صوبائی حکومت کی گزارشات کے باوجود نئے میڈیکل کالجوں کے فہرستیں آویزاں نہ کرنا زیادتی ہے – بی ایس اے سی

22

وائس چانسلر صوبائی حکومت کے گزارشات کو نظرانداز کر رہا ہے جو معصوم طلباء کے ساتھ ناانصافی اور انہیں مایوس کرانے کی کوشش ہے۔

بلوچستان کے تین میڈیکل کالجوں میں حتمی فہرستیں آویزاں نہ کرنے کے خلاف طلبہ کا احتجاج جاری ہے جبکہ بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی جانب سے آج کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم احتجاجی کیمپ میں اس حوالے سے پریس کانفرنس کی گئی جس میں بی ایس اے سی کے رہنماوں نے کہ آج تقریباً ایک مہینے سے زیادہ وقت ہو چکا ہے کہ نئے میڈیکل اسٹوڈنٹس سراپا احتجاج ہیں کہ انہیں انصاف فراہم کرتے ہوئے ان کے کلاسوں کا آغاز کیا جائے تاکہ طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچ جائیں اور وہ اپنے کلاسز بروقت لے سکیں لیکن افسوس کا مقام ہے کہ صوبائی حکومت کی گزارشات کے باوجود وائس چانسلر لسٹ نہیں لگا رہا ہے، یونیورسٹی کی ذمہ داری ہے کہ وہ ٹیسٹ لیکر ان کے فہرستیں آویزاں کرے لیکن ٹیسٹ لینے کے بعد صرف بی ایم سی کا ٹیسٹ لگایا گیا جبکہ دیگر تین میڈیکل کالجوں مکران میڈیکل کالج، جھالاوان میڈیکل کالج اور لورالائی میڈیکل کالج کے لسٹ نہیں لگائے گئے اس کے باوجود ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے یونیورسٹی انتظامیہ کو لسٹ لگانے کیلئے کہا گیا ہے لیکن ابھی تک یونیورسٹی لسٹ نہیں لگا رہا ہے جس سے طلباء ذہنی مریض بنتے جا رہے ہیں اور ان کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔

رہنماوں نے کہا کہ طلباء کے احتجاج کو مضبوط کرنے کیلئے تنظیم نے فیصلہ کرتے ہوئے ان کے کلاسز کا آغاز روڈوں پر کیا تاکہ حکام بالا تک طلباء کی آواز پہنچ جائیں اور ان کو طلباء کی حالت دیکھ کر شاید ترس آئیں، ہم تقریباً ایک ہفتے سے زیادہ طلباء کے کلاسز روڑوں پر لے رہے ہیں طلباء کی محنت جدوجہد اور روڈوں پر کلاسز لینے کے احتجاج سے صوبائی حکومت کو یہ احساس دلانے میں کامیاب ہوگئے کہ طلباء کس کرب سے گزر رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے وائس چانسلر اپنے ضد پر کھڑا ہے اور صوبائی حکومت کے گزارشات کو بھی نظرانداز کر رہا ہے جو ان معصوم طلباء کے ساتھ ناانصافی اور انہیں مایوس کرانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیا ہم متاثرہ طلباء کی جانب سے یہ پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کہ صوبائی حکومت کی جانب سے وائس چانسلر کو نوٹیفیکیشن کے باوجود اور ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے لسٹ لگانے کی درخواست کے بعد بھی کلاسز کا آغاز نہ کرانے کی وجہ کیا ہے، کیا وائس چانسلر صوبائی حکومت سے زیادہ طاقت ور ہے اور ایک ذمہ دار عہدیدار جس کی سب سے اولین ترجیح ہونی چاہیئے کہ طلباء کو سہولت میسر کریں تاکہ طلباء بڑھنے کیلئے آگے آئیں آج کیوں اور کن بنیاد پر طلباء کا وقت ضائع کرانے کی کوشش میں ہے اور وہ کیا وجوہات ہیں کہ وائس چانسلر کلاسز کا آغاز کرانے کو راضی نہیں ہیں؟ ایک استاد کی ذمہ داری ہے کہ طلباء کیلئے نجات کا راستہ بنیں لیکن بلوچستان کا المیہ یہ ہے کہ یہاں استاد ہی طلباء کے سامنے سب سے بڑی رکاوٹ بن رہے ہیں، ضرورت تو اس امر کی تھی کہ جب طلباء احتجاج کیلئے آئے تھے تو اساتذہ کو بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنی چاہیے تھی تاکہ صوبے کے طلباء پڑھائی کے میدان میں دوسرے صوبوں کا مقابلہ کر سکیں۔

رہنماوں نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ صحافی حضرات کی توسط سے ہم وائس چانسلر، صوبائی حکومت، یونیورسٹی انتظامیہ سمیت تمام بالا حقام سے ایک مرتبہ پھر یہ اپیل کرتے ہیں کہ طلباء کا قیمتی وقت ضائع نہ کریں جتنے بھی ضروریات ہیں وہ بعد میں بھی پورے کیئے جاسکتے ہیں لیکن کلاسوں کا آغاز کرنا بہت ضروری ہے آج یہ سب کیلئے شرم کا مقام ہے کہ طلباء روڈوں پر کلاس لے رہے ہیں، قومیں اُس وقت ترقی کرتے ہیں جب قوم کا نوجوان طبقہ پڑھے گا اور لکھے گا لیکن جہاں طلباء کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جاتی ہیں ایسے قومیں ترقی نہیں کرسکتے ہیں حکام بالا سمیت متعلقہ ذمہ داروں کو چاہیئے کہ اپنی ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے مزید طلباء کی زندگیوں کے ساتھ کھیلنا بند کریں اور طلباء کے کلاسوں کا آغاز کیا جائے وگرنہ ہم آگے مزید سخت لائحہ عمل اپنائیں گے اور بلوچ اسٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی ایک طلباء تنظیم کی حیثیت سے ان طلبا کا کسی بھی طرح وقت ضائع نہیں ہونے دے گا۔