آتشین اسلحہ کے گھوڑے پر رکھی ہوئی انگلی – منظور بلوچ

225

آتشیں اسلحہ کے گھوڑے پر رکھی ہوئی انگلی

 تحریر : منظور بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

وہ جو پہلی گولی چلی، اس کے اثرات کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا، وہ شخص جو خضدار میں تھا، کوئٹہ میں، رحیم یار خان میں، پتوکی میں، کراچی میں، کوہلو میں، نال میں، قلات میں، وڈھ میں، مشکے میں ، تربت میں، ڈیرہ بگٹی میں، گوجرانوالہ میں، لاڑکانہ میں، کسی کو یہ احساس تک نہیں ہوا، کہ اس ایک گولی کے پیچھے کتنی اور ہزاروں گولیاں چلیں گی؟ اور تو اور جس نے بھی یہ گولی چلائی، اسے بھی اندازہ نہیں تھا، کہ یہ ایک گولی نہیں، ایک ایسا ناسور ہے، جو برسوں تک رستا رہے گا، نہ جانے کتنے گھرانے اجڑ جائیں گے، نہ جانے کتنی لاشیں اٹھانا پڑیں گی، اس ایک گولی چلانے والے کے ماسٹر مائنڈ کو بھی یہ درک نہیں تھا کہ یہ ایک گولی نہیں، ایک ایسی بلا ہے، جو زندہ انسانوں کو لاشوں میں بدل دے گی، پورے معاشرے کو نگل لے گی، مرنے والوں کے رشتہ دار اپنے پیاروں کے وجود کے جلے، کٹے ٹکڑوں کو پلاسٹک کی تھیلی میں ڈال کر دفنائیں گے، اسے پتہ نہ تھا، کہ اس کی راہ میں ایک نہیں درجنوں سانحات جنم لیں گے، غریبوں کے ساتھ ساتھ اشرافیہ کے بعض لوگ بھی اسکا نشانہ بنیں گے، بہت سے نوجوان کاربن بن کر تحلیل ہونگے، اس گولی کے بعد جو واقعہ اخبارات میں چھپا، ان میں سے کتنوں کو پتہ تھا، کہ وہ بھی اس کی زد میں آئیں گے، چونکہ واقعہ غیر معمولی تھا، اس لیئے اسکو اخبارات میں بڑی تعداد میں پڑھا گیا، اس روز یہ “ٹاک آف دی ٹائون” تھا۔

جس کسی نے پڑھا، کوئی نہ کوئی تبصرہ تو کیا ہوگا، ان میں سے کتنے اس پہلی گولی کا رزق بنیں گے، کسی کے ذہن میں آئے بھی تو کیسے، ایک شخص راجن پور میں بیٹھا، کیونکر یہ سوچ سکتا ہے کہ کوئیٹہ میں چلنے والی گولی آگے چل کر اس کی جان بھی لے گی، بہت سے صحافیوں نے اس پر تبصرے بھی کیئے ہونگے، لیکن انکو کیا پتہ کہ یہ ایک گولی ہی نہیں، انکی غیر طبعی موت کا اعلان بھی ہے، اس وقت بڑے سے بڑا سیاسی تجزیہ کار بھی اس حد تک سوچنے سےقاصر تھا، کہ یہ ایک گولی کتنے سانحات کو جنم دے گی، صحافی مارے جائیں گے، سیاستدان قتل ہونگے، وکلا کا قتل عام ہوگا، پولیس کیڈرز مارے جائیں گے، درینگڑھ جیسے سانحات جنم لیں گے، بارگاہوں میں خون ہی خون ہوگا، مسجدیں بھی محفوظ نہیں ہونگی، سیاسی، قبائلی اقدار کا بھی قتل ہوگا۔
کسی بیوپاری کو جو سیاستدان، نام نہاد دانشور، نام نہاد صحافی، پروفیسر، وکیل، ایم پی اے، ایم این اے، سینیٹر، بزنس مین، مافیا، سمگلر، ڈرگ سمگلر، عام شوروم والے، کو بھی پتہ نہیں تھا کہ ان کے وارے نیارے ہو جائیں گے، اقلیتی گروپ سے تعلق رکھنے والے وزیراعلی بن جائیں گے، ایک عام کاروباری نگران وزیر اعلی، ایک مترجم یا گائیڈ کی حیثیت رکھنے والا سینیٹر بن جائیگا، ایک ایسا شخص جو سیاست کی الف بے سے واقف نہیں، یا جو اپنے حلقے سے کونسلر بھی منتخب نہیں ہو سکتا، چئیرمین سینٹ بن جائیگا، اور اس سے دلچسپ یہ کہ اسکی کرسی کو بچانے کے لیئے اربوں روپے خرچ ہو جائیں گے، پانچ سو ووٹ لینے والا نہ صرف ایم پی اے بنے گا، بلکہ وزیر اعلی بھی منتخب ہو جائے گا، راتوں رات بلوچستان میں ایک پارٹی بنے گی، اور الیکشن سے چند روز قبل جنم لینے والی یہ جماعت، جسکا منشور بھی دوصفحات پر ہوگا، اتنی مقبول ہوجائے گی کہ انتخابات میں اکثریت حاصل کرے گی، بلکہ وزیر اعلی بھی اسی جماعت سے ہوگا۔

میروں، سرداروں کی برسات ہو جائے گی، جس طرح کہ بارشوں کے بعد طرح طرح کے حشرات الارض جنم لیتے ہیں، اسی طرح قبائلی معتبرین کا جنم ہوگا، یہ میر اتنے طاقتور ہونگے، کہ کوئی ان کے سامنے دوران فیصلہ، بولنے کی جرات نہیں کرسکے گا، ان میروں میں نرسنگ اردلی، بی اینڈ آر کے قلی، کسی دفتر کے کلرک بھی شامل ہونگے، وہ جنکی وجہ شہرت چھوٹی چھوٹی چوری چکاریاں ہونگی، وہ بھی وزیر ہونگے، وہ میر، جو نرسنگ اردلی ہیں، وہ اپنے علاقے کے کمشنر تبدیل کرانے کی طاقت رکھتے ہونگے، ایسے میر چھوٹے چھوٹے شہروں میں جس دکان پہ جائیں گے، قیمت دیئے بغیر چیزیں سمیٹ لیں گے، اور جو دکاندار اشیاء کے پیسے مانگنے کی جرات کرے گا، میر صاحب کے غنڈے اسکو بیچ بازار ایسا سبق دیں گے کہ وہ آئیندہ پیسے کی مانگ کی جرات نہیں کرسکے گا، آر سی ڈی شاہراہ کے کنارے کمانے والے ہوٹل انڈین فلموں کی طرح ہفتہ دیں گے۔۔۔۔ پھر کوئیٹہ کراچی جانے والی کوچز بھی ہفتہ دیں گی۔

کوئی نہیں جانتا کہ وہ پہلی گولی مستقبل میں اور کتنے گل کھلائے گی، کیونکہ معاملہ ابھی تھما نہیں، بلکہ اب تو یہ گول دائرے میں سفر جاری رکھے ہوئے ہے، کیونکہ معاملات حل ہونے کی طرف آ ہی نہیں رہے۔

اگر آپ کو یاد ہوگا کہ جب پرویز مشرف 12 اکتوبر 1999 کو آقتدار پر قابض ہوا تو پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا کے مقابلے میں بلوچستان سب سے پر امن تھا، لوگ آدھی رات کو بھی وزیر اعلی ہائوس والی سڑک سے گزرا کرتے تھے، کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا، کہ ایک ایسی آگ لگے گی، جو نہ صرف کوئیٹہ بلکہ پورے بلوچستان کو تبدیل کر دے گی، اور اسکی تپش کے اثرات اسلام آباد کے ایوانوں میں بھی محسوس ہوگی۔

کسی کو پتہ نہیں ہوگا کہ ایک بہت بڑا بحران ہمارے لیئے منتظر ہے، اور اس کے اثرات سو سالوں تک رہیں گے۔

سانحات کا ایک سلسلہ جنم لیگا، جن کے مختلف محرکات ہو سکیں گے، یا کثیر المفاد سانحات بھی ہونگے، اور ان سانحات کو زخموں کے بیوپاری اپنے طریقے سے بیچیں گے، سیاسی پارٹیاں اور سیاسی شخصیات بھی اصل حکمرانوں سامنے اپنی شراکت داری کے لیئے بلوچ کارڈ استعمال کریں گے، ان رستے ہوئے زخموں کی سودا گری کرکے لکھنے والے ایوارڈز مانگیں گے، مراعات مانگیں گے، کیونکہ ہمارے ہاں زخم بھی بکتے ہیں، سانحات اور انسانی المیوں کا بیو پار بھی ہوتا ہے، دانشوروں او صحافیوں کے وارے نہارے ہوگئے۔ اگر کوئی تحقیق کرنا چاہے، تو اسے معلوم ہوگا کہ بلوچستان میں دو عشروں سے جاری انسانی المیوں نے کتنی تعداد میں اور کتنے لوگوں کو کروڑ پتی اور ارب پتی سیٹھوں کی صف میں شامل کر دیا ہے، وہ سارے صحافی جن کے پاس کل تک موٹر سائیکل تک نہ تھی، اگر تھی بھی، تو عجوبے سے کم نہیں ہوگی، آج وہ صحافی شاہانہ زندگی بسر کر رہے ہیں، کل تک جو سرداروں کے باڈی گارڈ یا کسی ایم پی اے کے بیرون ملک ترجمان ہوتے تھے، آج وہ بلوچستان کے مقدر کے فیصلے کرتے ہیں، ہر قبیلہ میں متوازی سرداروں نے جنم لیا ہے، گویا میروں، سرداروں کی بارات آگئی ہے، ہر ایک میرنے جرائم پیشہ جتھہ بناکر ایک وتاخ میں بیٹھ کر چہارم لیکر جج کے فرائض انجام دینے شروع کر دیئے ہیں، مجال ہے کہ ان کے فیصلوں کو چیلنج کیا جاسکے، درجنوں لوگوں کے قاتلوں، کی بیٹھکوں میں فیصلے ہوتے ہیں، اگر یہ انگوٹھا چھاپ نہ ہوتے، تو شاید انکی بیٹھکوں میں قانون سازی بھی ہو رہی ہوتی۔

ان دو عشروں میں مرتے ہوئے نیم قبائلی نظام کو ایک نئی زندگی دے دی گئی، سنڈیمن نے سردار کو موروثی بناکر بلوچوں پر مسلط کیا، لیکن حالیہ عرصے میں اس قبائلی نظام کا حلیہ ہی بگاڑ دیا گیا، قبائلی نظام کو وہ کپڑا بنا دیاگیا، جہاں سے اسے رفو کرنا تھا، وہاں ایک بے ڈھنگا اور عجیب و غریب رنگ کا پیوند لگایا گیا، اور جس کے حصے میں جہاں سے قبائلی نظام کی چادر ہتھے لگی، اس نے اپنی فہم اور اناڑی پن سے گل کاریاں کیں، اور بلوچوں کا یہ قبائلی نظام “سندھی رلی” بن گیا۔

اور سب سے قابل رحم صورت یہ کہ بلوچوں کے تمام ری کگنائزڈ نوابوں اور سرداروں نے بھی اسے مقدر سمجھ کر تسلیم کیا، کم از کم میں نے اب تک یہ بات نہیں سنی کہ قبائلی نظام کو فقیر کا کمبل بنانے پر کسی نے اسکی مذمت یا احتجاج کیا ہو، یا بلوچوں کے نوابوں اور سرداروں نے قبائلی نظام کی اس درگت بنائے جانے پر آپس کا کوئی احتجاج طلب کیا ہو، شاید وہ بھی یہ جان گئے ہیں کہ قبائلی نظام اب آئوٹ آف ڈیٹ ہو چکا ہے۔

خیر، قبائلی نظام کس طرف جا رہا ہے، اس سے زیادہ اہمیت کی حامل یہ بات ہے کہ اس عرصہ میں بلوچ کوڈآف کنڈکٹ اور قبائلی اقدار پر بھی اچھی خاصی ضرب لگائی گئی، بلوچ روایات کے امینوں نے بھی اس پر کوئی بات نہیں کی، یا سب یہ سمجھ رہے ہیں کہ اب کسی بات پر بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ لیکن آگے چل کر ہم یا ہماری نسلیں اسکی جو قیمت ادا کریں گی؛ وہ روح فرساں ہوگی۔

ان دوعشروں میں برادر کش اور بیوپاری بلوچوں کے پاس پیسہ بھی آیا، یہ ستر سالوں کی شاید سب سے اہم بات ہے کہ غربت کے ماروں اور عرصوں سے محروموں کے پاس پیسہ آیا، تو اسکی نفسیات نو دولتیوں کی سی ہو گئی، پہلی مرتبہ کسی حد تک میروں کے علاوہ، ملازم طبقہ جس میں بیوروکریسی سے لیکر پروفیسر صاحبان تک شامل ہیں، قیمتی گاڑیوں میں بیھٹنے لگے، بنگلوں کے مالک بنے، دیسی مشروب سے شی واز ریگل اور بلیک ڈاگ تک پہنچ گئے، یہ آنے والی نئی نئی دولت بتا رہی ہے کہ بلوچوں میں موقع پرستی بہت تیزی کے ساتھ سرایت کرتی جا رہی ہے، ہر ذہین نوجوان اپنی کلاس تبدیل کرنے کے لیئے نصابی تعلیم حاصل کر رہا ہے، یہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے والے گریڈوں اور الائونسز کے مزے سے بھی واقف ہوگئے ہیں، اونچ، نیچ کے بھی قائل ہیں، اور اپنی نجی محفلوں میں بلوچ نیشنلزم کو نیچا دکھانا ان کی فیشن بن گیا ہے۔ اور یہ خود کو عقل کل اور عوام کے اپنے آپ کو ہمدرد بھی سمجھتے ہیں۔
بات کا آغاز اس پہلی گولی سے ہوا تھا، جس نے بلوچستان کو بہت سے عوامل اور اسباب کی وجہ سے تبدیل کردیا ہے، مشرف اور امیرالملک مینگل کے بلوچستان سے قبل کا بلوچستان بہت مختلف تھا۔

پرسکون اور پر امن بلوچستان کو خاک و خون میں لت پت کرنے کے لیئے جو پہلی گولی چلائی گئی، وہ صرف ایک گولی نہیں، ایک جانب سینکڑوں گھرانوں کو اجاڑنے اور دوسری جانب انسانی المیوں کے بیوپاروں کے لیئے ایک جنت بن گئی۔ کوئی اپنے پیاروں سے ہمیشہ کے لیئے بچھڑ گیا، اور کوئی روکھی سوکھی روٹی سے اربوں پتی بن گیا،
یہ جہاں زندہ انسانوں کے لیئے جہنم بن گیا، وہاں یہ بے ضمیروں کے لیئے جنت بن گیا۔

وہ شخص جو اپنی ٹارگٹ کا نشانہ لینے کے لیئے پوری طرح چوکس تھا، اور اسکی انگلی آتشیں ہتھیار کے گھوڑے پر تھی، اسے معلوم ہی نہیں تھا کہ ایک سیکنڈ کے بعد جس بلوچستان میں وہ موجود ہے، یہ بلوچستان نہیں رہے گا، قاتل ایسی تمام سوچوں سے کوسوں دور تھا، اور اس نے پہلی گولی چلادی، اس کے بعد یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے نامزد چیف جسٹس جسٹس میر محمد نواز مری ہائی کورٹ جاتے ہوئے زرغون روڈ پر قاتلانہ حملے کا نشانہ بن چکے تھے۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔

SHARE
Previous articleعید کی خوشی اپنوں کی یاد میں – عمران بلوچ
Next articleگیارہ اگست تجدید عہد کا دن ہے – بی این ایم
منظور بلوچ
بلوچستان کے ضلع قلات کے علاقے بینچہ سے تعلق رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر منظور بلوچ اس وقت بلوچستان یونیوسٹی میں براہوئی ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین ہیں۔ آپ نے براہوئی زبان میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے، اسکے علاوہ آپ ماس کمیونیکیشن میں ماسٹرز اور ایل ایل بی بھی کرچکے ہیں۔ آپکے براہوئی زبان میں شاعری کے تین کتابیں، براہوئی زبان پڑھنے والے طلباء کیلئے تین کتابیں اور براہوئی زبان پر ایک تنقیدی کتابچہ شائع ہوچکا ہے۔ منظور بلوچ بطور اسکرپٹ رائٹر، میزبان اور پروڈیوسر ریڈیو اور ٹی وی سے منسلک رہ چکے ہیں۔ آپ ایک کالم نویس بھی ہیں۔ آپ بطور صحافی روزنامہ مشرق، روزنامہ رہبر، روزنامہ انتخاب، روزنامہ آزادی، روزنامہ آساپ، روزنامہ ایکسپریس نیوز میں بھی کام کرچکے ہیں اور آپ ہفتہ وار سالار کوئٹہ کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ دی بلوچستان پوسٹ میں بلوچستان کے سیاسی اور سماجی حالات پر باقاعدگی سے کالم لکھتے ہیں۔