بلوچ نوجوان اور فدائی حملے ۔ چاکر بلوچ

170

بلوچ نوجوان اور فدائی حملے

تحریر۔ چاکر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ لبریشن آرمی کے ایک ذیلی شاخ مجید بریگیڈ کا نام دسمبر 2011 میں سننے کو آیا، جب درویش بلوچ نے ریاستی ڈیتھ اسکواڈ کے اہم کارندے شفیق الرحمن مینگل پہ اس کے رہائش گاہ پر ایک حملہ کیا، فدائی درویش بلوچ کا اصل نشانہ شفیق مینگل تھا لیکن بدقسمتی سے اس حملے میں شفیق مینگل بچ گئے لکین یہ حملہ کامیاب رہا حملہ اس وقت کیا گیا جب شفیق مینگل کے گھر میں اس کے کارندوں کی میٹنگ جاری تھی، جس میں ڈیتھ اسکواڈ کے اہم غنڈوں سمیت چالیس کے قریب لوگ جہنم واصل ہوئے، اسی طرح فدائی حملوں کا سلسلہ کچھ وقت کے لیئے روک دیا گیا تھا۔ 7 سال کے بعد یہ سلسلہ ایک نئی حکمت عملی کے ساتھ سامنے آنے لگا، اس وقت بی ایل اے کے حکمت عملیوں میں کافی تبدیلی آیا ہوا تھا، اب بی ایل اے کا نشانہ ریاستی کارندے یا ریاستی فورسزز نہیں بلکہ چین اور سی پیک تھے، اس بات کا بی ایل اے کے سابق سپریم کمانڈر شہید استاد اسلم بلوچ نے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں چین کو واضح الفاظ تنبیہہ کی تھی کہ وہ بلوچ سرزمین سے اپنے انخلاء کو شروع کر دیں، ورنہ مستقبل میں بلوچ آزادی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ سربازوں کا ہدف چین اور سی پیک ہونگے۔ اسی بات کو استاد اسلم بلوچ نے عملی طور پر ثابت کر دکھایا۔

گذشتہ سال 11 اگست 2018 کے دن چائنیز انجنیئرز کے قافلے پر بلوچستان کے علاقے دالبندین میں ایک فدائی حملہ ہوا، اس فدائی کا تعلق بھی بی ایل اے کے مجید بریگیڈ سے تھا اور وہ فدائی استاد اسلم بلوچ کا اپنا لخت جگر ریحان اسلم بلوچ تھا، فدائی ریحان بلوچ کے اس عمل نے لوگوں کو حیران کردیا اور یہ پیغام بھی دیا کہ بلوچ قومی جہد میں ہم سب جہدکاروں کی اہمیت ایک ہے، چاہے وہ کسی کمانڈر کا بیٹا ہو یا کوئی عام سپاہی کا۔ اس عمل نے ساتھ ساتھ استاد اسلم بلوچ کی بلوچ قومی تحریک کے ساتھ مخلصی کو بھی ثابت کردیا، بی ایل اے کے بیان کے مطابق ہمارے حملے دشمن کے خلاف مسلسل اور شدت سے جاری رہیں گی۔

اسی طرح تین ماہ بعد یعنی ماہ نومبر 2018 کے دوران دوسرا حملہ پھر سے پاکستانی شہر کراچی میں موجود چائنیز ایمبیسی پر ہوا جس میں بی ایل اے کے تین سرباز ساتھی فدائی رازق، فدائی رئیس اور فدائی ازل مری نے دشمن کے خلاف لڑتے ہوئے اپنے جانوں کا نذرانہ دے دیا اور انہوں نے اس بات کو ثابت کر دیا کہ جب تک بلوچ سرزمین کے حقیقی فرزند اس دھرتی پر موجود ہیں وہ اسی طرح اپنے وطن ،ساحل وسائل اور ننگ ناموس کی حفاظت بخوبی جانتے ہیں، ریاستی میڈیا نےان حملوں کا ماسٹر مائنڈ استاد اسلم بلوچ کو ٹہرایا اور ریاست پاکستان نے اپنے تمام ٹیکٹیکس کو استاد اسلم بلوچ تک پہنچنے میں لگانے اور استعمال کرنا شروع کردیا، بالآخر وہ اس میں کامیاب ہوگئے اور چائنیز ایمبیسی کے حملے کے عین ایک مہینے بعد استاد اسلم بلوچ کو افغانستان کے شہر قندہار میں ایک طالبان خودکش حملے میں اس کے چھ اہم اور قریبی ساتھیوں کے ہمراہ شہید کردیا۔

ریاست کی یہ خام خیالی تھی کہ استاد اسلم بلوچ کے شہادت کے بعد فدائی حملوں کا یہ سلسلہ ختم ہوگا جسے بلوچ سربازوں نے غلط ثابت کردیا، اس کے بعد بی ایل اے کا تیسرا ہدف گوادر میں موجود ایک فائیو اسٹار ہوٹل پرل کانٹی نینٹل ہوٹل تھا۔ اس پر حملہ اس وقت کیا گیا جب اطلاعات کے مطابق چائنیز اور پاکستانی حکام کی موجودگی کی اطلاع تھی۔ جس میں اس بار مجید بریگیڈ کے فدائی ساتھیوں کی تعداد چار تھی، جن میں فدائی اسد بلوچ، حمل بلوچ، فدائی کچکول اور فدائی کمانڈو نے مادر وطن سے وفاداری اور مخلصی کا ثبوت دیا یہ ایک کامیاب حملہ تھا، جس میں وطن زادوں نے دشمن کے 100 سے زائد افراد کو ہلاک کرکے آخر میں خود شہید امیر الملک کے فلسفے کو جاری رکھتے ہوئے آخری گولی کا انتخاب کیا، یہ لڑائی دشمن کے ساتھ چوبیس گھنٹوں تک جاری رہا۔

آخر میں میں اپنے مین پوائنٹ کی طرف آتا ہوں، یہ وہ نوجوان ہیں جو اپنے شعوری فیصلوں سے فدائی حملوں کا انتخاب کررہے ہیں، یہ لڑائی کوئی طالبانائزیشن یا مذہبی طرز کا لڑائی نہیںم جس میں جنت اور حوروں کا لالچ دے کر نوجوانوں کو برین واش کیا جائے آج ہمارے درمیان وہ نوجوان مجید بریگیڈ میں اپنا نام پیش کر رہے ہیں جو ہم سے عملی حوالے اور شعوری حوالے سے کئی گنا پختہ اور سنجیدہ ہیں، انہیں اس بات کا اندازہ بخوبی ہے کہ یہ واحد وہی راستہ ہے جس سے ہم دنیا اور بین الاقوامی سطح تک اپنی غلامی اور مظلومی کی آواز کو پہنچا سکتے ہیں، آج ہم ریحان ہو، رازق ہو یا رئیس ہو اس کی قابلیت پر شک نہیں کر سکتے ہیں، ان سنگتوں کا کردار اور عمل آپ سب کے سامنے ہے، آج شہید فدائی اسد عرف محراب ایک کیمپ کمانڈر کی ذمہ داری ہوتے ہوئے بھی فدائی حملے کا فیصلہ کرتا ہے تو ہم اس کو شعور کی انتہا سمجھتے ہیں، فدائی حملے آج ہمارے قومی ضرورت اور بلوچستان کے شہیدوں کے سوچ کے ساتھ اظہار یکجہتی ہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔