بولان میڈیکل یونیورسٹی کے ہاسٹلوں کو کھولا جائے – پی وائی اے

45

پروگریسو یو تھ الائنس بلوچستان کے  ترجمان نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ بولان میڈیکل یونیورسٹی کے ہاسٹلز کی بندش قابلِ مذمت اقدام ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے طلبہ کی ہاسٹلوں سے بے دخلی و بندش سے طلبہ احتجاجی کیمپ میں رہائش پذیر ہیں، مگر یونیورسٹی انتظامیہ الاٹمنٹ کا بہانہ کرتے ہوئے اپنی من مانی کررہی ہے جوکہ قابل مذمت امر ہے، ہاسٹلوں کی بندش کی وجہ سے بولان میڈیکل یونیورسٹی کے طلباء و طالبات مجبوری کی وجہ سے احتجاجی کیمپوں میں رات گزارنے پرمجبور ہیں۔

 ترجمان نے کہا کہ یونیورسٹی طلبہ کے مطابق بولان میڈیکل یونیورسٹی عرصہ دراز سے انتظامیہ کی نااہلی کا شکار ہے، عید کی چھٹیوں سے قبل ری الاٹمنٹ کے نام پر طلبہ کو ہاسٹلوں سے بے دخل کردیا گیا تاہم چھٹیاں ختم ہونے کے بعد بھی ہاسٹل نہیں کھولے جارہے ہیں،گوکہ ہم بولان میڈیکل یونیورسٹی سمیت صوبے کے تمام تر تعلیمی اداروں میں ہاسٹلوں کی الاٹمنٹ میرٹ پر کرنے کی حمایت کرتے ہیں مگر ہاسٹلوں کی بندش انتہائی افسوسناک اقدام ہے جس کیلئے طلبہ کو مشترکہ جدوجہد کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

 ترجمان نے کہا کہ طلبہ کے مطابق عید کی چھٹیوں پر ٹکٹ نہ ملنے کے صورت میں کشمیر و اندرون بلوچستان کے طلبہ گھروں کو نہیں جا پائے جس کے باعث طلبہ نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ انہیں کمروں میں رہنے دے اور اپنی کاروائی کرے تاہم نااہل انتظامیہ نے پولیس کے ذریعے بدمعاشی کرکے تمام طلبہ کو کمروں سے بے دخل کرکے احتجاجی کیمپوں میں رہنے پر مجبور کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کے انتظامیہ کا طلبہ کے ساتھ رویہ بالکل بھی ٹھیک نہیں اس سے قبل کلاسوں کا دیر سے آغاز اور اب ہاسٹلوں سے بے دخلی نے طلبہ کی تعلیم کو شدید متاثر کیا ہے۔ 16 اگست سے فائنل ائیر کے طلبہ کا وارڈ بھی شروع ہوچکا ہے مگر ہاسٹل بند ہونے کی وجہ سے طلبہ وارڈ بھی نہیں لے پارہے ہیں۔

پروگریسو یوتھ الائنس نہ صرف بولان میڈیکل یونیورسٹی کے ہاسٹل کھولنے کا مطالبہ کرتا ہے بلکہ صوبے بھر کے تعلیمی اداروں میں ہاسٹلوں کی بندش اور غیر موجودگی کو طلبہ کے جائز حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف سمجھتا ہے۔ اس وقت بیوٹمز، سائنس کالج اور موسیٰ کالج میں ملک اور صوبے بھر کے کونے کونے سے آئے ہوئے طلبہ رہائش کے لیے ذلیل و خوار ہورہے ہیں مگر صوبے کے نااہل حکمران اور کرپٹ بیوروکریسی نہ صرف طلبہ کو ہاسٹل جیسی بنیادی سہولت دینے سے قاصر ہیں بلکہ اُلٹا جن اداروں میں برائے نام ہاسٹل ہیں ان میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اور ایک ہاسٹل میں تو باقائدہ ایف سی فورس قیام پزیر ہے۔ جبکہ سائنس کالج کا ہاسٹل کافی عرصے سے بند ہے جسکی وجوہات انتظامیہ کی جانب سے نہیں بتائی جا رہیں۔ اس کے علاوہ بیوٹمز جوکہ صوبے کی دوسری بڑی یونیورسٹی ہے، ہاسٹلز کی غیر موجودگی کی وجہ سے بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں اور ملک بھر سے آئے ہوئے طلبہ نجی ہاسٹلوں یا کرائے کے مکانوں میں رہائش اختیار کرنے پر مجبور ہیں۔

پروگریسو یوتھ الائنس اس سلسلے میں بلوچستان سمیت ملک بھر کے طلبہ سے اپیل کرتا ہے کہ وہ بولان میڈیکل یونیورسٹی کے ہاسٹل سمیت صوبے بھر کے قابلِ رہائش اداروں میں ہاسٹلوں کی مستقل فراہمی کے لیے جدوجہد کریں اور ان تمام تر مسائل کے حل کے لیے طلبہ یونین پر عائد پابندی کو بھی اپنی جدوجہد میں بنیادی مانگ کے طور پر شامل کریں تاکہ تعلیمی اداروں میں ہاسٹلوں سمیت دیگر اہم مطالبات کے لیے تمام تر تعلیمی اداروں کے فیصلہ جات میں طلبہ کی رائے شامل ہو۔ اس کے علاوہ صوبے کے اندر تعلیم کی زبوں حالی کا بھی نوٹس لینا انتہائی ضروری ہے۔