فاٹا میں دو بچے پاکستان آرمی کے بارودی سرنگ کا نشانہ بنے – منظور پشتین

152

پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنماء منظور پشتین نے کہا ہے کہ فاٹا میں مزید دو بچے پاکستانی فوج کے بارودی سرنگوں کا نشانہ بنے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر کیا۔

منظور پشتین کا کہنا ہے کہ پاکستانی فوج کی جانب سے بچھائی جانے والی بارودی سرنگوں سے فاٹا غم اٹھا رہا ہے۔ بارودی سرنگوں کے متاثرین میں آج آٹھ سالہ شان اور نو سالہ عبدالوہاب سکنہ واچا خواہا شامل ہیں۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ متاثرہ بچوں کو ہسپتال لیجاتے وقت جنجول آرمی چیک پوسٹ پر فورسز کی جانب سے انہیں دو گھنٹے تک روکا گیا۔

پی ٹی ایم رہنماء کا کہنا ہے کہ بارودی سرنگوں کے خاتمے کے خلاف احتجاج پر پشتون تحفظ موومنٹ کے متعدد کارکنان کو گرفتاریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

یاد رہے وزیرستان اور دیگر پشتون علاقوں میں متعدد افراد بارودی سرنگوں کا نشانہ بن چکے ہیں جن میں بچے بھی شامل ہیں جبکہ یہ واقعات روزانہ کی بنیاد پر پیش آرہے ہیں۔

پشتون تحفظ موومنٹ کے اہم مطالبات میں بارودی سرنگوں کا خاتمہ شامل ہیں جبکہ ان کا موقف ہیں کہ یہ بارودی سرنگیں پاکستانی فوج دہشت گردی  کے خاتمے کے  نام پر بچھائی ہے جبکہ اس کا نشانہ عوام بن رہی ہے۔