مسلح جدوجہد | قسط 12 – کوامے نکرومہ | مشتاق علی شان

91

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سسلسلہ قسط نمبر 12

مسلح جدوجہد، مصنف : کوامے نکرومہ

گوریلا جنگ کے بنیادی اصول اور داؤ پیچ

ترجمہ: مشتاق علی شان

دوسرا باب
CHAPTER TWO

گوریلا جنگ کے بنیادی اصول اور داؤ پیچ
BASIC PRINIPLES AND THCHNIQUES OF GUERRILLA WAR FARE

مسلح انقلابی جدوجہد مرکزی گوریلا فورس کرے گی۔ اسے مہارت اور بہترین تربیت بنیادی کیمپوں میں دی جائے گی جہاں اسے لڑائی کے نہایت جدید طریقے سکھائے جائیں گے۔اس کتاب کے آخری حصے کا مقصد گوریلا جنگ کے بنیادی اصول اور داؤ پیچ جلدمہیا کرنا ہے۔

گوریلا فوج کی تنظیم
PRGANIZATION OF GUERRILLA ARMY

گوریلے چونکہ کم تعداد میں ہوتے ہیں اور یہ عمل کرنے کے لیے بہت زیادہ پھیل جاتے ہیں،اس لیے انھیں مرکزی ہدایات اور معاونت کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کے لیے مندرجہ ذیل یونٹ قائم کرنا ضروری ہیں۔

(1)بھرتی RECRUITMENT
اس کے لیے AAPRAقوتوں کی بھرتی کا حصہ دیکھیں۔

(2)اطلاع INFORMATION

یہ حصہ اس چیز کے بارے میں اطلاع فراہم کرتا ہے جو کسی خاص مقام پر جدوجہد کے لیے ضروری ہے۔
(ا) مقامی باشندے جو انقلابی جدوجہد کے ہمدرد ہیں یا دشمن یا کوئی اور ہیں۔
(ب) ملک کی جغرافیائی تشکیل۔ندیاں، جنگلات، پہاڑ اور وادیاں وغیرہ۔
(ج) شہروں،پلوں، ریلوے لائنوں اور ہوائی اڈوں کی ساخت حکمتِ عملی کے طور پر کیا ہے۔مسلح قوتوں کے ممبران اور پولیس کا رویہ، آزادی کے لیے برسرِ پیکار اور جو اِن کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں ان کا کردار۔
اس کے علاوہ اطلاعات کا سیکشن مندرجہ ذیل امور بھی سر انجام دیتا ہے۔
(1)نقشہ جات تیار کرنا (2)جاسوسی اور ردِ عمل کے طور پر جاسوسی کرنا (3)آزادی کے ہر لڑاکے کا ریکارڈ رکھنا (4)پیغامات کو خفیہ رکھنا اور خفیہ پیغامات کو سمجھنا (5)دیگر علاقوں کے انفارمیشن سیکشن سے تعاون کرنا۔

(3)عمل OPERATIONS

اس سیکشن کو گوریلا گروپوں کے تمام آپریشنزپر اختیار حاصل ہے۔ عمل سے پہلے تمام علاقوں کے رہنماؤں کو آپس میں ملنا چاہیے تاکہ آپریشن کے ہر پہلو کے لیے حکمتِ عملی ترتیب دی جاسکے۔ گوریلا گروپ کا رہنما جو آپریشن کی قیادت کرے گا وہ بھی عمل سے قبل عمل کے لیے جو بحث ہو گی اس میں حصہ لے گا۔

(4)سبوتاژ SABOTAGE

یہ گوریلا تنظیم کا سب سے اہم حصہ ہے۔ جس افسر کی زیر نگرانی یہ سیکشن ہوتا ہے وہ اس امر کو یقینی بنائے گا کہ تمام حکمت عملیاں اور جدید ہتھیار استعمال ہو رہے ہیں۔سبو تاژ کرنے والے چست ہیں۔دشمن کے کمزور مقامات کا جائزہ لے لیا گیا ہے۔اس کی معیشت تباہ کر دی گئی ہے۔

(5)ہدایات
INSTRUCTION

آزادی کے لیے لڑنے والوں کے لیے قائم کردہ تربیتی کیمپس اس سیکشن کے کمانڈ آفیسر کے حوالے ہوتے ہیں۔یہ کسانوں میں تعلیم کو آگے بڑھاتا ہے اور تعلیم سے متعلقہ دیگر اس طرح کے امور کی دیکھ بھال کرتا ہے۔

(6)اسلحہ خانہ

یہ حصہ ہتھیاروں کی خریداری، جنگ میں استعمال ہونے والے آلات، ہتھیاروں اور بارود کو سنبھالنے کے ساتھ ساتھ انھیں گوریلا قوتوں میں تقسیم کرتا ہے۔

(7)رسد
ARMENT

اس سیکشن کے انچارج افسر کا کام یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ انقلابیوں کو خوراک، یونیفارم اور دیگر ایسی اشیاء مہیا ہو رہی ہیں۔

(8)صحت
HEALTH

سند یافتہ ڈاکٹر اور نرسیں بنیادی کیمپوں اور اسپتالوں میں ہوتے ہیں۔ یہ ان گوریلوں کے علاج کے لیے محاذ پر نہیں جاتے جو آپریشن کے دوران بیمار یا زخمی ہوگئے ہوں۔ تمام گوریلا گروپوں کو فوری علاج اور اس سے متعلق ہدایات تربیتی کیمپوں میں دی جاتی ہیں اور انھیں اپنے ساتھ ابتدائی طبی امداد کا مواد (FIRST AID BOX)ساتھ رکھنا چاہیے۔
اس سیکشن کا آفیسر یہ دیکھے گا کہ گوریلا گروپ باقاعدہ میڈیکل اپنے پاس رکھتا ہے اور یہ کہ تمام بیمار اور زخمی گوریلے جو بنیادی اڈوں کی طرف واپس آئے ہیں ان پر مطلوبہ میڈیکل توجہ دی جارہی ہے۔ یہ اپنے علاقے میں صحت کے مسائل پر بھی توجہ دے گا خاص طور پر گوریلوں کے اندر بیماری کے پھیلاؤ کی طرف توجہ دے گا۔

(9)پروپیگنڈا
PROPAGANDA

اس کے لیے دیکھیے کتاب دوسری، باب اول سیکشن (ت)۔ صفحہ نمبر124یہ حصہ خاص طور پر گوریلا جنگ میں اہم ہے جہاں فوجی عمل خفیہ رکھا جاتا ہے وہاں پروپیگنڈے کے ذریعے انقلابی فتوحات کی خبریں پھیلائی جاتی ہیں۔ اس سے انقلابی گوریلوں کی جرات اور حوصلوں میں اضافہ ہوتا ہے اور دشمن کی ہمت ٹوٹتی ہے۔

(10)رضاکار
VOLUNTEERS

اس سیکشن کا آفیسر رضاکاروں پر نظر رکھے گا کہ انھیں اس وقت تک جنگی محاذوں پر نہ بھیجا جائے اور ہتھیار نہ دیے جائیں جب تک کہ ان کے بارے میں کوئی قابل، اعتماد معلومات حاصل نہ ہو۔عام بھرتی کرنے کا طریقہ مرد اور عورت رضاکار کے لیے یکساں ہو گا۔اگر کسی علاقے میں وہاں کی ضرورت سے زیادہ رضا کار ہیں تو پھر مرکزی حکام کو اس بابت مطلع کیا جائے گا تاکہ رضاکار اس علاقے کی طرف روانہ کیے جائیں جہاں ان کی زیادہ ضرورت ہے۔

(11)کمیونیکشن
COMMUNICATION

ریڈیو ٹیلی گراف کے کورس اور کمیونیکشن کے دیگر ذرائع کی تربیت تربیتی کیمپوں میں دی جائے۔ یہ کمیونیکشن کے حصے کا کام ہے کہ انقلابی تحریک کے سارے نیٹ ورک کو منظم کرے اور اس کی دیکھ
بھال کرے۔مزید برآں یہ دیکھے کہ نہایت جدید اور اچھے آلات گوریلا یونٹوں کو فراہم کرے۔

گوریلا یونٹ
GUERRILLA UNIT

اس میں عام طور پر دس سے پندرہ افراد ہوتے ہیں۔ افراد کی تعداد لڑائی کے حالات اور مقامی حالات پر منحصر ہوتی ہے۔ عام طور پر چھوٹے یونٹ بڑے یونٹوں کی بہ نسبت عمل کرنے کے معاملے میں سہل اور زیادہ موثر ہوتے ہیں۔ہر یونٹ کے ممبر، دوست اور حقیقی بھائیوں کی مانند ہونے چاہیں جو انقلابی جدوجہد کے لیے اپنی زندگیاں قربان کر سکیں۔چھوٹے گروپوں کی تعداد گروپ کمانڈر کے ماتحت ایک بڑے گروپ کی صورت اختیار کر سکتا ہے۔

گوریلا یونٹ میں گروپ لیڈر
GUERRILLA UNITAAD GROUP LEADER

لیڈر:
(1)نہایت اعلیٰ تربیت یافتہ اور بہترین لڑاکا ہو۔
(2)حکم مانے اور درست و بروقت فیصلہ کرے۔
(3)ہمدرد اور انصاف کرنے والا ہو۔
ہر گوریلا اپنے یونٹ اور گروپ کی تشکیل سے واقف ہو تاکہ ایمرجنسی کی صورت میں رہنمائی کے لیے سوچنے میں وقت ضایع نہ کرے۔

تربیت
TRAINING

ہر گوریلے کو:
(ا) یہ اچھی طرح ذہن نشین ہونا چاہیے کہ وہ کس کے لیے لڑ رہا ہے۔
(ب) اپنے مقصد سے سچااور وفادار ہونا چاہیے۔
(ج) ماہر سپاہی ہونا چاہیے۔
(د)مضبوط اخلاق اور کردار کا حامل ہونا چاہیے۔
ہر گوریلا:
(1)رائفل، ریوالور اور مشین گن چلا سکے۔
(2)چاقواچھی طرح چلا سکے۔
(3)بہت زیادہ دیر تک دوڑ سکے۔
(4)سائیکل اور کشتی وغیرہ چلا سکے۔
(5)بم بنا سکے اور استعمال کر سکے۔
(6)دیواروں پر چڑھ سکے اور رسوں کی مدد سے بھی چڑھ سکے۔
(7)سائیکلوں اور کاروں کے ٹائر کھول سکے اور انھیں ٹھیک کر سکے۔نیز اس کے لیے بنیادی اوزار ساتھ رکھے۔
(8)نقشوں کو پڑھ اور سمجھ سکے کہ اس کا استعمال کیسے کیا جائے۔
(9)خفیہ پیغام لا اور لے جا سکے۔

ضروری نہیں ہے کہ ہر سپاہی کو یہ سب امور پیش آئیں لیکن اسے اس بارے میں جتنی جانکاری اور علم ہوگا اتنا ہی اس کے لیے ایک اچھا گوریلا بننے کے مواقع زیادہ ہیں۔

سازوسامان
EQUIPMENT

ہتھیاروں اور بارود کے علاوہ ہر گوریلا یونٹ یہ بنیادی اوزاراور سازوسامان اپنے ساتھ رکھے جیسے ابتدائی طبی امداد کا سامان، قطب نما، گھڑی، سٹی، ٹارچ، ریتی، کُنڈے اور پانی کی بوتلیں وغیرہ۔ اس کے علاوہ ہر گوریلا دو میٹر رسی ہمیشہ اپنے پاس رکھے۔ یہ رسی کسی ساتھی کو اس کے یونٹ کے دیگر ممبران سے رات کو الگ ہونے سے بچائے گی کیوں کہ یہ اس رسی سے خود کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتے ہیں۔یہ رسہ ویسے بھی مفید ہو سکتا ہے۔مثال کے طور پر ندیاں عبور کرتے وقت اور قیدیوں کو باندھنے کے کام بھی آسکتا ہے۔

(ب) حکمتِ عملی اور گُر
STRATEGY AND TACTICS

گوریلا جنگ کے گُراور داؤ پیچ انقلابی جنگ کے ماتحت ہونے چاہیں۔ یہ گُر جدوجہد کی خاص حد،دشمن کے عمل اور سرگرمی کے تحت تبدیل ہو سکتے ہیں۔ گوریلا جنگ ایک پہلا اصول ہے لیکن کن اوقات میں دفاع کیا جائے یہ بھی ضروری اور مفید ہے۔ یہ دونوں طریقے یعنی حملہ اور دفاع ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور گوریلا داؤ پیچ میں بنیادی ہوتے ہیں۔

نقل وحرکت
MOBILITY

ضرورت کے مطابق گوریلا یونٹ لڑائی کے میدا ن سے کچھ منٹوں کے اندر اور کچھ گھنٹوں کے اندر جدوجہد کے علاقے سے نکل جائے۔ اس کے لیے یہ لگاتار اپنا محاذ تبدیل کرتا رہے تاکہ گھیرے سے بچے جو کہ دشمن کا نہایت خطرناک داؤ ہوتا ہے۔ گوریلا یونٹوں کا کا م ہوتا ہے کہ دشمن کو توڑ پھوڑ اور دیگر ایسے عمل کرکے اسے نقصان پہنچاہیں اور خود بنا کسی نقصان کے غائب ہو جائے، دشمن کو حیرت میں مبتلا کرے اور یہی دشمن کو حیرت میں مبتلا کرنے اور نہایت سرعت سے غائب ہوجانے کا گُر ہوتا ہے۔ کسی بھی ایک جگہ پر تین دن سے زیادہ عرصہ نہیں رہنا ہوتا ہے۔ چھپنے والی نئی جگہ پر پہنچنے کے بعد واپس پہنچنے کے سارے نشانات مٹا دیے جائیں اور آواز وغیرہ نہ نکالی جائے۔ سفر رات کو کرنا چاہیے، اونچی آواز میں گفتگو کرنے سے احتراز برتنا چاہیے اور سگریٹ سلگانے سے گریز کرنا چاہیے۔ قدم اونچے اٹھانے چاہیں تاکہ جھاڑیوں اور دیگر رکاوٹوں سے ٹکرائے جانے سے بچا جا سکے۔ دن کو گوریلے باری باری نیند کریں، نقشوں کو پڑھیں اور اپنے حصے کے مخصوص کام سرانجام دیں۔نہایت منظم کارروائی کے بعد گوریلا یونٹ غیر سودمند جنگی حالات سے بچیں اس طرح وہ نقصان سے بچیں گے۔ دیگر گوریلا یونٹوں کے ساتھ مل کر دشمن پر حملہ کر کے اسے نقصان پہنچاہیں۔

قوتوں کو مجتمع اور دوبارہ منتشر ہونا
CONCENTRATION AND DISPERSAL OF FORCES

دشمن تعداد میں زیادہ ہونے اور بہترین اسلحے سے لیس ہونے کے باعث گوریلا آرمی سے برتر ہوتا ہے۔گوریلا یونٹ اس امر پر قابو پانے کے لیے جانتے ہیں کہ کس وقت اپنی قوتوں (forces)کو مجتمع اور منتشر کیا جائے۔ اپنی قوتوں کو دیگر یونٹوں کے ساتھ ملا کر طاقتور بنائیں، جب دشمن کمزور ہوتا ہے تو حملہ کیا جاتا ہے اور دوبارہ منشتر ہوا جاتا ہے۔جب ان گوریلوں کا ٹکراؤ بہت بڑے فوجی یونٹ سے ہوتا ہے یا گھیرے میں آنے کا خطرہ ہوتا ہے تو اس صورتحال میں وہ علاقہ نامناسب ہوتا ہے۔

بنیادی مراکز
BASES

گوریلا تحریک شروع کرنے سے قبل مرکزقائم کرنا ضروری ہے۔کسی آزاد علاقے کا گاؤں مرکز یا اڈے کے طور پر کام آسکتا ہے۔یہ امر نہایت اہم ہے کہ جگہ کا انتخاب درست طور پر کیا جائے۔یہ حکمت عملی کے تحت دفاع کی صورت میں محفوظ، خفیہ اور ایسے علاقے میں ہونا چاہیے جہاں عوام انقلابی جدوجہد کی مدد کریں۔ جہاں جغرافیائی حالات مرکز بنانے کے لیے ناممکن ہوں وہاں افراد کا ایک جتھہ تشکیل دیا جائے۔

حملے کے لیے مقاصد کا انتخاب
CHOICE OF OBJECTIVES FOR ATTACK

کمیونکیشن یعنی ریلوے لائنیں، ہوائی اڈے اور روڈ وغیرہ گوریلا حملوں کے لیے اہم اہداف ہیں۔ فوجی ٹرانسپورٹ، گاڑیاں، قطار کے دوران فوج کاسڑکوں پر مارچ کرتے وقت اور فوجی مدد فراہم کرنے والی گاڑیاں نشانہ ہونی چاہیں۔
گوریلا یونٹ اس حالت میں رہتا ہے جو تحرک میں رہتے ہوئے بچاؤ کرنے کے لیے مناسب ہو اور جس سے دشمن کی توقع کم ہو۔ حملے کی کامیابی کے لیے بنیادی شرط اس علاقے کے جغرافیہ کی نہایت اچھی معلومات ہونا ہے۔ اس جانکاری کو استعمال کرتے ہوئے عمل کے لیے سمجھداری سے تیاری کی جائے۔

سازگار جغرافیائی علاقے میں جنگ
COMBAT IN FAVOURABLE TERRAIN

سازگار اور مناسب جغرافیائی علاقے یعنی پہاڑ اور جنگلات میں گوریلوں کی تربیت کے لیے اڈہ تعمیر کر کے مرمت کرنے والے یونٹ، ڈسپنسریاں، تعلیمی مراکز اور اسلحے کے ڈپو قائم کیے جا سکتے ہیں۔ یہ حالات مددگار فوجی قوت قائم کرنے کے لیے بھی مناسب ہوتے ہیں۔ رہنما کو اس جغرافیائی حالت کو ذہن میں رکھنے کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں اور بارود کی نوعیت بھی دیکھنی چاہیے جو ان کے پاس ہیں۔ ہر گوریلا یونٹ اتنا ہی بڑا ہونا چاہیے جتنا کہ حالات اجازت دیں۔اور اردگرد کے یونٹوں کے عمل میں بھی معاونت کریں۔ اگر یونٹ رات کو حرکت میں آتے ہیں تو ان کا پیدل سفر کرنا محفوظ مقام سے پانچ یا چھ گھنٹے سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ چھوٹے گروپوں کو دشمن کا جائزہ لینے کے لیے بھیجا جائے لیکن ایسا نہ ہو کہ وہ دشمن کو چوکنا کر دیں۔ یہ اس وقت تک جنگ نہ کریں جب تک اہم قوت نہ پہنچ جائے۔جس حد تک مناسب ہو وہی ہتھیار اور بارود استعمال کیا جائے جو دشمن کر رہا ہے۔

دشوار جغرافیائی مقامات سے خوراک کی مدد پہنچنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ مقامی آبادی کے ساتھ وسیع پیمانے پر تعلقات رکھے جائیں۔ یہ ذہن نشین رہے کہ گوریلا قوتوں کو ہتھیاروں اور اس قسم کی دیگر اشیاء کی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ دشمن کی جو سپلائی دن میں ہوتی ہے اس پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا جائے۔ گوریلا یونٹ باقاعدہ طور پر تحریک ِ آزادی کے رہنماؤں کے ساتھ ان لوگوں کے نیٹ ورک کے ذریعے رابطہ رکھیں جو قابل اعتماد ہوں،جو مدد اور پیغام وغیرہ پہنچانے والوں کو اپنے گھروں میں چھپاتے ہیں۔ اندرونی رابطہ ریڈیو اور مختلف ٹیکنیکل طریقوں
سے کیا جائے۔

ناسازگار جغرافیائی علاقے میں جنگ
COMBAT IN UNFAVOURABLE TERRAIN

وہ کھلے ہوئے علاقے جہاں جنگلات وغیرہ نہیں ہیں،عام طور پر گوریلا قوتوں کے آپریشن کے لیے مناسب نہیں ہیں۔ان علاقوں میں زیادہ زور دشمن کے کمیونیکشن کو تباہ کرنے پر دیا جائے۔ سبوتاژ کرنے والے پلوں کو توڑیں، ٹیلی فون اور ٹیلی گراف کی تاریں کاٹیں اور اس طرح کے دیگر اقدامات کریں۔نامناسب جغرافیائی حالت میں گوریلا یونٹ میں دس تا پندرہ افراد ہوں اور وہاں بھی پھرتی اور تحرک اہم ہے۔خاص آپریشن کے لیے گوریلا یونٹ اکھٹے ہو سکتے ہیں لیکن یہ پھر منتشر ہو جائیں۔
نامناسب جغرافیائی حالتیں یعنی گنجان آبادی اور کھیت ہیں لیکن یہ خطہ سپلائی کے لیے بہت اچھا ہے۔ گوریلے قابل اعتماد لوگوں سے رابطہ رکھیں جو یونٹوں کو اشیاء کی سپلائی میں مددفراہم کریں۔

ان حالات میں مناسب نہیں ہے کہ بنیادی کیمپوں پر انحصار کیا جائے بلکہ ان حالات میں گوریلے مقامی آبادی کی مددحاصل کر سکتے ہیں۔ گنجان آبادی گوریلوں کو اطلاع کے تبادلے میں مدد کر سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بہت بڑی ذمہ داری بھی ہے۔ اہم خفیہ پیغامات لفظوں یا زبانی طور پر بھیجے جائیں۔

گاؤں۔دیہات
VILLAGES

دیہی انقلابیوں کا گروپ اپنے مخصوص گاؤں میں جدوجہد کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔اس گروپ میں سیاسی طور پر بیدار دیہاتی جو دیگر دیہاتیوں کے قریب رہتے ہیں اور وہ گوریلا یونٹ جو اس علاقے میں آپریشن کر رہے ہوتے ہیں، ان سے ان کا تعلق ہوتا ہے۔ دیہی انقلابیوں کا گروپ تب قائم کیا جاتا ہے جب ان کے علاقے کی سرحد آزاد ی کی تحریک کی سرحدوں سے ملتی ہے۔ دیہی گروپ چھوٹا اور اس کا قائد علاقائی قائد کے ماتحت ہونا چاہیے۔ گروپ کی سرگرمیاں زیادہ تر جاسوسی، سبو تاژاور پروپیگنڈا کرنے کی ہوتی ہیں۔ گروپ کے ممبران کو ہتھیار اور پھٹنے والا مادہ میسر ہوتا ہے لیکن اس کے فوجی آپریشن کا تعین ریجن کا کمانڈر کرتا ہے۔ یہ گروپ گوریلا یونٹوں کو اطلاعات اور اس طرح کی دیگر امداد فراہم کر کے ان کی مدد کرتا ہے. یہ سب کچھ رات کو ہونا چاہیے اور دن کو گروپ کے ممبران دوسرے عام دیہاتیوں کی طرح رہیں۔

شہر
TOWNS

گوریلا شہروں کے اہم مقامات کو نقصان پہنچائیں اور آزادی کے لیے لڑنے والوں کے یونٹ قائم کریں۔ ان کا مقصد سبوتاژ، پروپیگنڈا اور اطلاعات حاصل کرنا اور فراہم کرنا ہوتا ہے۔ حملہ رات کو دشمن کی فوج اور پولیس پر کیا جائے۔یہ شہر میں آزادی کے لیے لڑنے والوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ معاشیات کو نقصان پہنچائیں اور انقلابی جدوجہد کی مدد کریں۔

نظم وضبط
DISCIPLINE

طاقت کا کسی بھی حالت میں غلط استعمال نہ کیا جائے۔ آزادی کے لیے لڑنے والے اگر چوری، لوٹ مار، زنایا معاشرے کے خلاف ایسے دیگر کام کرتے ہیں تو ان پر مقدمہ چلا کر سخت سزا دی جائے۔یہ بھی سمجھایا جائے کہ ایسی بے قاعدگی یا بے راہ روی ساری انقلابی تحریک کو خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔
ضابطہ اندرونی قوت سے حاصل کیا جاتا ہے کیوں کہ یہ کوئی تحفے میں ملی شے نہیں ہے بلکہ تعلیم، مشق اور گوریلا یونٹ میں زندگی گزار کر حاصل کی جا سکتی ہے۔مشکوک افراد اور غداروں پر فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے اور انھیں اپنے دفاع کے مواقع فراہم کیے جائیں،اگر وہ مجرم ثابت ہوتے ہیں تو انھیں گولی سے اڑا دیا جائے۔

جانچ پڑتال
RECONNAISSANCE

یہ حصہ مسلسل دشمن کی نئی پوزیشن اور طاقت کی خبر رکھتا ہے۔یہ اطلاعات مندرجہ ذیل طریقوں سے اکھٹی کی جاتی ہیں:
(1)مشاہدہ۔
(2)دشمن کے ٹیلی فون اور ریڈیائی پیغام سننا۔
(3)قیدی اور دیگر لوگ جو گوریلا طاقت میں شامل ہونا چاہتے ہیں ان سے گفتگو کرنا۔
(4)مقامی باشندوں سے پوچھ گچھ کرنا۔
(5)لڑائی کے ذریعے دشمن کے یونٹوں پر حملہ کر کے سارے آلات اپنے قبضے میں لینا وغیرہ۔

مقامی باشندوں اور شامل ہونے والے قیدیوں سے جو اطلاعات ملتی ہیں ان کی چھان بین کی جائے۔کیو ں کہ دشمن اپنے ایجنٹوں کے ذریعے جھوٹی اطلاعات پھیلاتا ہے۔ قیدیوں سے پوچھ گچھ یونٹوں کا کمانڈر یا ایک تجربہ کار انقلابی سیاسی تنظیم کا ممبر کرے اور پوچھ گچھ کو خفیہ رکھا جائے اور یہ انقلابی طور پر طے کیا جائے۔

قیدی
PRISONERS

قیدی اس وقت مسائل پیدا کرتے ہیں جب انقلابی تحریک ابتدائی مراحل میں ہوتی ہے۔ کچھ عرصہ چھوٹے گوریلے یونٹ میں ان کی دیکھ بھال ہوتی ہے لیکن کچھ حالات میں ان کے ہتھیار اور رسد وغیرہ پر قبضہ کر کے انھیں ختم کر دیا جاتا ہے۔ عام طور پر جتنا ممکن ہو سکے ان کے ساتھ انسانی سلوک روا رکھا جائے۔ دشمن میں اگریہ سوچ پیدا ہوتی ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے سے اپنی جان بچا سکتے ہیں تو پھر ان میں لڑنے کا حوصلہ وجرات ختم ہو جائے گی۔

اگر انقلابی قوتیں زیادہ تر علاقہ آزاد کرالے تو وہاں بنیادی کیمپ قائم کریں تاکہ وہاں قیدیوں سے مختلف نوعیت کا کام لیا جاسکے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔