تربت میں منعقدہ یوتھ امن میلہ بلوچ نوجوانوں کے ذہنی استحصال کا منصوبہ ہے ۔ سہراب بلوچ

132

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی چئیرمین سہراب بلوچ نے جاری کردہ بیان میں پاکستان اور وائس آف بلوچستان نامی ادارے کی زیر نگرانی میں تربت میں منعقد یوتھ امن میلے کو نوجوانوں بالخصوص طالب علموں کے ذہنی استحصال کا منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست اور اس کے ادارے بلوچستان میں اپنے گھناونے جرائم کی پردہ پوشی کے لئے مختلف استحصالی منصوبوں کو دل جیتنے کی پالیسیوں سے نتھی کرکے بلوچ سماج میں اپنے پست اخلاقی مورال کو بلند کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسے استحصالی پروگرامز کا انعقاد کرنا بلوچستان میں بربریت کے نتیجے میں جنم لینے والی نفرت کو کم کرنے کی حالیہ طے شدہ منصوبوں کا حصہ ہیں کہ بلوچ نوجوانوں کو اپنے نو آبادیاتی پروگرامز سے منسلک کرکے مطلوبہ نتائج حاصل کیا جاسکے تاکہ ہمدردی اور دل جیتنے کی پالیسیوں کے ذریعے جاری اس نفرت کی فضا کو ختم کیا جاسکے۔

چئیرمین سہراب بلوچ نے اپنے بیان میں تربت امن میلے کو بلوچ طالب علموں سے زیادتیوں کا کھلا اظہار قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طرف ریاستی ادارے بلوچستان کے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بلوچ طالب علموں کو تعلیم جیسی نعمت سے محروم رکھنے کی پالیسیوں پر گامزن ہے اور دوسری جانب امن میلے کا انعقاد کرکے اپنے جرائم پر پردہ پوشی اور نوجوانوں کے ذہنی استحصال کے علاوہ اور کچھ نہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں طالب علموں کی ماورائے عدالت گرفتاری اور قتل کے واقعات کا رونماء ہونا، تعلیمی اداروں کو فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کرنا اور طے شدہ پالیسیوں کے تحت نو آبادیاتی نظام تعلیم و سوچ کو بزور طاقت مسلط کرنا ہے تاکہ اس طرز کے پروگرام سے بلوچ طالب علموں کی ذہنی صلاحیت اور سوچنے کی صلاحیت کو یکسر ختم کیا جاسکے۔

سہراب بلوچ نے کہا بولان میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر کا حالیہ بیان کہ ہاسٹلز میں ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث طالب علموں کی موجودگی دراصل ریاستی بیانیے کو تقویت فراہم کرنا ہے تاکہ طالب علم نو آبادیاتی تعلیم سے منسلک ہو کر اپنی قومی تاریخ، ثقافت ، تہذیب و تمدن کو فراموش کر بیٹھے۔

انہوں نے بلوچ نوجوان بالخصوص بلوچ طالب علموں کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے استحصالی منصوبوں سے خود کو دور رکھیں اور اتحاد و یکجہتی سے ریاستی منصوبوں کو ناکام بنانے کی جدوجہد کریں۔