فکرِ نوروز – لطیف بلوچ

143

فکرِ نوروز

تحریر: لطیف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچستان میں سانحات روز کا ایک معمول بن چکے ہیں۔ ریاست، بلوچستان کو Tragedy zone میں تبدیل کرچکا ہے، سانحات، مار و ڈھاڑ ، قتل و غارت ریاستی اداروں کا مشغلہ بن چکا ہے۔ اس سرزمین پر اتنے واقعات اور سانحات رونما ہوئے ہیں اب کسی سانحے، کسی انسان کے قتل اور واقعات کے اثرات اور نقصانات کا پتہ نہیں چلتا لوگ عادی ہوگئے ہیں۔ واقعات اور سانحات کا سن کر اسے نظر انداز کرتے ہیں اور اپنے روز مرہ کے معمولات میں ایسے گم ہوجاتے ہیں گویا کچھ ہوا نہیں ہے۔ کیونکہ بلوچ سرزمین پر اتنے بڑے بڑے واقعات رونما ہوئے ہیں اور ایسے عظیم شخصیات قتل ہوئے ہیں کہ لوگ واقعات کو اپنے زندگی کا ایک معمول سمجھنے لگے ہیں۔ اتنا درد سہہ چکے ہیں اب درد و تکلیف کا احساس نہیں ہوتا۔ بلوچ نسل کشی کا سلسلہ مختلف طریقوں سے جاری ہے۔ ایک سلسلہ ریاست اور ریاستی ادارے و ڈیتھ اسکواڈز بلوچ قومی تحریک آزادی کو ختم کرنے کے لیئے جاری ہے، جن کا ہدف بلوچ آزادی پسند، حق پرست کارکن ہیں۔ جو بھی سیاسی کارکن بلوچ شناخت، ثقافت، سرزمین اور اپنے قومی حقوق کی تحفظ کی بات کرے گا۔ انسانی حقوق کی پامالیوں، جبر، ناانصافی اور جبری گمشدگیوں کیخلاف آواز اٹھائے گا وہ مجرم کہلائے گا اور اس کا یہ جرم اور حق کی آواز ناقابل معافی جرم قرار دیا جائے گا اور ایسے کارکنوں کو اٹھا کر ٹارچر سیلوں میں پھینک دیا جائے گا یا ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنایا جائے گا، اس جرم کا سزا موت ہے، بلوچ ہونے کا سزا مسخ شدہ لاش ہے، اجتماعی قبریں ہیں۔ اس جرم اور حق گوئی کی سزا مسلح جدوجہد اور سیاسی جدوجہد کے حامیوں کو برابر دیا گیا ہے۔

سیاسی جدوجہد کی راہیں بھی مسدود کی گئی ہیں، بات کرنے، تحریر و تقریر پر مکمل پابندی ہے اور سیاست شجر ممنوعہ قرار دی گئی ہے۔ یہ سلسلہ آج سے نہیں بلکہ 27 مارچ 1948 کے جبری الحاق سے شروع ہے۔ جبری الحاق کیخلاف آواز اٹھانے والوں کو بھی جبر کا نشانہ بنایا گیا، جس سے لوگوں میں بے چینی بڑھ گئی اور مسلح مزاحمت کا آغاز ہوا لوگوں نے پاکستان کے جبری قبضے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے پہاڑوں کو اپنا مسکن بناتے ہوئے جبری قبضے کیخلاف بغاوت کا اعلان کیا۔ جھالاوان سے نواب نوروز خان زہری نے اپنے جانثاروں کے ہمراہ پہاڑوں پر چلے گئے۔ 1959 میں نواب نوروز خان کو قرآن کا واسطہ دے کر پہاڑوں سے اتارا گیا۔ فوج کی معاونت سے سردار دودا خان قرآن لے کر نواب نوروز خان کے پاس گئے، یہاں سے اس اختلاف اور دشمنی کا آغاز ہوا۔ یہ دشمنی اور اختلاف قبائلی نہیں بلکہ سیاسی، نظریاتی اور اصولی ہے۔ ایک طرف اصول، نظریات اور وطن پر مر مٹنے والے نواب نوروز خان کے جانشین ہیں اور ایک طرف سردار دودا خان کے سوچ پر گامزن اس کے جانشین ہیں۔ نواب امان اللہ زہری، اس کے فرزند ریاض زہری، اور نواسہ مردان زہری و ان کے ساتھی اس نظریاتی و فکری دشمنی کے بھینٹ چڑھ گئے۔ بلوچستان میں ریاست اور ریاستی ادارے قوم پرستانہ سیاست اور نظریات کو ختم کرنے کے لئے قبائلی دشمنیوں کو بطور آلہ استعمال کررہے ہیں۔ بلوچ قوم کو آپس میں الجھا کر دست و گریباں کرکے اپنے قبضے، لوٹ مار کو مزید مستحکم کرکے دوام بخشنا چاہتے ہیں، یہ انگریز کا پالیسی رہا ہے آج اس نسخے پر پاکستانی فوج گامزن ہے، لڑاو حکومت کرو، قبضہ کرو، لوٹ مار کرو جب بھی کوئی سیاسی کارکن، قبائلی شخصیت ریاست کے پالیسیوں سے اختلاف رکھتا ہے، ریاست نے اس کے مدمقابل اپنے تیار کردہ مصنوعی قیادت اور نام نہاد سرداروں کو کھڑا کیا ہے۔

آج بلوچستان میں جو ریاستی ڈیتھ اسکواڈز آپریٹ ہیں، ان میں نام نہاد ریاستی سردار، میر و معتبرین شامل ہیں جن کا اپنے علاقوں، قبائل اور سوسائٹی میں کوئی اہمیت و حیثیت نہیں، ایسے مفاد پرست قوم دشمن چند مراعات اور ذاتی مفادات کی حصول کے لیئے ریاست کے آلہ کار بن کر اپنے قوم اور وطن کیخلاف استعمال ہوتے ہیں۔ سانحہ زہری میں بھی ایسے مفاد پرست نام نہاد سردار کا کندھا استعمال ہورہا ہے میر امان اللہ زہری اور اس کے نواسہ و ساتھیوں کو برادار کش سردار نے صرف اپنی ذاتی انا کی تسکین اور اپنی مصنوعی روب و دبدبہ کو غریب لوگوں پر برقرار رکھنے کے لئے قتل کروایا ہے۔ اس برادار کش نے اپنے ماں و بہنوں کی عزت کا لاج تک نہیں رکھا، خواتین کے سامنے اپنے ماموں کا قتل کیا، یہ کوئی بہادری والا کارنامہ نہیں بلکہ ایک بزدلانہ اور ظالمانہ حرکت ہے۔ سردار کا مطلب قبائل اور لوگوں کی عزت، آبرو اور ننگ و ناموس کی محافظ ہونا ہے لیکن اس بردار کش نے اپنی ہی ننگ و ناموس پر حملہ کروایا، یہ کیسے لوگوں کی ناموس اور عزتوں کی حفاظت کرسکتا ہے؟

میں امان اللہ زہری کے قتل کو ایک مخصوص قبائلی جھگڑے کے تناظر میں نہیں دیکھتا ہوں کیونکہ اس قتل کا مقصد ایک سوچ، ایک نظریہ اور تسلسل کو ختم کرنا تھا اور یہ تسلسل شہید نواب نوروز خان زہری کی شہادت سے شروع ہوئی ریاست نواب نوروز خان کی فکر کو ختم کرنے کے لئے ان کی خاندان کو نشانہ بنارہی ہے، لیکن نوروز خان کا فکر ہر بلوچ کیساتھ ہے فکر نوروز کو اس طرح ظلم و جبر سے ختم کرنا ناممکن ہے۔ کس ترازو میں کردار کو ناپ تول کرکے تعین کیا جارہا ہے، عمل اور کردار کا تعین اس طرح نہیں ہوسکتا کہ کوئی آپ کے نقطہ سے متفق نہیں، سیاسی طریقہ کار اور جدوجہد کے ذرائع مختلف ہونے پر کسی کے کردار پر شک کرکے دشمن قرار دیا جائے یہ مضحکہ خیز رویہ ہے، اگر کردار کے لئے یہ دائرہ بنایا گیا ہے کہ اگر کوئی بندوق اٹھا کر لڑتا ہے اس کا کردار اعلیٰ ہے اور کوئی بندوق نہیں اٹھا سکتا لڑ نہیں سکتا وہ کسی دوسرے ذرائع سے جدوجہد کررہا ہے تو اس کا کردار خراب ہے ایسا بھی نہیں ہے۔ جہاں تک امان اللہ زہری اور ثناء اللہ کا تعلق ہے اگر امان اللہ کو ثناء اللہ کیساتھ جوڑ کر کردار کا تعین کیا جائے گا، یہ بھی زیادتی ہوگی۔

ثناء اللہ کھل کر تحریک کیخلاف برسرپیکار ہے، رکاوٹ ہے اور ہر طریقے سے تحریک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہے لیکن اس کے برعکس امان اللہ زہری اگر مسلح مزاحمت کا حصہ نہیں رہا لیکن کھبی بھی کسی جگہ رکاوٹ بننے اور نقصان پہنچانے کی کوشش بھی نہیں کی ہے، اگر میرے علم میں نہیں تو ساتھی رہنمائی کریں امان اللہ زہری کے تحریک کے حوالے سے منفی کردار کو واضح کریں کہ وہ کب، کہاں اور کیسے بلوچ تحریک کے سامنے رکاوٹ بنا ہے، تحریکی ساتھیوں کو نقصان پہنچایا ہے ان کے کس عمل سے تحریک پر کوئی منفی اثرات پڑے ہیں۔ محض کسی سے سیاسی سوچ کی اختلاف کی بناء پر اس کو کیسے تحریک دشمن یا دشمن کا ساتھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ عمل و کردار میں فرق سے کوئی غدار ٹہرایا نہیں جاسکتا بہت سے لوگ عمل کرتے ہیں لیکن ان کی کردار میں بھی تضاد ہوتی ہے۔ بہت سے لوگ عمل سے دور ہوتے ہیں لیکن ان کی کردار پر کوئی داغ نہیں ہوتا وہ عملی طور پر کمزور ضرور ہوتے ہیں لیکن دشمنی نہیں کرتے، نقصان نہیں پہنچاتے اگر کوئی کام نہیں کرسکتے لیکن خاموش بیٹھ جاتے ہیں آج بھی ایسے بہت سے لوگ ہے جو عملی طور پر گوشہ نشین ہے لیکن تحریک کی خیر خواہ ہیں وہ بلوچ قوم و سرزمین کی بدخواہی نہیں کرتے۔

امان اللہ زہری بھی تحریک کے بد خواہ نہیں تھے وہ عملی طور پر سرگرم نہیں تھا لیکن بلوچ قوم اور تحریک کا خیر خواہ تھا اگرچہ بلوچ قوم ایک کمانڈر سے محروم نہیں ہوا ہے لیکن ایک دوست اور ایک خیر خواہ سے ضرور محروم ہوگیا ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔