بلوچ سرزمین کو کسی صورت اقلیت میں تبدیل ہونے نہیں دینگے – نواب اسلم رئیسانی

136

چیف ا ٓف ساراوان وسابق وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ موجودہ سیاسی صورتحال میں بلوچ قوم پرست جماعتیں اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرے اگر بلوچ قوم پرست جماعتیں اکھٹے نہیں ہوئے تو تاریخ کبھی معاف نہیں کرینگی، اگر ہمارے دور حکومت میں بلوچستان کی ترقی اور عوام کے خدمت نہیں کرتے تو کیا نیب ہمیں چھوڑ تا تھا، نیب نے اب تک میرے فائل بند نہیں کیا اور نہ ہی ہمارے دوراقتدار میں وزراء کے فائلیں بند کئے گئے ہیں مگر تمام تر حالات کے باوجود نیب کو کچھ نہیں مل رہا کرپشن ہوتا تو ہم سب جیل میں ہوتے معاشی وصنعتی انقلاب کی بات تو لوگ کرتے ہیں مگر بلوچستان کی ترقی وخوشحالی کی بات آج تک کسی نے نہیں کی آبادی کی تناسب کو بگاڑنا نہیں چاہتے یہ بلوچ کی سرزمین ہے اقلیت میں تبدیل نہیں ہونے دینگے پشتون قوم پرست بھی محاز آرائی نہیں کرے بلکہ اپنے حقوق کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں ان خیالات کااظہار انہوں نے ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ بالکل غلط ہے کہ ہم زور آوری کیلئے ایوانوں میں آتے ہیں سیاست تو ہم لوگوں کیلئے کرتے ہیں تاکہ ان کے مسائل حل ہوسکے اور ہم سیاست نوابی وسرداری کیلئے نہیں بلکہ سیاست کا کام لوگوں کا خدمت کرنا ہے میرے حلقے میں کوئی بھی میرے مقابلے میں الیکشن لڑ سکتا ہے اور 2018کے انتخابات میں میرے چھوٹے بھائی نے حصہ لیا۔

انہوں نے کہا کہ ہم فیڈریشن میں ان تمام قوموں کے حقوق کیلئے جدوجہد کرتے ہیں جو فیڈریشن میں رہتے ہیں، ہم پانچ سال وزیر اعلیٰ رہیں اورگوادر کو کیپٹل سٹی قرار دیا ریکوڈ ک کے معاملے پر جدوجہد کی ہمیں بلوچستان کے مفادات کے خاطر اقتدار سے ہٹا یا گیا مگر اس کے باوجود بھی اصولوں پر سودا بازی نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ مخلوط حکومت کو پانچ سال تک چلا نابڑا مشکل کام ہے مگر میرے اور اتحادیوں کے درمیان ہم آہنگی تھی اس لئے پانچ سال تک حکومت کو چلانے کی کوشش کی۔ بلوچستان کے مقابلے میں ا سلام آباد اورپنجاب میں سب سے زیادہ کرپشن ہوتی ہے آئی ایم ایف نے اسلام آباد ایئر پورٹ،کراچی قاسم پورٹ،گوادر سی پورٹ سمیت تمام ان بڑے منصوبوں کو گروی میں رکھا ہے اور نظریں صرف پشتونوں اور بلوچستان پر لگے ہوئے ہیں ہم کرپٹ نہیں ہیں اسلام آباد والے ہم سے زیادہ کرپٹ ہیں۔ لوگوں کے مسائل حل کرنے سے اطمینان ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ہم عوام کے خدمت نہ کرتے تو نیب والے ہمیں نہیں چھوڑتے، نیب والوں نے اب تک ہمارے فائل کو بند نہیں کیا، نیب کو کچھ نہیں مل رہا ورنہ ہم سب جیل میں ہوتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ بلوچستان کی حقوق اور اصولوں کی سیاست کی ہے جس کی وجہ سے ہمیں سزا دی جارہی ہے۔

انہوں نے ریکوڈک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مائننگ کرنا اور ریفائنری بھی یہی کرنا ہوتا ہے، کاپر کمپنی سے بات چیت کی کوشش کی اور انکار بھی نہیں کیا مگر حق کی بات پر ڈٹے رہیں جہاں لوگ معاشی و صنعتی انقلاب کی بات کرتے ہیں ہم اس کے خلاف نہیں ہیں آبادی کے تناسب کو بگاڑنا نہیں چاہتیں یہ بلوچ کی سرزمین ہے اور کسی بھی صورت اقلیت میں تبدیل نہیں ہونے دینگے اضافی آبادی کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کرینگے یہاں ہر کسی کے چھوٹے چھوٹے مفادات ہیں اس لئے وہ سودا بازی کرتے ہیں۔

نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ بلوچ قوم پرستوں کو موجودہ سیاسی ماحول میں اکھٹے ہونا چاہیے ورنہ تاریخ ہمیں معاف نہیں کریگی اور ہم اچھی نظر سے نہیں دیکھے جائینگے۔ میں آزاد ہوں اس لئے تمام لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے حقوق کیلئے اکھٹے ہوجائے ان قوم پرستوں پر مختلف الزامات لگائے جاتے ہیں عوام کے مفاد میں اکھٹے ہونا چاہیے اور بات چیت کرنی چاہیے اتحاد نہ ہو مگر ورکر ریلیشن شپ ہونی چاہییے، دوستوں سے بات چیت ہورہی ہے محاذ آرائی نہیں ہونی چاہیے، پشتون قوم پرست بھی اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرے محاذ آرائی نہ کرے الزامات لگانے سے کسی کو کچھ نہیں ملے گا۔