چونسٹھ کی بساط پر بلوچ کا خانہ؟ – برزکوہی

215

چونسٹھ کی بساط پر بلوچ کا خانہ؟

تحریر: برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

بلوچ قومی آزادی کے لیئے برسرپیکار مسلح تنظیم بلوچ لبریشن آرمی پر امریکی اسٹیٹ ڈیپارمنٹ کی طرف سے پابندی یعنی کالعدم قرار دینا، متحدہ عرب امارات سے سیاسی و انسانی حقوق کے کارکن راشد حسین بلوچ کو گذشتہ سال کراچی چینی قونصل خانے کا مرکزی ملزم قرار دیکر پاکستان کے حوالہ کرنا، بدنام زمانہ مذہبی و انتہاء پسند دہشت گرد، پاکستان کے پالتو دہشتگرد اور خاص کر ممبئی حملوں کا ماسٹر مائینڈ حافظ سعید کی پاکستان میں گرفتاری، جس کی سر کی قیمت امریکہ 10 کروڑ ڈالر رکھ چکا تھا، وہ بھی عین اسی وقت جب چند گھنٹے بعد بھارتی شہری کلبھوشن کو عالمی عدالت کی طرف سے قونصلر رسائی اور پاکستان کو اپنے موقف پر نظرثانی کا فیصلہ سنانا وغیرہ وغیرہ۔

اگر ہم بلاجھجک یہ کہہ دیں کہ یہ پیچیدہ گریٹ گیم میں جو کچھ ہورہا ہے اور مزید جو کچھ ہونے کی توقع ہے، اس کے تانے بانے براہے راست خطے میں بہت اہم اور حیران کن تبدیلوں کی طرف واضح اشارے ہیں، خاص طور پر مڈل ایسٹ میں چین اور امریکہ کا اثر ورسوخ بڑھانے اور معاشی و عسکری جنگ میں ایک دوسرے کو مات دینے اور کامیابی حاصل کرنے کی تگ و دو ہیں اور اس سارے عالمی چکروی میں خطے میں 9 الیون کے بعد 18 سالہ کٹر حریف امریکہ و طالبان کا مذاکرات کے ٹیبل پر اس وقت سب سے اہم اور مرکزی کردار ہے، تو ہم ہرگز غلط نہیں ہونگے۔

کیا دنیا یا عالمی قوتوں کی نظر میں یا گریٹ گیم یا پھر پوری عالمی چکرویو میں اس خطے میں ہزاروں سال سے آباد بلوچ قوم ایک غلام قوم کی حیثیت سے نظر انداز ہوسکتی ہے؟ یا نظر انداز ہوچکا ہے؟ اگر نظر انداز ہوچکا ہے تو کیوں؟ اگر آج بلوچ نظر انداز نہیں ہورہا، بلکہ ایک فریق کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آرہا ہے تو کیوں؟ سب سے اہم اور بنیادی سوال اس وقت یہی ہے۔

2016 میں بلوچ قوم اور بلوچ قومی تحریک کے ایک معتبر و عالمی سیاست و قوتوں کے درمیان اثروسوخ رکھنے والے ایک صاحب الرائے اور انتہائی مخلص، ہمدرد شخص نے انتہائی افسوس و مایوسی اور غصے میں یہ رائے پیش کیا تھا کہ بلوچ تحریک کو دنیا کی سپورٹ کجا، میں یہ تلخ حقیقت صاف صاف بیان کروں کہ بلوچ پر آج کوئی بحث بھی نہیں کرتا ہے اور مزید انہوں نے یہ کہا تھا کہ تم لوگ بس ابھی ایک دوسرے کے گریبان و بالوں کو اسی طرح پکڑتے رہو، آپس میں لڑتے رہو، تمھیں کوئی ابھی گھاس بھی نہیں ڈالے گا اور تمہارے تحریک کے حوالے سے امریکہ اور باقی دنیا سمیت سب کی رائے یہ بن چکا ہے کہ پاکستان کی بلوچ تحریک کے خلاف ایکشن اور خاص کر آپسی اختلافات اور آپسی لڑائی نے بلوچ قومی تحریک کو مکمل خاتمے کے دھانے پر کھڑا کردیاہے اور اب یہ کمزور مزاحمت کی شکل میں موجود ہوکر رفتہ رفتہ ختم ہوگا۔

کیا آج 2016 کی یہ خطرناک و مایوس کن رائے دنیا کی نظروں میں موجود ہے یا نہیں؟ کیا آج بلوچ قوم، بلوچ تحریک خاص طور پر بی ایل اے نظر انداز ہوچکا ہے یا نظر انداز ہوسکتا ہے؟

فرض کریں اگر نظر انداذ ہورہا ہے؟ بلوچ کچھ نہیں، تحریک کچھ نہیں، پھر بے تاج بادشاہ امریکہ کو کیا تکلیف ہوا کہ بی ایل اے کو زیر بحث لاکر کالعدم قرار دیتا؟ سادہ سا مثال ہے، جب بھی کسی چیز کا وجود نہ ہو، اہمیت نہ ہو اور حقیقت نہ ہو تو پھر اس پر کوئی بحث بھی نہیں کرتا ہے، آج کیوں اور کس لیئے عالمی گریٹ گیم میں بلوچ تحریک ٹانگ انڑائی بن چکا ہے؟

ہم لاکھ بار حقیقت کو جھٹلا کر کبوتر کی طرح آنکھ بند کردیں، مگر ممکن نہیں، نہ ہی ہم مورخ اور تاریخ کو دھوکہ دیکر اسے بے وقوف بنا سکتے ہیں، مورخ ضرور یہ لکھ دیگا، تاریخ میں ضرور یہ پڑھنے کو ملے گا، مایوسی، نا امیدی، ناکامی، پریشانی، تکلیف اور الجھنون کے دشت و صحرا و گھٹا ٹوپ ماحول اور بند گلیوں سے تحریک کو روشنی و جلا بخش دینے میں شہید جنرل و استاد اسلم بلوچ کی قربانی اور کوششوں نے فدائین وطن اور براس اتحاد کی شکل میں تحریک میں ایک نئی روح پھونک دی، جو بلوچ قوم میں ایک امید اور خاص طور پر دنیا میں ایک رائے اور باور پیدا کیا کہ بلوچ قوم اور بلوچ قومی تحریک کو نظر انداز کرنا کسی کے لیئے ممکن نہیں ہے بلکہ اس خطے میں گوکہ بلوچ اس وقت غلام ہے مگر جغرافک تبدیلیوں میں بحثیت ایک قوم نظر انداز ہرگز نہیں ہوسکتا ہے۔

استاد اسلم بلوچ کا رہنمایانہ کردار آج تحریک و تاریخ میں روشن باب کی طرح چمکتا ہوا واضح طور پر نظر آرہا ہے اور تحریکات کی تاریخ کا مطالعے و تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ہمشہ مستند رہنما و لیڈر وہ ہوتے ہیں، جو بھنور سے تحریک کو نکال لیتے ہیں، اس وقت یہ تاریخی کردار و اعزاز کا تاج اسلم بلوچ کے سر پر جاتا ہے۔

آج اگر ہم قومی جنگ، قومی طاقت، قومی مزاحمت اور قربانی دینے کے فلسفے سے دانستہ اور سوچ سمجھ کر منکر ہونگے پھر بالکل اس حقیقت سے انکار کرنے میں کوئی پھر حرج نہیں ہوگا، پھر جو کہے، جو بہانہ، من گھڑت دلیل پیش کرے اور کرتے رہیں ممکن ہوگا مگر حقیقت نہیں ہوگا۔

قومی طاقت کس طرح تشکیل پاتا ہے؟ اور کیسے سبوتاژ ہوگا؟ مایوسی نا امیدی اور بدظنی کیسے جنم لیتے ہیں؟ اور مایوسی ناامیدی اور بدظنی کیسے اور کس طرح دم توڑ کر امید اور حوصلہ بن جاتے ہیں؟

قربانی کیا ہے؟ قربانی دینے کا سلیقہ کیا ہے، قربانی دیکر اور قربان کرکے قربانی کا جذبہ پیدا کرنا یہ وہ فن و کرشمہ تھا جو اسلم بلوچ کو قدرت و فطرت نے دیا تھا۔

میں پہلے عرض کرچکا ہوں بار بار کرتا رہوں گا کہ آج موجودہ تمام علاقائی و عالمی صورتحال اور عالمی قوتوں کی پیش قدمی ارادوں اور عزائم کو مدنظر رکھ کر بلوچ قوم اور بلوچ قومی تحریک کے لیئے نہ پہلے کبھی ایسا سنہرا موقع دستیاب ہوا ہے اور نہ ہی آئندہ ہوگا لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ بلوچ قوم اور بلوچ قومی تحریک اس وقت ایک انتہائی مشکل مقام پر کھڑا ہے، اگر حالات کو بہتر انداذ میں بہتر سمجھ کر غیر روایتی حکمت عملی و پالیسی مرتب کرکے قومی جنگ میں مزید اس وقت شدت پیدا ہو تو یہ مقام جہاں قوم اور تحریک کھڑا ہے، وہ مقام شہداء کی خون کی لاج کو زندہ رکھ کر ان کی ارمان کو پورا کردیگا۔

شطرنج کی بساط کے چونسٹھ خانوں میں آج عالمی گریٹ گیم کے چالوں کا جال کچھا تنا ہوا ہے، وزیر سے لیکر پیادوں تک، بادشاہ سے لیکر ایک خالی خانے تک سب کی اہمیت ہے، اس بساط پر کسی خانے کے حقدار ہونے کا پیمانہ محض یہ ثابت کرنا ہے کہ کیا آپ اسکی قیمت چکا سکتے ہیں؟ اور وہ قیمت لمبے چوڑے بیان، شائیں بائیں کتابی جگالی اور تسبیح اٹھا کر چلے نکالنا نہیں ہے بلکہ جس چیز کا آپ خود کو حقدار سمجھتے ہیں اسکیلئے مرنا اور مارنا ہے۔ ازل سے یہی اصول رہا ہے ابد تک یہی رہے گا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔