مسلح جدوجہد | قسط 11 – کوامے نکرومہ | مشتاق علی شان

98

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سسلسلہ قسط نمبر 11

مسلح جدوجہد، مصنف : کوامے نکرومہ

سیاسی ہدایات | عوام کے لیے پروپیگنڈا

ترجمہ: مشتاق علی شان

(الف) سیاسی ہدایات
POLITICAL INSTRUCTION

(1)پروپیگنڈے کے لیے عورتوں سے مندرجہ ذیل کام لیے جا سکتے ہیں:
(ا) چھوٹے پمفلٹ بنوانا۔
(ب) مقامی آبادی میں اخبارات، شیٹیں، نعرے اور ہدایات تقسیم کرنا اور لوگوں کو سمجھانا۔
(ج)اثر انداز ہونے والے سانحات کو ڈرامائی شکل دینا،یعنی اس پر ڈرامے وغیرہ تیار کرنا۔ جدوجہد کے دوران قربان ہو جانے

والوں کے جنازوں کو سیاسی طور پر استعمال کرنا۔ مظاہرے کرنا، پلے کارڈ، بینزر، جھنڈے وغیرہ اور اس طرح کی دیگر اشیاء تیار کرنا۔
(2)جاسوسی: مثال کے طور پر بورژوازی تجارت اور مارکیٹ میں کام کرنے والی عورتیں اپنے کام کے حوالے سے پیغام، ہتھیاراور جاسوسی کی رپورٹیں ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچا سکتی ہیں۔
(3)مترجم: وہ عورتیں جو ایک سے زیادہ زبانیں جانتی ہیں وہ قیدیوں سے پوچھ گچھ اور مترجم کے طور پر کام کر سکتی ہیں۔
(4)انتظامی انصاف اور سیکریٹری کے فرائض کے لیے عورتوں کو کام لایا جاسکتا ہے۔ عورتوں کو لوکل حکومت میں مردوں کی بجائے کام کرنے کے لیے تربیت دی جائے۔

AAPRAاورAACPCکو بااعتماد اور محنتی سیکریٹریوں کی ضرورت ہوتی ہے جو ریکارڈ رکھنے اور آفسوں کے دیگر ضروری کاموں کے لیے ہوں، یہ کام عورتوں سے لیا جا سکتا ہے۔

(ب) تعلیم
EDUCATION
نرسری اور پرائمری اسکول ہر پیداواری یونٹ میں ہونے چاہیں۔ ورکشاپ اور میڈیکل مراکز عورتوں کی طرف سے منظم کیے جائیں۔ ان اسکولوں میں محنت کشوں کے بچے، جدوجہد کے دوران شہید ہونے والے جنگجوؤں کے بچے اور مقامی آبادی کے بچے تعلیم حاصل کریں گے۔

پرائمری اور نرسری اسکولوں کے اساتذہ کی مدد محنت کش مائیں کریں گی۔ جیسے بچوں کی دیکھ بھال وغیرہ کرنا۔
ہر پیداواری یونٹ پڑھانے کے لیے ایک گروپ منتخب کرے جو کام کے گھنٹوں کے بعد بالغوں کو پڑھنے کی جانب مائل کرے۔ اس سے ملازم زیادہ تر اچھا رسپانس دے سکتے ہیں۔ اس کام کے لیے مختلف گروپوں میں باہمی مسابقت اس کوشش کو بڑھائے گی۔

سیکنڈری اسکولوں کا جال بچھا دینا چاہیے جن میں شام کا لیکچر اور مشترکہ بحث مباحثہ ہونا چاہیے۔

(ج) طبی تربیت
MEDICAL TRAINING
اسپتالوں، فوری علاج کے مراکز، بچوں کے دیکھ بھال کے مراکز اور birth controlsکے کلینک اڈوں والے مقامات پر قائم کیے جائیں۔ اس میں زیادہ تر اسٹاف عورتوں پر مشتمل ہو۔ مناسب گوریلا تربیت سے گزری ہوئیں نرسیں مستقل طور پر عملی یونٹوں کے ساتھ ہونی چاہیں۔

(د) ڈرائیونگ ہدایات
DRAWING INSTRUCTIONS
ہم کسی بھی مرد کو غیر جنگی کام پر نہیں لگا سکتے۔ اس لیے AAPRAاورAACPCکی تنظیم میں جو مختلف گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں عورتوں کو اسے چلانے کی تربیت دی جائے۔

AAPRAفورسز کو رسد مہیا کرنا
THE PROVISINING OF AAPRA FORCES

(1)خوراک۔ مردوں کا مکمل طور پر یا کچھ وقت کے لیے گوریلا سرگرمیوں میں رہنے کے باعث خوراک کی پیداواری تقسیم کا کام عورتوں کے حوالے کیا جائے۔ وہ علاقے جو ابھی آزاد نہیں ہوئے ہیں وہاں آزادی کے لیے لڑنے والے مقامی عورتوں کی حوصلہ افزائی کریں کہ وہ خواراک کی پیداوار کا کام سنبھالیں۔ تاکہ زیادہ مدد مستقل طور پر گوریلا قوت میں شامل کی جا سکے۔ کھیتی باڑی، مچھلی، خوراک جمع کرنے اور محفوظ کرنے کا کام عورتوں کے حوالے کیا جائے۔خوراک محفوظ کرنے کا ایسا طریقہ کار اپنایا جائے جس میں کم وقت لگے اور کم خرچ ہو۔ مقامی آبادی خوراک مہیا کرنے کا اہم ذریعہ ہے لیکن گوریلوں کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مقامی افراد کو زیادہ گوریلا یونٹوں میں شامل کیا جائے،اس لیے عورتوں کو مستقل طور پر خوراک پیدا کرنے اور تقسیم کرنے والے سیکٹرز میں مقرر کیا جائے۔عورتیں اڈوں اور آزاد علاقوں میں مستقل طور پر گشتی تقسیم کے مراکز، کینٹین اور عوامی دکانیں قائم کریں۔
(2)کپڑے۔ عورتوں کو یہ تربیت دی جائے کہ وہ وردیاں، کور، تھیلے، بوٹ اور دیگر ایسا سامان تیار کریں جن کی آزادی کے لیے لڑنے والے سپاہیوں کو ضرورت ہوتی ہے۔

(ت) پروپیگنڈا
PROPAGABDA
پروپیگنڈا آزادی کا ذریعہ، وضاحت، اطلاع، تعلیم اور تحرک کاآلہ ہے۔
پروپیگنڈے سے ہماری جنگ کے دو مختلف لیکن بنیادی مقاصد حاصل ہوتے ہیں۔
(1)دشمن کی فوج کو توڑنا۔
(2)اپنے لوگوں کو بیدار کرنا اور تحرک میں لانا۔

دشمن کو متاثر کرنے کے لیے پروپیگنڈا
PROPAGABDA TO SUBVERT THE ENEMY
جنگ سے قبل دشمن کے اذہان پر حملہ کیا جائے تاکہ وہ لڑنے کی جرات کھو بیٹھے۔ اس طرح فیصلہ جنگ شروع ہونے سے قبل ہی ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد انقلابی فوج بکھری، منتشر اور اخلاقی طور پر دیوالیہ فوج پر حملہ کرتی ہے۔

اس طرح کے پروپیگنڈے کے دو مقاصد ہیں:
(1) غیر افریقی فوجوں کے لڑنے کی صلاحیت یہ ظاہر کر کے ختم کر دی جاتی ہے کہ اس جنگ میں ان کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہے اور ان کی شکست نوشتہ دیوار ہے۔
(2) افریقی فوجی جو دشمن کے ہاتھوں غلط استعمال ہو رہے ہیں ان کی AAPRAمیں شمولیت کی خواہش کی حوصلہ افزائی۔

مذکورہ بالا دونوں مقاصد میں رابطے کی مشکلات ہیں۔ بالخصوص ان علاقوں میں جو دشمن کے زیر کنٹرول ہیں۔ ایسے علاقوں میں نشریات، پمفلٹ، خفیہ میٹنگیں اور بحث وغیرہ کچھ ایسے طریقے ہیں جو موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

جہاں انقلابی کھلے طور پر کام کر سکتے ہیں وہاں پر وہ پروپیگنڈے کے مختلف ذرائع،مثال کے طور پر ٹیلی ویژن، ریڈیو، سینما، پریس اور نمائش وغیرہ کا استعمال کر سکتے ہیں۔


عوام کے لیے پروپیگنڈا
PROPAGANDA TO THE PEOPLE

اس پروپیگنڈے کے مقاصد یہ ہیں:
(1)عوام کے خلاف دشمن کی سازشوں کو بے نقاب کرنا۔
(2)عوام کو اپنا مقصد سمجھانا۔
(3)عوام کو تحرک میں لانا تاکہ وہ کھلے ذہن اور سرگرمی سے انقلابی جدوجہد میں حصہ لیں۔

یہ کام دو سطحوں پر کیا جا سکتا ہے۔
(1)نظریاتی: عوام میں بیداری تیز کرنا۔یہ بیداری زیادہ تر مختلف اوقات میں بڑھتی ہے۔
(ا) آزادی حاصل کرنا (نوآبادیات مخالف قوم پرستی کا پرچار کرنا)
(ب) یہ خیال عام کیا جائے کہ ”ہمارے خلاف کچھ کیا جا رہا ہے۔“(جدید نوآبادیات کے استحصال کے خلاف بیداری پیدا کرنا)
(ج) عوام کو یہ محسوس کرایا جائے کہ تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔(نوآبادیات مخالف شعور کو بلند کرنا)
(د) عوام میں یہ خیال پیدا کیا جائے کہ آزادی صرف عمل کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔(طاقت کے استعمال کی ضرورت، لڑنے کی جرات پیدا کرنا)
(2) عملی سطح پر تعلیمی کام کو سیاسی فوجی تنظیم (AAPRA-AACPC)کے ماتحت کیا جائے۔ اس کے بعد انقلابی مقاصد کے لیے حقیقی اسباب پیدا کیے جائیں۔ اس انقلابی جدوجہد کے لیے تجویز کردہ خاکہ تفصیل سے چارٹ نمبر پانچ سہہ رخی عمل کا طریقہ پیش کرتا ہے۔

تشکیل الف سیاسی اعلیٰ ادارہ ہے جو سیاسی تعلیم جاری رکھتا ہے۔ یہ تشکیل دیہی سطح تک اور شہرمیں وارڈ کی سطح تک ہونا چاہیے۔ الف مظلوم استحصال زدہ اور غیر مطمئن رہنے والے عوام کو سیاسی تعلیم دے گا۔ اس طرح عوام آگاہی رکھنے والی منظم اور فیصلہ کن قوت بن جائے گی۔ الف، ب کی کامیابی کے بعد ب کی فوجی اعلیٰ ادارے کی مدد سے عمل کرے گا۔ جسے مختلف عملی تنظیمیں اور انقلابی یونٹوں میں خاص مہارت حاصل ہے۔

جب عمل سیاسی اعلیٰ ادارے اور فوجی جنرل اسٹاف کے مشترکہ فیصلے کے تحت کیا جاتا ہے تو اس وقت ب خاص اہمیت رکھتی ہے۔ الف تنظیمی کام کرتا ہے اور اس کی بنیاد پر ب عمل کرتا ہے۔

الف پروپیگنڈے اور جاسوسی کا کام بھی کرتا ہے جس کا ب سے گہرا تعلق ہے۔ دوسرے لفظوں میں مختلف قسم کے ایجنٹ جو الف کے ساتھ شامل ہوتے ہیں ان کی خبر ب کو نہیں ہوتی ہے۔ ب کا اپنا پروپیگنڈے کے سیکشن کا نیٹ ورک ہوتا ہے۔ یہ الف کے ساتھ مکمل طور پر شامل نہیں ہوتے ہیں اور ت کے ساتھ بھی شامل نہیں ہوتے ہیں۔اس لیے کہ اگر:
(1)ب کو نقصان پہنچتا ہے تو
(2)ب کا آگے بڑھنا یکساں نہیں ہوتا ہے۔
(3)کچھ گوریلا یونٹ الگ ہو گئے ہیں۔
(4)ب کو کچھ وقت کے لیے انڈر گراؤنڈ ہونا چاہیے۔

اگر حالات سود مند نہیں ہیں تو الف یونٹ اپنا کام جاری رکھے۔اس سے کبھی بھی نظریاتی فاصلہ پیدا نہیں ہوگا۔
ایک بار اگر ب اور ت نے مل کر عمل کیا تو فتح یقینی ہے۔
عام تیاریوں اور عمل کے لیے الف،ب اور ت کے تعاون سے تشکیل اندر ہونی چاہیے۔الف کا کام ب کے لیے حالات تیار کرے گا جس کے ساتھ عمل میں ت کی معاونت ہو گی۔
الف، ب اور ت ایک بڑی منظم ہتھیاروں سے لیس نظریاتی اور تربیت یافتہ قوتوں کو جوڑتی ہے لیکن شروع میں الف کے پروپیگنڈے سے ابہام ہو سکتا ہے۔
پروپیگنڈا سب سے پہلے اور آخر ی نظریاتی ہونا چاہیے۔ اس کے پھیلاؤ کے لیے چوکس منتخب اور تربیت یافتہ نوجوانوں کا دستہ ہونا چاہیے۔

ہمارا پروپیگنڈا انقلابی سیاسی تعلیم میں آجاتا ہے۔
پروپیگنڈا جدوجہد کا ایک اہم جُز، اہم حصہ ہے جو اس سہہ طرفی عمل پر دارومدار رکھتا ہے:
وضاحت کرنا، خبردار کرنا، تشریح کرنا
وضاحت کرنا، خبردار کرنا، تشریح کرنا، حل کرنا
وضاحت کرنا، خبردار کرنا، تشریح کرنا، تحریک میں لانا

پروپیگنڈے کا یہ طریقہ تبدیل نہیں ہو سکتا لیکن کسی بھی ایک پر زیادہ توجہ مندرجہ ذیل حالات کے تحت دی جا سکتی ہے۔
پروپیگنڈا سننے والوں کی سطح (قومی یا بین الاقوامی عوام)۔ملک کے اندر کون سی حالتیں موجود ہیں۔ جدوجہد کس سطح پر ہو رہی ہے اور اس کے لیے کون سی حالتیں ہیں۔

پروپیگنڈا کرنے والے جن علاقوں میں کام کر رہے ہیں حالات کے تحت اپنے پروپیگنڈے کا طریقہ کار اور موضوع تبدیل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر:
(ا) آزاد کرائے گئے علاقے جہاں لوگوں کی قوت کو ساتھ رکھنا ہے۔
(ب) وہ علاقہ جہاں لڑائی جاری ہے وہاں آزادی کی تحریک کی مدد کرنا، لوگوں کے خیالات کو تبدیل کرنا اور دشمن کو ذہنی طور پرپست اور بے ہمت کرنا چاہیے۔
(ج) دشمن کے قبضے میں آئے علاقے میں لازم ہے کہ دشمن کی چھان بین کی جائے اور انھیں بے نقاب کیا جائے۔

دشمن کو بے ہمت بنایا جائے۔جیسے فوج میں پھوٹ وغیرہ کو ظاہر کرنا۔اس کے ساتھ ساتھ عوامی قوت کیوں اور کیسے منظم اور فتح کی جانب آگے بڑھ سکتی ہے، اس کا پرچار کرنا شامل ہوتا ہے۔ پروپیگنڈامتعدد ذرائع سے پھیل سکتا ہے:
(1) ریڈیو (2) ٹیلی ویژن(3)پریس (اخبارات،پمفلٹ وغیرہ)(4)سینما (ڈاکومنٹری خبریں اور خبروں کی فلمیں) (5)نمائش (جس میں پوسٹر، سلائیڈز، نقشے، چارٹ، تصاویراور دستاویزات استعمال کی جائیں)

ان میں سے میڈیا یعنی ریڈیو، ٹیلی ویژن، پریس وغیرہ آزاد شدہ علاقوں یا اڈوں میں باآسانی دستیاب ہو سکتے ہیں۔باقی چیزیں وہاں استعمال کی جائیں جہاں ان کے لیے مناسب کیڈرز اور ماحول میسر ہو سکے۔اس کے لیے کیڈرز کو AAPRAکے اسکولوں میں تربیت دی جائے۔

پروپیگنڈا حالات کے تحت تبدیل ہو سکتا ہے جہاں کھلم کھلا اشاعت کا کام ہو سکتا ہے وہاں پریس کو استعمال کیا جائے۔
غیر یقینی حالت میں پبلی کیشن کی دو اقسام ہیں:
(1)فوری نوعیت کی اہم خبروں سے متعلق نعرے اور جلسے جلوسوں کے حوالے سے مطالبات وغیرہ کے لیے چھوٹے پمفلٹ تیار کرنا۔
(2) سیاسی بلیٹن یا اخبارات۔
پروپیگنڈے کے سارے ذرائع حوصلہ افزائی اور اطلاعات دینے کے لیے استعمال کیے جائیں۔
(1)سامراج جدید نوآبادیات اور اس کے حواریوں کے خلاف مرتے دم تک جدوجہد کرنا۔
(2)افریقہ کی آزادی، اتحاد اور سوشلسٹ سماج کی تعمیر کرنا۔
(3)دیگر سوشلسٹ ممالک کے مسائل، ترقی اور حاصلات کے بارے میں خبریں دینا۔
AAPRA(4)کی قوتوں کی پیش قدمی سے متعلق اطلاع دینا۔
(5)آزادی کے لیے برسرِ پیکار محنت کشوں، کسانوں، طلبا اور عورتوں کے لیے ہدایات اور رہنمائی کرنا۔

ہمارے پروپیگنڈا کرنے والے ہر مسئلے اور غلطی کو عیاں کریں، ہمیشہ حقائق کو واضح کریں کیوں کہ نہایت کڑے سچ میں مثبت سوچ ہوتی ہے۔

پروپیگنڈ ااخلاقیات اپنے آپ پر انحصار کرنے، اپنی تعلیم وتربیت کرنے، قوتِ فیصلہ پیدا کرنے اور خود تنقیدی کرنے کے عمل کو ترقی دیتی ہے۔
مندرجہ ذیل خصوصیات بنیادی طور پر ہر انقلابی گوریلے میں ہونی چاہیں:
(ا) بہادر(ب) جنگ کا ماہر (ج) ضابطے کا پابند (د) مقصد سے وفاداری۔

ہمارا پروپیگنڈا ان چار خصوصیت کی بابت ہونا چاہیے۔ یہ خصوصیات پیدا کرنے کے لیے موضوعی طور پر نہیں بلکہ سائنسی طور پر سمجھاناچاہیے۔ایک انقلابی کو نہایت اعلیٰ کارکردگی، عمل میں پھرتی اور مختلف مقامات اور میدانوں میں اس کا رویہ شائستہ ہونا چاہیے۔

پروپیگنڈے کے لیے تجاویز
SUGGESTIONS FOR PROPAGANDA

(ا)AAPRAکے کام کے مشاہدے کے لیے ماہانہ عملی خاکہ جاری کیا جائے۔
(ب) مندرجہ ذیل امور کے لیے ہفتہ وار عملی خاکہ جاری کیا جائے:
(1)مسلح قوتیں (2)فوجی اعلیٰ ادارہ(3)سیاسی اعلیٰ ادارہ
(ج)مقامی انقلابی اخبارات یا مندرجہ ذیل مسائل پر کام کرنے والوں کے لیے عملی خاکہ:
(1)مختلف تنظیمی سیلوں (SELLS)کی صورتحال کے بارے میں۔
(2)مسلح قوتوں کی پیش قدمی کے بارے میں۔
(3)لڑائی کی خبریں (فتوحات سے متعلق اعداد وشمار)
(د) چھوٹے پمفلٹس کے لیے عملی خاکہ۔
(1)سیاسی ومعاشی اسباب کے ذریعے دشمن کو بے ہمت کرنا۔
(2)آبادی کے مختلف حصوں سے انقلابی حوالے سے مخاطب ہونا۔
ظاہری اور پوشیدہ سیاسی تعلیم، بنیادی کام (عمل) کے لیے میدان تیار کرتی ہے۔

ہمیشہ بنیادی مقصدذہن میں ہونا چاہیے جس میں محنت کشوں کو مندرجہ ذیل امور سنبھالنے ہیں:
(1)سول انتظامیہ(2)پولیس (3)مسلح قوتیں
جب کہ درج ذیل اشیاء پر قبضہ کرنا ہے:
(1)صنعت(2)زراعت(3)کانیں (4)ٹرانسپورٹ
اس کے لیے محنت کشوں، کسانوں، معاون محاذوں کے ممبروں، طلبا اور عورتوں کو منظم کرنا چاہیے اور انھیں تحرک میں لانا چاہیے۔

اس کے لیے خاص اصول، تجاویز اور پروگرام ان کے انقلابی مقصد کے حوالے سے ہونے چاہیں جو یہ ہے:
افریقہ کا اتحاد اور سوشلزم
حاصلِ مطلب یہ ہے کہ پروپیگنڈے کے لیے:
(ا) عوامی مسلح قوتوں کو آگے بڑھائیں اور انھیں منظم کیا جائے۔
(ب) دشمن کی صفوں میں توڑ پھوڑ اور لڑنے کی جرات کم کی جائے۔
(ج) دشمن کے پروپیگنڈے کو ظاہر کرنا،دشمن کو غلط اطلاع دی جائے۔
(د) عوام تک حقیقی اطلاعات پہنچائی جائیں۔

یہ سب باتیں ہمارے عمل، مختلف حالات میں جدوجہد اور ہماری آخری فتح تک جدوجہد پر انحصار رکھتی ہیں۔یہ مقصد ہے افریقہ کی یونین گورنمنٹ۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔