تصرف کَتھا – میرک بلوچ

74

تصرف کَتھا –

تحریر۔ میرک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

انسانی عظمت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اسے اپنی آزادی بہت عزیز ہے۔ غاروں سے لیکر تمدنی زندگی تک انسان نے اپنی معاشرتی بود و باش میں اپنے اس حق کو بھی الگ تھلگ نہیں ہونے دیا۔ اس کی سب سے پہلی ترجیح اپنی آزادی رہی ہے۔ اس خوبصورت دنیا کی خوبصورتی انسانی آزادی کی بدولت ہے اگر انسان سے اس کی آزادی سلب کرلی جائے تو یہ دنیا انتشار کا شکار ہوجائے گا۔ تاریخ اس بات کی شاید ہے کہ اگر کسی طاقتور، مغرور، خودسر و ظالم نے اپنی ظلم و ستم اور طاقت کے زور پر اپنی ہی جیسے انسانوں کی زمین و وسائل پر بزور قبضہ کرکے اس کی آزادی چھین لی تو مظلوم و محکوم نے اپنی آزادی کیلئے اس طاقتور و خودسر کو کبھی بھی اپنی سرزمین پر سکون سے رہنے نہیں دیا۔ اپنی آزادی کیلئے خون آشام جدوجہد کرکے اسے بالآخر اپنی دھرتی سے باہر نکال کر آزادی حاصل کرکے ہی دم لیا۔

تاریخ بہت تلخ ہوتی ہے اور تاریخی سچائی کسی کا لحاظ نہیں کرتی ۔ آج یورپ تہذیب و تمدن، جمہوریت، انسانی حقوق، آزادی، مساوات، برابری انصاف میں دنیا بھر میں عظیم مقام رکھتا ہے۔ لیکن تاریخ میں یورپ اپنی کالی کرتوتوں کی وجہ سے بد نما داغ بھی اپنے ماتے پر سجائے رکھتا ہے ۔ یورپ میں جب بھی ابھار ہوا تو یورپی استعماریت نے ساری دنیا میں اپنے پنجے گاڑ دیئے دوسروں کی وسیع و عریض سرزمینوں پر قبضہ اور اپنی بحری طاقت کے بل بوتے پر یورپین استعمار نے ساری دنیا کو اپنے تصرف میں لیا۔ ایشیاء، افریقہ، جنوبی و شمالی امریکہ، کیئر بین ، اوشیانہ ان کے باجگزار و زیرنگیں ہوئے۔ یورپ کے ان استعماری طاقتوں کے درمیان اپنے مقبوضات کے لئے آپس میں خون ریز جنگیں ہوئیں لیکن جنگوں میں برطانیہ اپنی فوجی قوت خاص طور پر بحری طاقت کی وجہ سے کامیاب ہوئی۔

برطانوی استعمار نے بحر اٹلانٹک پر مکمل تصرف حاصل کی نارتھ امریکہ( موجودہ USA, کینیڈا، جزائر ویسٹ انڈیز وغیرہ اٹلانٹک پار) اس کے نوآبادیات قرار پائے۔ بحر اٹلانٹک پار کرنیوالا پہلا یورپی لوٹیرا کولمبس تھا۔ یہ قزاق اپنے حکومتوں کی سرپرستی میں دو بادبانی جہازوں کے ذریعے ہندوستان جانا چاہتا تھا۔ لیکن بحرالکاہل کی سرکش موجوں اور طوفانی ہواؤں نے انھیں گمراہ کرکے مایا تہذیب کی عظیم وسیع سرزمین پر پٹخ دیا۔ وہاں کے فرزندوں نے جب ان نواردوں اور ان کے بادبانی دیوہیکل کشتیوں کو دیکھا تو ان سے بے پناہ خوفزدہ ہوئے۔ کولمبس نے یہ سمجھا کہ وہ انڈیا پہنچ چکے ہیں اس لئے یہاں کے لوگوں کی سرخ رنگت کو دیکھ کر انھیں ریڈ انڈینز کہا لیکن بہت جلد انھیں معلوم ہوا کہ یہ ہندوستان نہیں بلکہ ایک اور وسیع و عریض سرزمین ہے اس لئے اسے نئی دنیا کہا۔ حالانکہ یہ سرزمین نئی دنیا نہیں تھی بلکہ اسی دنیا کا حصہ تھی جو کہ بحرالکاہل کے دوسری طرف واقع تھی ۔ اور یہاں کے باشندے ہزاروں سالوں سے اپنی تہذیب ، تمدن ،زبان ثقافت کے ساتھ آباد تھے۔ یہاں کوئی سلطنت بادشاہت نہیں تھی ۔یہ آزاد فضاؤں کے باسی اور آزاد قبائل کی سرزمین تھی۔ یہ مایا تہذیب کی سرزمین تھی۔

کولمبس کا یہ مشن اسپین کے بادشاہ کی خاص نگرانی اور معاونت کے ذریعے ہوا۔ کولمبس کے بادبانی جہاز 1492ء میں اٹلانٹک کے اس پار لنگر انداز ہوئے ان کے بعد تو گویا یورپین حملہ آوروں کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ لندن، پیرس، میڈرڈ، ویلز، مانچسٹر کے گندی اور سڑن زدہ گلیوں میں گھومنے والے بیروزگار، آوارہ گرد، بدمعاش، اٹھائی گیر، لچے لفنگے بھی ان بادبانی جہاز راں کمپنیوں میں بھرتی ہوکر مایا تہذیب کی عظیم وسیع و عریض پر فضا خوبصورت سرزمین میں قسمت آزمائی کیلئے وارد ہوئے ۔ اسپین، ڈچ، پرتگال، فرانس اور برطانیہ نے اپنی کالونیاں قائم کیں۔ سرزمین کے حقیقی وارثوں نے ہر جگہ ان قبضہ گیروں سے مقابلہ کیا۔ لیکن اپنی حربی کمزوریوں اور منتشر قوت کی وجہ سے شکست کھاتے رہے۔ چونکہ سرزمین کے یہ حقیقی فرزند اپنی آزاد فضاؤں میں آزادانہ اور پرامن قبائل میں زندگی گذار رہے تھے۔ لہٰذا یورپی حملہ آوروں کی چال بازیوں اور جنگی طاقت کے سامنے بے بس ہوکر رہ گئے۔ یورپین حملہ آوروں نے ان کی سرزمین کو پلانٹیشن میں تقسیم کردیا۔ اور ان پلانٹیشن پر سرزمین کے حقیقی وارثوں کو پکڑ کر غلام بناکر جابرانہ مشقت کرنے پر مجبور کردیا۔ سرزمین کے بہت سے باسی غلامی سے بچنے کے لیئے دور دراز پہاڑوں اور وادیوں میں نکل گئے۔ ان یورپی طاقتوں نے ان کا قتل عام شروع کردیا۔ یورپی حملہ آور اپنے ساتھ اپنی بیماریاں بھی لائے۔ چیچک، پلیگ، زردبخار وغیرہ ۔ سرزمین کے اصل وارثوں کی جسمانی مدافعتی نظام ان بیماریوں کو سہار نہیں سکی اور بہت بڑی تعداد میں ان خطرناک بیماریوں سے ہلاک ہوگئے۔

جنوبی امریکہ برازیل، ارجنٹینا وغیرہ میں اسپین پہلے سے ہی قابض ہو گیا ۔ مگر شمالی امریکہ کینیڈا ،موجودہ USA کیریبین، ویسٹ انڈیز میں برطانیہ نے کالونیاں قائم کی USA اور کینیڈا میں پلانٹیشن اور ویسٹ انڈیز اور دوسرے جزائر میں سونے،چاندی، ہیروں کی کانوں میں کام کیلئے افرادی قوت کی ضرورت ہوئی ۔ اس کے لئے برطانوی استعمار نے تاریخ کا گھناؤنا کردار ادا کیا ۔ مزید افرادی قوت کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ مایا تہذیب کے فرزند قتل عام میں ختم کردیئے گئے۔ ہزاروں یورپی بیماریوں سے ہلاک ہوئے اور جو تھوڑے بہت بچ گئے انہیں دور دراز علاقوں میں دھکیل دیا گیا۔ اب ان کی کمی کو پورا کرنے کے لئے آزاد افریقی باشندوں کو زبردستی پکڑ کر اغواء کرکے ان بادبانی جہازوں میں طوق و زنجیر پہنا کر اٹلانٹک کے اس پار پلانٹیشن مالکان کے ہاتھوں فروخت کیا جانے لگا۔

1525ء سے 1866ء تک 12millions افریقی غلام بناکر فروخت کر دیئے گئے۔ 1million راستے کی سختیوں اور تشدد سے موت کے منہ میں چلے گئے۔ جن کی لاشوں کو پتھر باندھ کر بحراٹلانٹک کی سرکش موجوں کے حوالے کر دیا گیا۔ ان مظلوموں میں ہر عمر کے مرد، عورتیں، بچے شامل تھے۔ ان غلام بردار جہازوں کا سفر triangular کہلایا جاتا ہے( یعنی سہہ راہی) برطانیہ سے افریقہ اور افریقہ سے امریکہ اور پھر برطانیہ۔

لیکن ایشیا میں برطانوی استعمار کا طریقہ واردات الگ تھا۔ چونکہ ایشیا میں ہزاروں سالوں سے مستحکم سلطنتیں اور بادشاہت قائم تھی ان کے زبان، ثقافت، مذاہب، معاشرت، مزاج مظبوط بنیادوں پر استوار تھے۔ ایشیاء میں یورپی استعمار کی نظریں خاص طور پر ہندوستان تھا۔ ہندوستان کو یورپی استعماری طاقتیں سونے کی چڑیا کہتے تھے جہاں دولت و خام مال کی بہتات تھی جس سے یورپی حکمرانوں کے رال ٹپکتے تھے۔ ہندوستان پہنچنے میں کامیاب ہونے والوں میں پہلا یورپی وارداتی پرتگال کے “واسکو ڈی گاما” تھے جو اپنی بادبانی جہاز کے ذریعے 1499ء میں کالی کتہ (کلکتہ)کے ساحل پر لنگر انداز ہوئے۔ مگر یہاں واسکو ڈی گاما کو کولمبس کے برعکس حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ کولمبس جب امریکہ پہنچے تو انھیں ایک وسیع و عریض سرزمین پر مایا تہذیب کے پرامن قبائل کا سامنا کرنا پڑا وہاں نجی ملکیت کا کوئی تصور نہیں تھا۔ زمین ان قبائل کی مشترکہ ملکیت تھی۔ سلطنت و ریاست کا کوئی نام و نشان نہیں تھا طبقات کی ایک بھی نشانی نہیں تھی۔ مگر برصغیر میں ریاست و سلطنت اپنی پوری قوت کے ساتھ موجود تھا۔ بادشاہت، دربار،مملکیت کے تمام ادارے موجود تھے۔ اس لئے واسکو ڈی گاما سوائے چند مراعات کے اور کچھ بھی نہیں کرسکا۔ یہ مراعات بھی ہندوستانی حکمرانوں کی اجازت سے تجارتی کوٹھی تھا اور کچھ بھی نہیں۔ لیکن اس عمل سے یورپ کے دیگر ممالک کیلئے راستہ کھل گیا اور پھر ڈچ، فرنچ، اور انگریز ہندوستان پہنچے اور تجارتی کوٹھیاں (کمپنی )حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

برطانیہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی بنیاد رکھی ان یورپی طاقتوں کے درمیان تجارت کے حصول کیلئے سخت مقابلے اور جنگیں ہوئیں لیکن برطانیہ نے دیگر ممالک کو ہندوستان سے بالکل بے دخل کر دیا۔ برطانیہ نے بڑی ہوشیار ی اور چالبازی سے ہندوستانی حکمرانوں کے درباری سازشوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ بالآخر ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان پر قبضہ کرکے بلا شرکت غیرے سارے ہندوستان کا مالک بن گیا۔

1857ء کی جنگ آزادی کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی اور اس کے اقتدار کا خاتمہ ہوا اور ہندوستان براہ راست تاج برطانیہ کے تحت آیا۔ اور پھر وائسرائے ہند حکومت برطانیہ کا خاص نمائندہ کہلایا جس کی وجہ سے ہندوستانیوں کو شراکت اقتدار کے ذریعے شامل کیا گیا اور ہندوستانی شہری برطانیہ کے بھی شہری قرار پائے۔ اس کے ساتھ ہی برطانیہ نے انڈین سول سروس کی بنیاد رکھ دی اور حکومتی مشینری و انتظام چلانے کے لئے سیکولر تعلیمی ادارے قائم کئے جہاں سے ہندوستانی گریجویٹ سول سروس کے امتحانات پہلے لندن اور بعد میں ہندوستان میں ان امتحانات میں کامیاب ہوکر اعلیٰ سرکاری ملازم بن گئے۔ انڈین آرمی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا، جہاں سے ہندوستانی آرمی کے اکیڈمک اداروں کے ذریعے کمیشن حاصل کرکے افسر بن گئے۔ پولیس کمشنری نظام ،اعلیٰ عدلیہ کا قیام اور ہندوستانی شہروں کو میٹروپولیٹن کا درجہ، جدید میونسپل اداروں کا قیام بمبئی، کلکتہ، مدراس اور بعد میں کراچی میں جدید پورٹ کا قیام رسل و رسائل کا اعلیٰ انتظام یعنی پورے ملک میں پکی سڑکوں، ریلوے کے ذریعے پورے ہندوستان کو تاریخ میں پہلی بار یکجا کرنا، جدید نہری نظام سے دریاوں کے پانی کو دور دراز علاقوں تک پہنچانا یعنی جدید زراعتی نظام، ملک بھر میں یونیورسٹیاں، کالجز، اسکول، میڈیکل و انجینئرنگ کی یونیورسٹیوں کا قیام، یعنی ہندوستان کو قرون وسطیٰ کے نظام سے نکال کر جدید ملک بنانا مگر یہ سب کچھ برطانوی مفادات کے لئے۔

لیکن یہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ جدید معاشرتی زندگی جدید خیالات کو جنم دیتی ہے اور جدید خیالات انسان کو بدل دیتے ہیں ۔ہندوستان میں بھی یہی ہوا اور اس جدید دور میں ہندوستان کی مکمل آزادی کیلئے اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندوستانیوں نے اپنے ملک کی آزادی کے لئے جدید بنیادوں پر سیاسی پارٹیاں تشکیل دیکر قومی آزادی کی تحریک کی شروعات کی۔

اب آئیے دیکھتے ہیں کہ اس زمانے میں برطانوی استعمار بلوچ وطن میں کیا کررہا تھا؟

بلوچ وطن صدیوں سے اہمیت کا حامل خطہ رہا ہے، اسکی جیو پولیٹیکل اور جیو اسٹریٹجک اہمیت ہر زمانے میں رہی ہے۔ کبھی اس کی یہ اہمیت وطن کے باسیوں کے لئے باعثِ رحمت مگر زیادہ تر باعثِ زحمت رہی ہے۔ آج بھی اسی طرح بلوچ وطن کی خصوصی اہمیت اس پورے خطے میں نمایاں ہے۔ انگریز استعمار بلوچ وطن کی اسی اہمیت کے پیش نظر اسے اپنے تصرف میں لانا چاہتا تھا۔ اسے خوف تھا کہ زار روس افغانستان سے ہوتے ہوئے ساحل بلوچ یعنی بحر بلوچ تک پہنچ جائے گا۔ اور اس کی ناکہ بندی کرکے اسکے وسیع مقبوضات ہندوستان اور عرب ممالک تک رسائی حاصل کرے گا ۔(یاد رہے اس وقت تک ایران میں تیل کی دریافت ہوچکی تھی ایگلو ایرانین آئل کمپنی کا قیام ہوچکا تھا اور ٹیلیگرام لائن بھی ہندوستان سے ہوتا ہوا بلوچ وطن سے گذر کر براستہ ایران یورپ تک عمل پذیر ہوچکا تھا) لہٰذا ان تمام مفادات کے لیئے بلوچ وطن پر قبضہ لازمی تھا۔

اس تمام صورتحال میں انگریز استعمار موقع کی تلاش میں تھا۔ وہ بلوچ مزاج سے بھی واقف تھا کہ بلوچ قوم اپنی سرزمین کے لئے ہر قربانی دے سکتا ہے۔ بلوچ مزاحمتی قوت اس کے راستے میں رکاوٹ رہی۔ بالآخر انگریز نے خان بلوچ میر مہراب خان بلوچ سے دوستی اور امن کا معاہدہ کیا۔ لیکن درپردہ برطانیہ مستقل اس کوشش میں تھا کہ بلوچ وطن پر مکمل اس کی عملداری ہو اس لیئے وہ درباری سازشیں کرتا رہا اور اسے بہت سے غداران وطن نے خان بلوچ میر مہراب خان کے متعلق جاسوسی کرتے رہے۔ بالآخر انگریز استعمار نے ساری تیاری کرکے ایک چھوٹے سے واقعے کو بنیاد بنا کر برطانوی دستوں پر خان نے حملہ کر دیا لہٰذا ایک بڑی فوج کے ساتھ برطانوی فوج نے قلات کا گھیراؤ کیا۔ تمام قبائلی سردار جان بوجھ کر خاموش تماشہ دیکھتے رہے۔ خان میر مہراب خان اپنے چند جانثاروں کے ساتھ برطانوی جارحیت کا مقابلہ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کر کے گل زمین کے اس عظیم فرزند نے اپنی فرزندی کا حق ادا کیا۔ میر مہراب خان شہید سچے وطن پرست تھے۔ 13 نومبر 1839ء اس عظیم ہیرو کا یوم شہادت ہے۔

وطن پرست خان کے بعد برطانیہ نے اپنے منصوبوں پر عمل کرنا شروع کیا۔ خدائیداد خان کو خان بلوچ سے خان قلات قرار دیا گیا اور پھر بلوچستان کے حصے بخرے کرنے شروع ہوئے مختلف وقفوں کے ساتھ منصوبوں پر عملدرآمد ہوئے۔ پہلا معاہدہ ہوا کہ برطانیہ خارجہ امور وغیرہ کا نگراں ہوگا اندرونی طور پر خان خودمختار حکمران ہوگا پھر انتظامی بلوچستان جہاں سرداروں کی عملداری ہوئی اور بعد میں سنڈیمن نے بلوچ سرداری نظام کو مورثی کردیا۔ سردار متعلق العنان حکمران بن گیا۔ برٹش بلوچستان یعنی لیز پر لئے گئے علاقے پھر بلوچستان کی مزید تقسیم ڈیورنڈ لائن اور بعد ازاں مغربی بلوچستان کا ایران کے حوالے کرنا۔ ڈیرہ جات وغیرہ پنجاب و سرحد کو دینا۔ جیکب آباد، کراچی سندھ کے لئے مخصوص اور منصوبے کے تحت بلوچ وطن کو جان بوجھ کر پسماندہ رکھنا۔

حیرت کی بات یہ کہ جس زمانے میں برطانیہ ہندوستان کو جدید بنارہا تھا اسی زمانے بلوچ وطن میں توڑ پھوڑ اور تباہی مچا رہا تھا ۔ دراصل اپنی نوآبادیات کی حفاظت کے لئے برطانیہ بلوچ وطن کو فوجی زون قرار دیکر اسے بفر اسٹیٹ بنادیا۔ لیکن ان سب کے باوجود برطانوی استعمار کے خلاف مزاحمت جاری رہی۔ آخر کار 11 اگست 1947ء کو برطانیہ نے تمام لیز علاقے وغیرہ واپس کرکے بلوچ وطن سے نکل گیا اور 11 اگست 1947ء کو بلوچ وطن مکمل آزاد ہوا۔ یہاں پوری تاریخ بیان کرنا مقصود نہیں بس اتنا کہنا کافی ہے کہ 27 مارچ 1948ء میں بلوچ وطن کے پڑوسی نومولود ملک پاکستان نے بزور طاقت قبضہ کرلیا۔

1776ء میں امریکی اعلان آزادی تحریر ہوا اور برطانیہ پورے براعظم امریکہ سے نکل گیا۔ USA ایک جدید جمہوری آزاد ملک کی حیثیت سے افق پر آیا جس نے 1866ء میں غلامی کے مکمل خاتمے کا اعلان کردیا۔ اور سارے افریقی آزاد امریکی شہری بن گئے۔ جنوبی امریکہ بھی اسپین اور پرتگال سے آزاد ہوگیا اور آزاد جدید ممالک وجود میں آئے وقفے وقفوں سے افریقی ممالک نوآبادیاتی شکنجے سے آزاد ہوتے گئے اور 1970ء کی دہائی تک سارے افریقی ممالک آزاد ہوگئے۔ کریبین اور ویسٹ انڈیز بھی آزاد ہوگئے اوشیانہ (آسٹریلیا ،نیوزی لینڈ وغیرہ )بھی آزاد ہوگئے برصغیر 1947ء اور ایشیا کے تمام ممالک 1945ء سے 1960ء تک آزاد ہوگئے۔

لیکن بلوچ وطن مختصر دورانیئے کے بعد یعنی 11اگست 1947ء سے 27 مارچ 1948ء تک آزاد ہوکر پھر ایک ایسے ملک کے قبضے میں چلا گیا، جس کی کوئی حیثیت نہیں تھی اور آج بھی نہیں ہے مگر اب 21 ویں صدی ہے اور بلوچ قومی آزادی کی تحریک گذشتہ 20 سالوں سے جاری ہے موجودہ بین الاقوامی اور خطے کی صورتحال سے بلوچ وطن کی آزادی کے امکانات روشن ہوچکے ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔