امان اللہ زہری کس کی جنگ کا شکار؟ – برزکوہی

517

امان اللہ زہری کس کی جنگ کا شکار؟

تحریر: برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

دادا، پردادا، باپ، بیٹے، بھائی یا دیگر خونی، علاقائی، قبائلی اور قومی رشتوں کی وجہ سے کوئی کسی کی جب منفی و سیاہ، برے اور غلط اعمال و کردار اور سوچ پر مورودالزام اور گناہ گار نہیں ٹہرتا، اسی طرح پھر ان کے مثبت، بہترین تاریخی کردار اور قربانیوں کو بھی اپنے نام نہیں کرسکتا یعنی ہر ایک اچھا اور برا کردار و عمل اور سوچ اس کا اپنا ہی ہوتا ہے، دوسرے کا چرایا نہیں جاسکتا ہے اور نہ ہی اپنے نام کیا جاسکتا ہے۔

گذشتہ روز نامعلوم نہیں سب کو معلوم حملے میں قتل ہونے والے بی این پی کے رہنما میرامان اللہ زہری شہیدوطن نواب نوروز خان زہری کے فرزند تھے، اس بات سے انکار ممکن نہیں مگر باپ اور بیٹے کا کرداروعمل اور سوچ میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔ اب امان اللہ زہری کے کردار کا ذمہ دار و وارث نواب نوروز خان نہیں ہوسکتا اور نواب نوروز کے کردار و عمل اور سوچ کا ذمہ دار و وارث امان اللہ زہری بھی ہرگز نہیں ہوسکتا، خونی رشتے اپنی جگہ یہاں کردار و عمل اور سوچ کی بات ہوتی ہے اور اہم اور بنیادی چیز سوچ، کردار و عمل ہے اس کے بغیر تو انسان پھر انسان نما جانور ہی ہے۔

شہید وطن نواب نوروز خان زہری اپنی شہادت اور بیٹوں کی پھانسی تک ریاست پاکستان کے خلاف بلوچ ننگ و ناموس، غیرت و بقاء اور قومی دفاع کے لیئے لڑتا رہا، مگر میر امان اللہ زہری آخر وقت تک اسی ریاست کا وفادار و فرنبردار رہ کر اسی ریاست کی خدمت کرتا رہا اور اس کی غیر فطری فریم ورک و آئین و قانون کا پابند رہ کر زندگی گذارتا رہا، البتہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستانی دائرہ کار میں رہ کر پاکستانیت کا لبادہ اوڑھ کر پھر بلوچ قوم، بلوچستان یا بلوچ شہداء کا صرف نام لینا اور ان پر سیاست کرنا ہرگز شہداء کے فلسفے و حقیقی مقصد کو پایہ تکمیل تک پہنچانا اور حقیقی بلوچ قوم پرستی نہیں ہوسکتا بلکہ شہداء کے قربانی کے ساتھ، بلوچ قوم اور بلوچستان کے ساتھ دھوکا دہی ہوسکتا ہے۔ اس واضح فرق کو لیکر ہم کیسے اور کس طرح کہتے ہیں کہ میر امان اللہ زہری نواب نوروز خان کے فلسفے، سوچ اور کردار کو آگے بڑھا رہا ہے؟

دوسری بات، قبائلی مسئلے، قبائلی تنازعات، قبائلی جنگ، بلکل ایک وقت تھا کہ بلوچ قوم ایک مضبوط قبائلی معاشرہ تھا وہاں ننگ و ناموس، دفاع و بقاء، اقتدار، بلوچ کوڈ آف آنر اور زمینوں کی ملکیت کی خاطر قبائلی جنگیں ہوتی تھیں اور بلوچ بھی فخریہ طور پر یہ جنگ لڑرہے تھے مگر وہ اکیسویں صدی نہیں تھا اور بلوچ قوم کے سرزمین پر کوئی غیر قوم بھی قابض نہیں تھا مگر آج؟ اس وقت قبائلی روایات اور قبائلی جنگوں کا بنیادی اصول یہی تھا کہ جب کوئی غیر قوم بلوچ سرزمین پر یلغار کرتی اور قبضہ کرتا تو قبائلی دشمنی، آپسی اختلافات فوراً ختم کرکے غیر قوم کو حقیقی دشمن تصور کرکے اس کے خلاف متحد ہوکر لڑتے، مگر آج دشمن خود نام نہاد قبائلی جنگوں کے نام پر بلوچوں کو آپس میں لڑا کر کمزور کررہا ہے، پھر دشمن کی پیدا کردہ و تقسیم کردہ نام نہاد قبائلی جنگوں کو کیسے اور کس طرح ہم بلوچ قبائلی جنگ قرار دے رہے ہیں؟

جب رند و رئیسانی کی آپسی نام نہاد ریاستی پیدا کردہ قبائلی جنگ شروع ہوتا ہے تو رند کو کون سپورٹ کرتا تھا اور رئیسانی کو کون سپورٹ کرتا تھا؟ آج مینگل اور سناڑی کے آپسی نام نہاد قبائلی جنگ میں مینگل کو کون اور سناڑی کو کون سپورٹ کررہا ہے؟ اسی طرح اگر ثناء اللہ زہری اور امان اللہ زہری کی آپسی جنگ چل رہا ہے تو ثناء اللہ کو کون اور امان اللہ کو کون سپورٹ کررہا ہے؟ یہ حقیقت کسی سے بھی اب ڈھکی چھپی نہیں کہ ہر جگہ دونوں فریقین کے درمیان جنگ کو پیدا کرنے والا اور دونوں فریقین کو الگ الگ سپورٹ کرنے والا پاکستانی فوج اور خفیہ ادارے ہیں۔ پھر ہم کیسے اور کس طرح ان کو بلوچ قبائلی جنگ قرار دیتے ہیں؟ اگر ان کو بجائے بلوچ قبائلی جنگ کے ریاست کی بلوچوں کو تقسیم و بربادی کی جنگ قرار دیں تو بہتر نہیں؟ تاکہ عام بلوچوں کو بھی احساس ہو کہ یہ جو جنگ ہے، دراصل یہ ہماری قبائلی جنگ نہیں بلکہ ریاست کی مفاد کی جنگ ہے تاکہ عام بلوچ اس جنگ سے کنارہ کش ہوں۔

جب ہم خود اس ریاستی نام نہاد قبائلی جنگوں کو بلوچ قبائلی جنگ قرار دیتے ہیں تو لامحالہ عام بلوچ شعوری و لاشعوری بنیاد پر اس کا حصہ ہوتے ہیں اور اپنا قبائلی میار سمجھ کر اپنے قبیلے کا ساتھ دیتے ہیں، ابھی تک بلوچوں میں شعور کا وہ سطح نہیں، وہ یہ سمجھ لیں کہ آج قبائلیت خود ختم یا اپاہج ہوچکا ہے، اس کی واضح اور بڑی مثال بلوچوں کا سب سے بڑا قبیلہ مینگل اور اس کے مضبوط سردار یعنی سردار عطاء اللہ خان مینگل کا اپنا اعتراف ہے کہ بلوچ قوم میں اب قبائلیت ختم ہوچکا ہے، پھر باقی کیوں خوامخواہ قبائلیت کا چرچا و واویلا کرتے ہیں؟ جب بلوچ قوم و بلوچ سماج میں قبائلیت ختم یا اپاہج ہوچکا ہے پھر قبائلی جنگ کیسے اور کس طرح؟ ایک مردہ گھوڑے کو زندہ رکھنے کے لیئے آپ جتنا بھی تروتاذہ گھاس اس کے سامنے ڈال دیں، وہ زندہ نہیں ہوسکتا۔

کم از کم اس اکیسویں صدی و انفارمیشن ٹیکنالوجی اور شعور یافتہ دور میں قبائلیت، قبائلی سوچ، قبائلی جنگ، قبائلی اقدار و روایات اور قبائلی فخر کی بات کرنا سنگین مضحکہ خیزی کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے، یہ ایک تلخ حقیقت ہے کوئی مانے یا نا مانے۔

آج بحثیت بلوچ قوم ابھی تک ہمارے لیئے قومی فخر کے لیئے کچھ نہیں، پھر قبیلہ اور قبائلیت کی آج کیا اوقات، کیا حیثیت ہے؟ گوکہ آج قومی جنگ کے بدولت بحثیت بلوچ ہماری ایک پہچان بن رہی ہے مگر وہ بھی ابھی تک قابل فخر نہیں ہے، اگر کوئی آج یورپ و دیگر ترقی یافتہ قوموں یا ملکوں میں جاکر ان کے سامنے اپنا قبیلہ اور قبائلیت کی پرچار کرے اور اس پر فخر کرے تو پھر کیا وہ مضحکہ خیز اور بچگانہ حرکت نہیں ہوگا؟

ثناء اللہ زہری کو پاکستانی فوج نے بھرپور سپورٹ کرکے امان اللہ زہری کو قتل کروایا، اب ثناء اللہ زہری اور اس کے بندوں کو مزید ریاست کی وفاداری میں پیش پیش ہونا ہوگا، دوسری جانب اب امان اللہ زہری کے بیٹوں اور بندوں کو ریاست کیلئے مزید اپنی وفاداری پیش کرنا ہوگا تاکہ وہ ثناء اللہ زہری کا مقابلہ کریں اور دونوں کا وفاداری نبھانے، شاہ سے زیادہ شاہ کا وفادار ہونے کا واحد ذریعہ بلوچ قومی آزادی کے سامنے رکاوٹ اور بلوچ دشمنی ہوگا۔ ایسے کئی مثالوں کے علاوہ شہید لونگ خان مینگل کے بیٹے قمبر خان مینگل ایک واضح مثال ہیں۔ آخر کار سناڑی سے بچنے اور اس کے مقابلے کے لیئے ریاست کا آلہ کار بن گیا اور وہ ذریعہ و طریقہ بلوچ دشمنی کے بغیر ممکن نہیں تھا اور آج پورا پورا بلوچ دشمنی پر اترآیا ہے۔

کہنے کا مطلب، یہ قبائلی جنگیں نہیں بلکہ قبائلی جنگوں کے روپ میں ریاست کی طرف سے بلوچ مزاحمت کو کاؤنٹر کرنے کی جنگ ہے، ان کو قبائلی جنگ کہنا، سمجھنا، خود ریاست کے موقف، ایجنڈے اور بلوچ دشمنی پر مبنی پالیسی کو لاعلمی اور غیر دانستہ بنیاد پر تقویت اور بڑھاوا دینے کی مترادف ہوگا اور سادہ لوح بلوچوں کو خود اپنے ہاتھوں اس ریاستی جنگ کا حصہ بننے کی طرف مائل کرنا ہوگا۔ جب تک بلوچ سرزمین پر قابض دشمن کے قدم جمے ہونگے، اس وقت تک ہر حالت میں یہ بلوچوں کی تقسیم کی پالیسی نام نہاد قبائلی جنگوں کی شکل میں موجود ہوگی، یہ مسئلہ اس وقت ختم ہوگا، جب قابض کا قبضہ ختم ہوگا اور قابض کا خاتمہ قومی جنگ میں پوشیدہ ہے، اس قومی جنگ پر توجہ ہو۔

کاش آج میر امان اللہ زہری اپنے شہید والد نوروز خان اور شہید بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے تاریخ میں امر ہوتا مگر وہ اس جنگ کا حصہ بنا جس کا فائدہ بلوچ قوم اور بلوچستان کو نہیں بلکہ پہلے بھی ریاست پاکستان کو ہوا ہے اور آگے بھی ریاست پاکستان کو ہی ہوگا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔