15.5 C
Quetta
Tuesday, October 15, 2019

داعش کا شام میں کردوں پر حملوں میں اضافے کی دھمکی

41

 اسلامی شدت پسند گروپ داعش نے شام میں امریکا کے زیر قیادت بین الاقوامی اتحاد اور اس کے حلیف کردوں پر حملوں میں اضافہ کر دینے کی دھمکی دی ہے۔

یہ دھمکی داعش ٹیلیگرام پر کے ایک چینل پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں سامنے آئی ہے۔

مارچ میں زمینی شکست کھانے کے بعد داعش  کی جانب سے یہ دوسری ویڈیو ہے۔

حالیہ چند ماہ میں داعش نے شام کے شمال اور شمال مشرق میں کرد فورسز کو سلسلہ وار حملوں کا نشانہ بنایا۔

رواں سال 23 مارچ کو داعش کی قائم کردہ “خلافت” کے سقوط کا اعلان کر دیا گیا۔ اس خلافت کا اعلان تنظیم نے 2014 میں کیا تھا۔ سقوط کا اعلان تنظیم کو شام کے مشرق میں اس کے آخری گڑھ سے نکالے جانے کے بعد کیا گیا۔ اس مقصد کے لیے سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے ایک بڑا حملہ کیا تھا۔ مذکورہ فورسز میں ایک بڑی تعداد کرد جنگجوؤں کی ہے اور انہیں بین الاقوامی اتحاد کی سپورٹ حاصل ہے۔

تاہم شام کے متعدد علاقوں میں پھیلے جنگجوؤں اور “غیر فعال گروپوں” کی صورت میں داعش کا وجود اب بھی موجود ہے۔ کچھ عرصہ قبل امریکی وزارت دفاع کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ داعش شام میں پھر سے نمودارہو رہی ہے۔

اتوار کے روز جاری کی جانے والی داعش کی ویڈیو میں تنظیم نے الرقہ ، دمشق، ادلب اور حلب میں اپنے کارکنان اور حامیوں سے مخاطب ہو کر کہا ہے کہ “ہمارے اور ان کے درمیان معرکہ بھڑک اٹھا ہے اور اس کے شعلے شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

داعش نے بین الاقوامی اتحاد ے ممالک پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے تنظیم کے حریفوں اور مخاصمین کو پُھسلایا جن میں کُرد بھی شامل ہیں۔

داعش نے مزید کہا کہ انہوں نے کردوں کو چکی کی طرح پیس دینے والی جنگ میں جھونک ڈالا جس میں ان کا کچھ باقی نہ رہے گا۔

داعش کی ویڈیو کا دورانیہ تقریبا 10 منٹ ہے۔ اس میں ایسے لوگوں کی گردنیں کاٹتے ہوئے اور موت کے گھاٹ اتارتے ہوئے دکھایا گیا ہے جن کو شدت پسندوں کے ہاتھوں اغواء ہونے والے کرد جنگجوؤں کے طور پر پیش کیا گیا۔ ویڈیو میں ایسی رپورٹوں اور شواہد کے کلپ شامل کیے گئے ہیں جن سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ داعش تنظیم شکست دے دوچار نہیں ہوئی اور اب بھی شام میں موجود ہے۔

داعش  کی جانب سے آخری وڈیو 29 اپریل کو نشر کی گئی تھی۔ ویڈیو میں تنظیم کا سربراہ ابو بکر البغدادی پانچ برس بعد پہلی مرتبہ نمودار ہوا تھا۔ البغدادی نے اپنی بیعت کرنے والوں سے مطالبہ کیا کہ وہ لڑائی جاری رکھیں۔

تنظیم کی خلافت کے خاتمے کے اعلان کے تقریبا ایک ماہ بعد سامنے آنے والی اس وڈیو میں اس وقت البغدادی نے دھمکی دی تھی کہ تنظیم کے جنگجو مغرب کے ساتھ ایک طویل معرکے کے ذریعے اپنا انتقام لیں گے۔