی این پی کو اسلام آباد جو تھوڑی بہت وقعت حاصل ہے، اسکی وجہ بھی یہی سٹریٹ پاور اور اس کی پشت پر بلوچ عوام کی بیش بہا قربانیاں ہیں، کوئی مانے یا نہ مانے یہ قربانیاں جسکی وجہ سے بلوچستان کا آدھا رقبہ سرخ ہے، کی وجہ سے ڈاکٹر مالک بلوچ کو اقلیت میں ہونے کے باوجود وزارت اعلی دی گئی، حاصل بزنجو، محمود خان اچکزئی کے بغیر اسلام آباد کی مقتدرہ اپنا نوالہ تک نہیں توڑتی تھی، آج نیشنل پارٹی ہمارے سامنے ہے، اسلام آباد کی خدمت کرتے کرتے وہ بلوچوں کو بھول گئی، بی این وائی ایم جب بنی تھی، بعد ازاں اسکو بی این ایم بنایا گیا، اسکے نیم انقلابی منشور کو بھی نیشنل پارٹی نے بھلا دیا، نیشنل پارٹی نےبلوچ عوام میں اپنی ساکھ، حتی کہ اپنے لیڈروں کی جانوں تک کو دائو پر لگا دیا، آج اس کی حیثیت ایک ڈسپوزیبل کموڈیٹی کی بن چکی ہے، حاصل نے سینٹ الیکشن پر غصہ میں آکر جو بات کی، آج اسکا نتیجہ یہ ہے کہ انکو عدالت طلبی کی بات کی جارہی ہے، شیخ رشید جیسا شخص بھی حاصل کے بارے میں کہہ رہا ہے کہ اسکی اوقات کیا ہے، کیا پدی، کیا پدی کا شوربہ؟ کیا برسوں کی خدمت، وفاداری کا یہی نتیجہ نکلنا تھا، جی ہاں، مشہور مگر تلخ مقولہ ہے کہ جو اپنی قوم کا وفادار نہیں ہوتا، وہ کسی اور کا کیا وفادار ہوگا؟ وہ تمام بلوچ جو گذشتہ دو عشروں تک ایک ” راہداری” اور چند لیٹر پٹرول کی خاطر برادر کشی کرتے رہے، قبرستانوں کو آباد کرتے رہے، آج کہاں ہیں، ان بے چاروں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں، جسکی وجہ سے آج وہ نیم نفسیاتی پاگل بن چکے ہیں، اسلام آباد ان کے ساتھ جو کررہا ہے، ٹھیک ہی تو کر رہا ہے، مستقبل میں جو ذلت آمیزی ہوگی، وہ نوشتہ دیوار ہے، اور وہ وقت بھی دور نہیں کہ بہت ساروں کو کوئے یار میں مرنے کے لیئے دو گز زمین بھی نہیں ملے گی، اور انکی اپنی اولاد انکی قبروں پر تھوکے گی، اور تاریخ انکو میر جعفر، میر صادق کے القابات سے یاد رکھے گی، جس طرح آج ملا مزار کی سرداروں کی بگھی کھینچنے والی شاعری ہر
بچے کے زبان پر ہے، کل یہ بے چارے بھی اسی طرح ” نیک نامی” سے یاد رکھے جائیں گے۔

جہان تک بی این پی کا حالیہ موقف کا تعلق ہے، یہ ایک خوبصورت، دلوں کو گرمانے والی، بلوچوں کی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہے، اس سے آگے، صرف اور صرف سوالیہ نشانات ہیں۔

اول تو یہ کہ بی این پی کے پاس وہ کونسے ذرائع ہیں، جنکی بنا پر وہ گوادر کو مخصوص زون بنانے سے روک سکے، اگر ایسا ہوتا ہے، تو بی این پی کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟ اسکی حکمت عملی کیا ہوگی؟

ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جب اختر مینگل کو گرفتار کیا گیا، انکے چہرے پر کالی پٹی ڈالی گئی، انکو ایک پنجرے میں قید رکھا گیا؟ اس وقت ان سے محبت کرنے والے کارکنوں کی بجائے احتجاج کرنے والے قائدین کی کیا تعداد تھی؟ جو آج کل ٹھیکوں کے حصول میں سب سے آگے ہیں،جب ذوالفقار علی بھٹو گرفتار ہوئے، اور نصرت بھٹو ان سے ملنے گئی تو بھٹو نے بڑے اشتیاق سے اپنی گرفتاری پر پارٹی کے احتجاج کا پوچھا، تو نصرت بھٹو نے کہا کہ آپ کونسی بالشویک پارٹی چھوڑ آئے تھے، جو آپ کے لیئے احتجاج ہوتا۔

صرف بی این پی نہیں پوری بلوچ قوم کو اس بات پر سوچنا چائیے، بیورو کریسی سے لیکر نام نہاد دانشور، شاعر، ادیب اور پروفیسر صاحبان کو اس چیلنج اور اس کے جواب کے بارے میں سوچنا چائیے، لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ آج تک ہم نے اپنی داخلی کمزوریوں پر سوچنے کی ضرورت محسوس نہیں کی، بلوچستان وہ خطہ ارض ہے، جسے ہر قسم کے ٹھگوں نے لوٹا، اور اس کو دھوکہ دیتے رہے، آج بھی بہت سارے ٹھگ اپنا دھندہ کر رہے ہیں، اور المیہ یہ ہے کہ قوم ان کے لیئے تالیاں بجا رہی ہے، کسی قوم کی بقا کے لیئے کیریکٹر کا ہونا ضروری ہے، لیکن کیریکٹر سے عاری اور کریڈٹ کے پجاری آج بھی بلوچستان کو دھوکہ دے رہے ہیں، اس کے علاوہ ایک قوم کی بقا کے لیئے علم، معیشت اور طاقت کا ہونا لازمی ہے، بی این پی بے شک گوادر کو مخصوص زون بنانے کی اجازت نہیں دے، لیکن اس سے پہلے ان سوالات کا جواب تو دے، کیا اس کے پاس علم ہے، کیا من حیث القوم ہماری معیشت کا کیا حال ہے؟ کیا ہمارے پاس مزاحمت کی طاقت ہے؟ اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارا کیریکٹر کیا ہے؟ اگر یہ چاروں مسنگ ہیں، تو گوادر کو اسلام آباد کے مخصوص زون بننے سے کوئی معجزہ ہی روک سکتا ہے، جبکہ معجزوں کا اب زمانہ نہیں۔

چینی کہاوت ہے کہ مچھلی ہمیشہ اپنے سر سے گلنا شروع کرتی ہے، اگر بلوچ قوم کے سر کو دیکھا جائے، تو اس میں سیاست دان، دانشور،شاعر؛ ادیب اور پروفیسر شامل ہیں، کیا ہم اپنے سر سے گل نہیں چکے ہیں؟

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔

SHARE
Previous articleافغانستان: طالبان کے دو گروہوں میں تصادم ،40 سے زائد افراد ہلاک
Next articleگیارہ اگست کا دن ہمارے شعور میں پیوست ہوکر جدوجہد اور قربانیوں پر توانائی فراہم کرتی رہے گی ۔ بی ایس او آزاد
منظور بلوچ
بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے بینچہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ اس وقت بلوچستان یونیوسٹی میں براہوئی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ہیں۔ آپ نے براہوئی زبان میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے، اسکے علاوہ آپ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز اور ایل ایل بی بھی کرچکے ہیں۔ آپکے براہوئی زبان میں شاعری کے تین کتابیں، براہوئی زبان پڑھنے والے طلباء کیلئے تین کتابیں اور براہوئی زبان پر ایک تنقیدی کتابچہ شائع ہوچکا ہے۔ منظور بلوچ بطور اسکرپٹ رائٹر، میزبان اور پروڈیوسر ریڈیو اور ٹی وی سے منسلک رہ چکے ہیں۔ آپ ایک کالم نویس بھی ہیں۔ آپ بطور صحافی روزنامہ مشرق، روزنامہ رہبر، روزنامہ انتخاب، روزنامہ آزادی، روزنامہ آساپ، روزنامہ ایکسپریس نیوز میں بھی کام کرچکے ہیں اور آپ ہفتہ وار سالار کوئٹہ کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ دی بلوچستان پوسٹ میں بلوچستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔