کوئٹہ: پرانے کاریزات سے لاشوں کا ملنا تشویشناک ہے – بی این پی مینگل

76

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنماﺅں نے میاں غنڈی کے پرانے کاریزات سے اب تک پانچ ناقابل شناخت نوجوانوں کے لاشوں کی برآمدگی پر گہرے دکھ وتشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ انسانی حقوق کمیشن کے تنظیموں سمیت سیاسی پارٹیوں سول سوسائٹی سے نوٹس لینے اور آواز بلند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں آئے روز ایسے دلخراش واقعات کا نہ رکنے والا سلسلہ تاحال جاری ہے ۔

بی این پی راہنماؤں نے لواحقین کے ساتھ گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بی این پی اس مشکل گھڑی میں متاثرہ خاندانوں کے غم و دکھ و تکلیف میں برابر کے شریک ہیں

انہوں نے کہا کہ ان کاریزات سے اب تک پانچ نوجوان جن میں امتیاز لہڑی محمد، اسحاق بنگلزئی، محمد مدثر کرد، بلال کاسی کے مسخ لاشیں مل چکی ہیں جبکہ ایک نوجوان کی ناقابل شناخت سول ہسپتال کے مردہ خانے میں پڑی ہوئی ہے ان نوجوانوں کی عمریں 14سے 20 سال تک تھی جنہیں دوستی کا جھانسہ دیکر نہایت ہی بے دردی سے قتل کیا گیا جوکہ بلوچستان کے موجودہ گھمبیر سیاسی صورتحال پر سوالیہ نشان ہے اور بلوچستان میں ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایسے گھناﺅنی ہتھکنڈوں کے ذریعے نہتے معصوم و بے گناہ نوجوانوں کو اذیتیں دیکر قتل کیا جارہا ہے اور صوبے میں خوف وہراس کے ماحول کو پروان چڑھایا جارہا ہے ان واقعات کی اصل محرکات اور سہولت کاروں کی عدم گرفتاری، سامنے لانے پر حکومتی و انتظامی خاموشی بہت سے سوالات کوجنم دیتا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ اس سے قبل سول ہسپتال کوئٹہ سے درجنوں ناقابل شناخت لاشوں کو لاوارث قرار دیکر دشت ضلع مستونگ کے علاقے میں دفنا دیا گیا جن کی آج تک ڈی این اے ٹیسٹ تک نہیں کروائے گئے اور کسی کو یہ پتہ نہیں ہے کہ وہ کون ہیں؟ بلوچستان میں پہلے سے لاپتہ افرادکی گمشدگی سیاسی کارکنوں وکلاء، ڈاکٹروں، پروفیسر صحافی برادری، اساتذہ اور قبائلی عمائدین کے ٹارگٹ کلنگ، مذہبی انتہاء پسندی، فرقہ واریت اور دہشت گردی کے سانحات اپنے جگہ پر موجود ہیں اس تناظر میں میاں غنڈی کے پرانے کاریزات سے نوجوانوں کی لاشوں کی برآمدگی نے اہلیان بلوچستان کو کرب اور ذہنی کیفیت سے دوچار کردیا ہے کہ وہ کون سے وباء جو بلوچستان کے لوگوں کو لاحق ہوا ہے جو کہ آئے روز نئے دلخراش واقعات کی صورت میں رونماء ہوتے جارہے ہیں ۔

رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں اپنے عروج پر ہیں اور ان واقعات کی روک تھام اور ان کے اصل محرکات اور اس میں ملوث عناصر کو سامنے لانے کے لئے عدلیہ از خود نوٹس لے تاکہ بلوچستان کے بے گناہ نہتے معصوم نوجوانوں کی اس بے دردی سے زندگیوں کو اجاڑا نہ جائے مذکورہ کاریز کی واقعات کے بعد بلوچستان کے لوگوں کو یہ خدشے کا سامنا ہے کہ اس کاریز سمیت دیگر کاریزات اور کنوﺅں میں بھی ایسے نوجوانوں کے لاشیں ہونگے کہی ایسا نہ ہو کہ بلوچستان میں زندگیوں کو ختم کرنا ایک کاروبار کی شکل اختیار نہ کیا ہو اور جو لوگ لاپتہ ہیں کیا پتہ ان کے ساتھ یہ گھناﺅنی کھیل نہ کھیلا گیا ہو۔

انہوں نے کہا کہ بی این پی بلوچستان کی موجودہ سیاسی صورتحال سے بخوبی آگاہ ہے اور پارٹی کی قیادت کی بلوچستان میں رونما ہونے والے واقعات و حالات پر گہری نظر ہیں یہی وجہ ہے کہ بی این پی کا روز اول سے یہ اصولی موقف ہیں کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے اور مذاکرات کے ذریعے ہی سے اس مسئلے کو حل کیا جاسکتا ہے تشدد سے نفرتیں جنم لینگی جوکہ کسی بھی فریق کے لئے سود مندثابت نہیں ہونگے سیاسی اور جمہوری انداز میں بلوچستان کے معاملات اور بلوچستان کے شہریوں کے بنیادی حقوق کا احترام اور تسلیم کرکے معاملات کو بہتر کیا جاسکتا ہے-

انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی نے وقتی اقتدار مراعات مفادات کے بجائے اقدار کو اولیت دیکر بلوچستان کے درپیش دیرینہ جملہ مسائل کو اولیت دیکر جن میں چھ نکات کی مشروط طور پر مرکزی حکومت کے سامنے رکھا ہے ان میں لاپتہ افراد کی بازیابی سہر فہرست ہیں، گوادر میں قانون سازی مرکزی محکموں میں چھ فیصد کوٹہ ساحل وسائل پر صوبے کی حق حاکمیت تسلیم کرانا افغان مہاجرین کی باعزت انخلاء سمیت ترقیاتی منصوبے شامل ہیں جنہیں ماضی میں نظر انداز کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور حکمرانوں نے بلوچستان کو گھمبیر سیاسی اقتصادی سماجی مسائل سے دوچار کر رکھا ہے ۔