بلوچستان کے تعلیمی اداروں کو باقاعدہ منصوبے کے تحت تباہ کیا جارہا ہے – بی ایس او

44

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی ترجمان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے ایک مخصوص سازش کے تحت بلوچستان کے تعلیمی اداروں کو تباہ کی جارہی جسکا بنیادی مقصد طلباء سیاست کے خلاف انتقامی سازشوں کو کو مزید تقویت دینا یے ان ہی سازشوں کے تحت بلوچستان یونیورسٹی سمیت دیگر تعلیمی اداروں کو تباہ کرکے طلباء کے خلاف مخصوص طریقے سے طلباء کے خلاف طاقت کا استعمال کی گئی آواز بلند کرنے پر طلباء کے خلاف مقدمات درج کئے گئے اب ان ہی سازشوں کا سلسلہ بولان میڈیکل یونیورسٹی میں شروع کی گئی یے تاکہ نام نہاد آلاٹمنٹ کے نام پر طلباء تنظیموں کے خلاف طاقت کے استعمال کو جواز فراہم کیا جاسکے اس حوالے سے وائس چانسلر کا پروپگنڈہ کہ ہاسٹل میں آوٹ سائیڈرز رہائش پذیر ہے جوکہ صرف منفی سازشوں کا حصہ یے ہاسٹل میں رہائش کرنا ہاوس جاب ڈاکٹرز کا بنیادی حق ہے کیونکہ نہ حکومت کی طرف سے انہیں رہاش کے مد میں کوئی فنڈ دی جارہی ہے نہ ہی کوئی ہاسٹل موجود ہے جبکہ ہر سال نئے آنے والے طلباء، طلباء تنظیموں کے بااہمی مشاورت سے ایڈجسٹ ہورہے یونیورسٹی انتظامیہ ہاسٹل کا ماحول خراب کرنے کے لئے الاٹمنٹ کا واویلا کررہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ بی ایس او طلباء کے احتجاج کی بھرپور حمایت کرتی یے اگر مسائل حل نہیں کئے گئے تو بلوچستان بھر میں شدید احتجاج کیا جائے گا ۔