مسلح جدوجہد – مصنف : کوامے نکرومہ | مشتاق علی شان

170

دی بلوچستان پوسٹ کتابی سسلسلہ قسط نمبر 1

مسلح جدوجہد، مصنف : کوامے نکرومہ

کوامے نکرومہ اور اس کا گھانا

ترجمہ : مشتاق علی شان

کوامے نکرومہ اور گھانا لازم وملزوم ہے۔اسی طرح جس طرح یہ دنوں اور افریقہ لازم وملزم ہیں۔ گھانا،مغربی افریقہ کا وہ ملک جو کبھی گولڈ کوسٹ کہلاتا تھااورجس کی کہانی بھی دیگر افریقی ممالک سے مختلف نہیں ہے۔ زری اجناس، کوکو، کافی، ناریل، ربراورسونے، ہیرے، باکسائٹ، لوہے،نکل اور دوسری معدنیات کی دولت سے مالا مال یہ ملک پندرویں صدی میں پرتگال کی نوآبادی بنا۔ یہ پرتگیزی جہاز ران ہی تھے جو 1446میں مغربی افریقہ کے اقیانوس ساحل سے جزائر کیپ وردے اور دریائے سینیگال کے دہانے تک پہنچے تھے اور اس علاقے کو انھوں نے گینیا یعنی ”طلائی سرزمین“ کا نام دیا تھا۔ یورپی سامراج کے ہر اول دستے کے طور پر پرتگیزی سامراج نے تیزی سے افریقہ پر قبضہ کرنا شروع کیا 1469تک یہ سری لیون میں اپنے تجارتی مراکز قائم کر چکے تھے اور1471تک وہ گولڈ کوسٹ(گھانا) پربھی قابض ہو گئے جو اس زمانے میں دنیا بھر کے سونے کی پیداوار کا دسواں حصہ پیدا کرتا تھا۔سونے کی لوٹ کھسوٹ کے علاوہ پرتگیزیوں کے دور میں دیگر افریقی مقبوضات کی طرح یہاں بھی انسانی غلامی کا کاروبار خوب پھلا پھولا۔انیسویں صدی تک گھانا پرتگیزیوں کے قبضے تلے سسکتا رہایہاں تک کہ 1874میں تاجِ برطانیہ کے سپوت اس پر قابض ہو گئے۔

گھانا کوکو پیدا کرنے والے ممالک میں صفِ اول پر ہے۔ یہ کاکاؤ نامی ایک درخت کے بیچوں کو بھون اور پیس کر بنایا جانے والا ایک سفوف ہے جس سے مختلف قسم کے اعلیٰ مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔جب کہ اس کے پھل سے ایک خاص قسم کا چربیلا مادہ حاصل کیا جاتا ہے جسے مکھن کی طرح کھایا جاتا ہے اور اس سے چاکلیٹ بنائے جاتے ہیں۔ لیکن گھانا کے عوام کا مقدر تو نسلوں سے بھوک ہی تھی۔انھیں دو وقت کا کھانا نہیں ملتا تھا اعلیٰ مشروبات اور چاکلیٹ تو ان کے احاطہئ تصور سے باہر کی چیزیں تھیں۔

جب کہ ہیروں کی پیداوار کے حوالے سے گھانا دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔لیکن ان ہیروں کی چکاچوند گھانا کے مفلوک الحال عوام کی زندگیوں کے اندھیروں میں اجالے بکھیرنے سے قاصر تھی۔ یہ ہیرے صرف تاجِ برطانیہ کی شان وشوکت بڑھانے کے لیے تھے۔یہ ہیرے بہت مہنگے داموں بکتے تھے اور ہاتھوں ہاتھ لیے جاتے تھے لیکن عکرہ یا گھانا کے کسی اور شہر میں نہیں بلکہ دور بہت دور لندن، مانچسٹر، برمنگھم، گلاسکو،لور پول اور ایڈنبرا کے بازاروں میں۔ یہ بھلا گھانا کے سیاہ فام باشندوں کی تقدیر کیا بدلتے۔یہ تو نکلتے ہی اس لیے تھے کہ مغرب کے اعلیٰ نسل خداؤں، سفید فام سرمایہ داروں کی بیویاں اور داشتائیں اسے زیب گلو کریں۔گھانا کے غلاموں کا مقدر تو یہ تھا کہ اپنے محکوم وطن کے کانوں سے زر والماس نکال کر گورے آقاؤں کو پیش کریں اور خود ان کانوں میں خون تھوکتے تھوکتے مر جائیں۔

کوامے نکرومہ صدیوں کی غلامی کے بوجھ تلے دبے اس ملک میں 1909میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم عکرہ کے ایک مشن اسکول میں حاصل کی۔ 1931میں Achimota کالج سے گریجویشن کیا اور ایک اسکول ٹیچر کے طور پر ملازمت کاآغاز کیا۔1935میں نکرومہ مزید تعلیم کے لیے امریکا چلے گئے۔ لنکن اور پنسلوینیا یونیورسٹی میں دس سال تک تعلیم حاصل کی۔اسی زمانے میں نکرومہ کارل مارکس سے متعارف ہوئے۔ان شب ووروز میں نکرومہ نے طلبا سیاست اور امریکا کے سیاہ فام باشندوں کی تحریک میں بھی بھر پور حصہ لیا۔وہ افریقی طلبا کی یونین کے نائب صدر کے طور پر سرگرم رہے۔ ا س دوران وہ ”ڈی سرکل“ کے نام سے ایک ایسے گروپ کی قیادت بھی کرتے رہے جس نے گھانا کی آزادی کے حصول کے لیے خود کو ایک سیاسی جماعت میں ڈھالنا تھا،اسی زمانے میں نکرومہ کی پہلی کتاب ”نوآبادیات آزادی کی جانب“ شایع ہوئی۔
کچھ عرصے تک لنکن یونیورسٹی میں پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار کے طور پر پڑھاتے رہے اوربعد ازاں لندن چلے گئے جہاں اکنامکس یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کیا۔

1947میں کوامے نکرومہ اپنے وطن لوٹ آئے اور سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ اسی سال گھانا کے قوم پرستوں کی قائم کردہ سیاسی جماعت ”یونائیٹڈ گولڈ کوسٹ کنونشن“ کے جنرل سیکریٹری مقرر ہوئے۔ اس سے قبل1942میں دوسری عالمگیر جنگ کے موقع پر برطانوی سامراج نے گولڈ کوسٹ کی مرکزی حکومت میں افریقی باشندوں کے حقِ نمائندگی کو تسلیم کر لیا تھا لیکن ”یونائیٹڈ گولڈ کوسٹ کنونشن“ نے مکمل آزادی کا اعلان کرتے ہوئے جدوجہد جاری رکھی۔

کوامے نکرومہ کی ولولہ انگیز قیادت نے تحریکِ آزادی میں ایک نئی روح پھونک دی۔نکرومہ کے ساتھ پارٹی کے ایک اور اہم رہنما جوزف ڈانکوش تھے۔ان دونوں رہنماؤں کو سیاسی سرگرمیوں کی پاداش میں 1948میں گرفتار کر لیا گیا۔ایک سال بعد جب یہ دونوں رہنما جیل سے رہا ہوئے تو کچھ عرصے بعدان کی سیاسی راہیں جدا تھیں۔ دراصل”یونائیٹڈ گولڈ کوسٹ کنونشن“ نے مستقبل کے حوالے سے کوئی خاص لائحہ عمل تشکیل نہیں تھا دیا اس کا محض قوم پرستی پر اصرار تھا جس کے باعث نسل پرستانہ رحجانات بڑھتے جا رہے تھے۔ طبقاتی حوالے سے بھی پارٹی بالکل خاموش تھی۔پارٹی نے محنت کش عوام کی طبقاتی جدوجہدکے حوالے سے سرد مہری کا رویہ اختیار کیا ہوا تھا۔ جب کہ مارکس ازم،لینن ازم کی تعلیمات سے ذہن منور رکھنے والے کوامے نکرومہ قومی اور طبقاتی جدوجہد کو لازم وملزوم سمجھتے تھے۔ وہ جتناگورے قبضہ گیروں کے خلاف تھے اتنا ہی ان کے گماشتہ سیاہ فام استحصالی طبقات کے بھی خلاف تھے۔وہ ایسی کسی قومی آزادی پر یقین نہیں رکھتے تھے جو سامراج کی گود میں پکے ہوئے پھل کی طرح جا گرے اور جس میں بیرونی آقاؤں کے مقامی گماشتے وسائل پر قابض ہو کر محنت کش عوام پر مسلط ہو جائیں اور ملک نوآبادی کے بعد جدید نوآبادی بنا لیا جائے۔وہ قومی آزادی کی راہوں سے ہوتے ہوئے سوشلسٹ انقلاب کے آرزو مند تھے۔ یہی چیز ان کے پارٹی کے ساتھ اختلافات کا باعث بنی۔

اس تناظر میں 1949میں نکرومہ نے ایک نئی انقلابی جماعت”کنونشن پیپلز پارٹی“ کی بنیاد رکھی جس نے جلد ہی ملک کے محنت کشوں، ہاریوں، طلبا، عورتوں، درمیانے طبقے کے دانشوروں، ادیبوں اور سماج کی مظلوم پرتوں کو اپنی جانب متوجہ کیا۔ پارٹی کے قیام کے بعد ایک سال کا سارا عرصہ نکرومہ نے برطانوی راج کے خلاف ہڑتالوں اور احتجاجات کی قیادت ورہنمائی کی۔ یوں نکرومہ محنت کش عوام اور مظلوم عوام کے ایک ہر دلعزیز رہنما کے طور پر ابھر کر سامنے آئے۔ 1950میں نکرومہ کی اپیل پر گھانا کے عوام نے سول نافرمانی کی تحریک شروع کی جس سے برطانوی راج لرزاٹھا۔ نکرومہ کو بغاوت کے جرم میں گرفتار کر لیا گیا۔ اپنے وطن کی آزادی کے لیے آواز بلند اور عوام کے حقوق طلب کرنا بغاوت ہی تو ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ بغاوت کی یہ تشریح افریقہ کے کسی ”پسماندہ، جاہل، اجڈ، کالے وحشی“ نے نہیں بلکہ ”مہذب اور متمدن“ کہلانے والے ان مغربی سفید فام انسانوں نے کی ہے جو انھیں ”تہذیب سکھانے“ آئے تھے۔ جن کی موجودہ امارت کی بنیادیں افریقہ، ایشیا اور جنوبی امریکا کے کروڑوں مظلوم انسانوں کی ہڈیوں پر رکھی گئی۔ جن کی موجودہ خوشحالی لوٹ کے اس مال کی رہینِ منت ہے جو وہ صدیوں بحری جہازوں میں بھر بھر کر اپنے ساحلوں پر اتارتے رہے ہیں۔

بغاوت کے جرم میں گرفتار کیے جانے والے نکرومہ کو جلد ہی عوام کے بے پناہ دباؤ اور احتجاج کے بعد رہا کر دیا گیا۔رہائی کے بعد نکرومہ نے اپنی جدوجہد مزید تیز کر دی۔1951میں انگریزوں نے نیا آئین منظور کیا جس کے تحت عام انتخابات کا اعلان ہوا۔نکرومہ کی کنونشن پیپلز پارٹی ان انتخابات میں ایک بہت بڑی قوت کے طور پر سامنے آئی۔ اس نے پارلیمنٹ میں واضح اکثریت حاصل کی اور نکرومہ نے مرکز میں وزارت بنائی۔نکرومہ نے ”خالص انقلاب“ اور”خالص تبدیلی“ کی نعرے بازی نہیں کی جیسا کہ ہمارے ہاں آج کے بے عمل انقلابی ”اصلاح نہیں انقلاب“ کے نعرے لگاتے ہیں لیکن اس انقلاب کے لیے کرتے کچھ بھی نہیں۔ بلکہ نکرومہ ہر اس عمل کا حصہ بننے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے جن سے ان کے مقصد کو تقویت ملتی تھی۔جس کے نتیجے میں وہ ایک یا چند قدم آگے بڑھتے تھے۔نکرومہ کی بہت سے مراحل اور حکمت عملیوں پر مشتمل یہ جدوجہد ہی تھی جس کے نتیجے میں 6مارچ1957کو گولڈ کوسٹ اور برٹش ٹوگو لینڈ پر مشتمل گھانا کی آزاد ریاست معرض وجود میں آئی۔یہ نکرومہ کی انقلابی شخصیت ہی تھی جس کی بدولت برطانیہ کی افریقی مقبوضات میں گھانا کو سب سے پہلے آزادی حاصل کرنے کا اعزاز حاصل ہوا اورکوامے نکرومہ آزاد گھانا کے پہلے صدرمنتخب ہوئے۔

آزادی کے بعد جہاں نکرومہ نے اپنے ملک کے عوام کی زندگیوں میں تبدیلی لانے کے لیے موثر اقدامات کیے وہاں پان افریقن ازم کے سرگرم پرچارک کے طور پر بھی اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی کوششوں کی نتیجے میں دسمبر1958میں گھانا کے شہر عکرہ میں ”آل افریقن پیپلز کانفرنس“ منعقد کی گئی جس میں افریقہ بھر سے انقلابی قائدین نے اپنے وفود کے ساتھ شرکت کی۔یہ وہ رہنما تھے جنھوں نے بعد ازاں اپنے اپنے ممالک میں سامراجی نظام کی چولیں ہلا دیں۔

1960میں نکرومہ نے گھانا کو عوامی جمہوریہ قرار دیا۔ ان کی پالیسیاں شروع سے ہی سامراج مخالف تھیں اور مغربی سرمایہ دار ممالک کی بجائے سوشلسٹ ممالک سے ان کے پرجوش تعلقات تھے۔ نکرومہ اپنے معروضی حالات کے مطابق مرحلہ وار سوشلزم کی طرف بڑھنے کے قائل تھے۔ وہ افریقہ کو ایک وطن سمجھتے تھے اور اس کی یونین کے حامی تھے اس سلسلے میں انھوں نے 1961میں جمہوریہ گنی کے صدر احمد سیکو طورے اور جمہوریہ مالی کے صدر موویبو کیتا کے ساتھ مل کر تینوں ممالک پر مشتمل افریقی یونین تشکیل دی لیکن کچھ عرصے بعد بعض پیچیدگیوں کے باعث اسے ختم کر دیا گیا۔

1962میں گھانا کی قومی اسمبلی نے انھیں ملک کا تاحیات صدر منتخب کیا۔اسی سال ان پر دو قاتلانہ حملے بھی ہوئے۔ اس دور میں نکرومہ کی سوشلسٹ پالیسیوں کے نتیجے میں گھانا نے حیرت انگیز ترقی کی۔ اس سارے عرصے میں ان کی شہرت گھانا سے نکل کر افریقہ اور دنیا بھر میں پھیل چکی تھی۔افریقہ کی نوجوان نسل تو ان کے انقلابی اور سامراج دشمن کردار سے خاص طور پر متاثر ہوئی۔ افریقہ میں آزادی کے لیے اٹھنے والی ہر تحریک میں ان کے کردار وافکار کا ناقابل فراموش حصہ ہے۔ کانگو کا پیٹرس لوممبا،گنی کا احمد سیکو طورے، انگولا کا ڈاکٹر نیتو ہو یا موزمبیق کا ایڈورڈو موندلین اور میشل سیمورا، نمیبیا کا سام نجوما ہو یا گنی بساؤ کا ایملکار کیبرال ان میں سے بیشتر کا فکری ارتقا کوامے نکرومہ کا رہینِ منت ہے۔اس زمانے میں افریقہ کی قومی آزادی کی کی شاید ہی کوئی انقلابی تحریک ہو جس کی نکرومہ نے مدد نہ کی ہو۔ اس زمانے کا گھانا گویا افریقہ وطن پرستوں اور انقلابیوں کا گھر تھا۔نکرومہ نے ایک عالم کو اپنے آدرش کی سچائیوں سے متاثر کیا اور یہی ایک انقلابی کا سب سے بڑا وصف ہوتا ہے۔

دنیا بھر کی سامراجی تشکیلوں میں جکڑے ہوئے مجبور ومقہور عوام انھیں اپنا ہیرو سمجھتے تھے اور ان کی جدوجہد کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ خود ہمارے کتنے ہی ترقی پسند شعراء نے اس زمانے میں افریقہ کے اس انقلابی رہنما کو خراج تحسین وتائید پیش کیا۔ اس زمانے میں ہمارے ممتاز مارکسی دانشور اور شاعر انوار احسن صدیقی نے ”کوامے نکرومہ کے نام“ سے ایک رجز نامہ لکھا تھا۔
جشنِ افریشیا کی دھوم مچی ڈگمگانے لگے ستونِ ستم
مغربی تاجروں کے دل دہلے
بڑھ گئی اور یورشِ پہیم
پھانسیاں گڑ گئیں سرِ بازار
قتل گاہوں کی ہو گئی بھر مار
لڑنے والے مگر نہ گھبرائے
موج در موج قافلے آئے
فرحت عباس صف شکن ابھرا
سیکو طورے کا بانکپن ابھرا
وہ جمیلہ وہ دختر ِ جمہور
وہ شبستانِ حریت کی حور
وہ لوممبا شہید ِ آزادی
وہ گزنگا نوید ِ آزادی
ناصر آہنی کفن بردوش
وہ نگارِ وفا کا حلقہ بگوش
اک طرف کاسترو کا پرچم ہے
اک طرف کانگ لی کا دم خم ہے
اک طرف تیرا عزمِ محکم ہے
سعی بے حد ہے جذبِ پیہم ہے
جتنے دریا ہیں اتنے طوفاں ہیں
جتنے بازو ہیں تیغ براں ہیں

گھانا تیزی سے ترقی کا سفر کر رہا تھا مگر نکرومہ کے اشتراکی نظریات اور سوشلسٹ ممالک سے تعلقات مغربی سامراجیوں سے کبھی ہضم نہ ہوئے۔ نکرومہ افریقی خطے میں ان کے عزائم کی راہ میں ایک بڑی دیوار کا کردار ادا کر رہا تھا۔جب کہ امریکی سامراج کی قیادت میں افریقہ کو جدید نوآبادی بنانے کی سازشیں کی جا رہی تھیں۔نکرومہ ان سامراجی سازشوں پہ بخوبی وارد تھے۔ وہ ببانگِ دہل افریقہ کی سامراج مخالف انقلابی تحریکوں کا حامی ومدد گار تھا۔وہ اشتراکیت کی طرف بڑھتے ہوئے ایک ایسی مثال قائم کر رہا تھا جس نے افریقہ کا مقدر تبدیل کر دینا تھا۔1964میں جب نکرومہ نے گھانا کو سرکاری طور پر یک جماعتی ریاست قرار دیا تو مغربی سامراجی سرمایہ دار آمریتوں (جو خود کو جمہوریت پسند کہتے ہیں) کی ایماء پر ان کے مقامی گماشتوں کی طرف سے ”نکرومہ کی آمریت“ اور ”انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں“کے خلاف ایک پروپیگنڈا مہم کی ابتدا کی گئی۔اس کی آڑ میں ملکی ترقی کے لیے ان کے کیے جانے والے اقدمات شاہراؤں، اسپتالوں، درس گاہوں،کھیل کے اسٹیڈیم اور وولٹا ڈیم جیسے منصوبے پر بھی نکتہ چینی کی جانے لگی لیکن اس تمام تر پروپیگنڈا مہم کو عوامی پذیرائی حاصل نہ ہو سکی۔
اس زمانے میں کوامے نکرومہ کے دو بڑے مقاصد تافریقی اتحاد اور سوشلزم تھے جس کے لیے انھوں نے سوویت یونین، عوامی جمہوریہ چین اور مصر سمیت متعدد افریقی ممالک کے دورے کیے۔اس سے قبل اقوام متحدہ میں اپنی تقریر اور بلغراد میں ہونے والی غیر جانبدار ممالک کی کانفرنس میں بھی نکرومہ برملا اپنے مقاصد کا اظہار کر چکے تھے۔

فروری 1966میں نکرومہ شمالی ویت کے دورے پرتھے۔ویت نام میں انھوں نے ”ویتنامی امن منصوبے“کے سلسلے میں کامریڈ ہوچی منھ سے تبادلہ خیال اور باہمی مشاورت کی۔اس موقع کوغنیمت جانتے ہوئے ان کے خلاف سرد جنگ کے زمانے کا ایک مہلک ہتھیار استعمال کیا گیا۔ سامراج نواز غدار فوجی دھڑا جس کی قیادت لیفٹیننٹ جنرل جوزف انکرہ کر رہا تھا نے نکرومہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔یوں گھانا میں مغربی سنگینوں کے سائے میں پہلی فوجی آمریت قائم ہوئی۔ یہ صرف گھانا ہی کی کہانی نہیں ہے بلکہ ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکا سمیت جہاں بھی سرمایہ داری کو خطرہ لاحق ہوا،جہاں بھی عوامی قائدین نے سامراجی ریشہ دوانیوں کے خلاف مزاحمت کا پرچم بلند کیا،جہاں بھی اپنے وسائل پر اختیار کی کوئی آواز بلند ہوئی،جہاں بھی کسی نے سامراج اور اس کے اداروں کی بجائے اپنے عوام کو جوابدہی کا حق استعمال کرنے کی کوشش کی گئی وہاں مغربی لبرل سامراج نے فوجی طالع آزماؤں کو عوام پر مسلط کرنے کا نسخہ آزمایا۔کہیں سوہارتو کی شکل میں، کہیں پنوشے اور مبوتو کی شکل میں تو کہیں ضیا ء الحق کی شکل میں۔

گھانا کے سامراج نواز فوجی ٹولے نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد پہلے اقدام کے طور پر کنونشن پیپلز پارٹی پر فوری پابندی عائد کردی اور اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بدترین ریاستی جبر کا آغاز کیا جس پر ”لبرل سرمایہ داروں“،”لبرل جمہوریت پرستوں“ اور نام نہاد ”انسانی حقوق“ کے نگہبانوں کی زبانوں کو لقوہ مارتا رہا۔

اس فوجی بغاوت کے بعد نکرومہ کچھ عرصہ چین میں رہے اور پھر جمہوریہ گنی چلے گئے جہاں کے انقلابی صدر احمد سیکو طورے نے ان کا بھرپور استقبال کیا۔ جمہوریہ گنی کے محنت کار عوام بھی نکرومہ کو دل وجان سے چاہتے تھے۔ اس کے بعد احمد سیکو طورے نہ وہ قدم اٹھا یا جو نہ صرف ان کے بڑا ہونے کا ثبوت تھا بلکہ کوامے نکرومہ کی عظمت اور جدوجہد کو بھی زبردست خراج تھا، انھوں نے نکرومہ کو جمہوریہ گنی کا اعزازی مشترکہ صدر بنانے کا اعلان کر دیا جس کی جمہوریہ گنی کے عوام نے مثالی جوش وخروش سے توثیق کی۔ یہ سیاستِ عالم میں اپنے طرز کی ایک انوکھی مثال تھی جس کی نظیر لافانی عوام کے درمیان نفرت اور تعصب کی آسمان کو چھوتی دیواریں اٹھانے والے سرمایہ دار ممالک پیش ہی نہیں کر سکتے۔یہ اعزاز مارکس، اینگلز، لینن اور اسٹالین جیسے انقلابی اساتذہ سے اپنا رشتہ جوڑنے والے انقلابی ہی پیش کر سکتے ہیں۔یہ صرف حریتِ فکر کے معماروں ”اشتراکی کوچہ گردوں“ کا ہی اعجاز ہے۔گھاناکی مغرب نواز فوجی حکومت نے سیکو طورے کے اس اقدام کی وجہ سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی دی تو سیکو طورے نے اس میں دیر نہیں کی اور فوراََ گھانا سے سفارتی تعلقات منقطع کر لیے۔

1972میں 63سال کی عمر میں کوامے نکرومہ نے رومانیہ کے شہر بخارسٹ میں وفات پائی جہاں وہ کینسر کے علاج کی غرض سے مقیم تھے۔ ان کی وفات سے نہ صرف افریقہ بلکہ دنیا بھر میں امن، آزادی اور اشتراکیت پر یقین رکھنے والے انسان اشکبار تھے۔یہ آنسو شکستِ آرزو کے مظہر نہیں بلکہ ایک انقلابی مساعی پسند کو جہان بھر کے مظلوم عوام کا لال سلام تھا۔
جب کہ نکرومہ کے بعد گھانا کی تعمیر وترقی قصہ پارینہ بن گئی۔ایک کے بعد ایک انقلاب آتا رہا اور گھانا کے عوام فوجی آمروں اور سیاسی طالع آزماؤں اور مسخروں کی مشقِ ستم کا نشانہ بنتے رہے۔ ان نام نہاد انقلابات اور نسلی فسادات میں ہزاروں افراد تہہ تیغ کر دیے گئے۔گھانا کے عوام آج بھی نکرومہ کو یاد کرتے ہیں جس نے انھیں سراٹھا کر جینے کا ہنر سکھایا اور آزادی کا تحفہ دیا۔ انھیں ایک نئے سماج ایک نئی دنیا کی جھلک دکھائی۔امریکی سامراج کے شامل باجے حکمران گھانا کے محنت کار عوام کے اذہان سے ان کی یاد کو نہیں کھرچ سکے۔وہ فوجی ٹولہ جو یہ کہتا تھا کہ ”ہم نے کوامے نکرومہ کا طلسم،اس کا اساطیر ہمیشہ کے لیے دفنا دیا ہے۔“ خود تاریخ کی سڑاند بن گیا۔

آج اکیسویں صدی کی دوسری دھائی میں وہ تحریک، وہ فکرو فلسفہ جس سے کوامے نکرومہ وابستہ تھے بے شمار کامرانیوں اور ناکامیوں کو دامن میں سمیٹے ایک نئے سماج کے قیام کے لیے مارکس ازم، لینن ازم کی مشعل تھامے،نت نئی حکمت عملیاں اپنائے سرمایہ داری کے ظلمت کدے میں مصروفِ جہد ہے جلد یا بدیر سرمایہ داری اور اس کی سب سے اونچی رسائی سامراجیت تاریخ کے اندھیر غاروں کا حصہ بن جائے گی۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس تحریر میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔