تلخ وثیقہ – برزکوہی

165

تلخ وثیقہ

برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

بالکل کامریڈ لینن کہتا تھا کہ “دو قدم آگے، ایک قدم پیچھے” مگر یہ تو پھر قیادت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اگر وہ عوام الناس کو نہیں کم از کم اپنے قابل بھروسہ بلکہ ذمہ دار ٹیم کو واضح منطق اور دلائل کے بنیاد پر دو قدم آگے اور ایک قدم پیچھے کی ضرور تشریح کرکے دیں۔ قطع نظر مخصوص ایجنڈوں کے اگر واقعی قومی و وطنی اور تحریکی مفاد کے پیش نظر یہ حکمت ہو، پھر الزام تراشی، سازش، حربہ سازی، دباو اور دیوار سے لگانے کی کوشش نہیں ہوتی۔

بقول شخصے اگر دنیا آج مسلح جدوجہد قبول نہیں کرتی ہے تو پہلے ذرا بیان کریں کونسی دنیا؟ دنیا کا مطلب و مفہوم؟ دوسری بات کب اور کہاں دنیا پہلے بلوچ سے یہ کہہ چکا ہے کہ آپ لوگ مسلح جدوجہد شروع کریں، جو اب ہاتھ کھینچ لیا؟ کیا موجودہ بلوچ قومی آزادی کی مسلح جدوجہد دنیا کی مرضی، خواہشات اور ایجنڈے کے تحت شروع ہوا تھا؟ یا پھر بلوچ قومی خواہشات، تقاضات اور احساس غلامی کی بنیادوں پر شروع ہوا تھا؟ پھر کیا آج بلوچ قوم کی وہ خواہشات، جذبات، تقاضات اور احساسات کمزور یا ختم ہوگئے ہیں؟

مجھے کوئی زہریلا سانپ سونگھ جائے اگر میں کہوں کہ قومی آزادی صرف اور صرف مسلح جدوجہد سے ممکن ہوگی بلکہ میں کہتا ہوں ملٹی ڈائمینشنل ہونا ضروری ہے۔ یعنی تقریر و احتجاج، تحریر و سفارتکاری، لٹریچر و ادب، جلسہ و جلوس سب کی اہمیت تھا اور اہمیت ہے، مگر نوآبادیاتی نظام ظلم و بربریت اور سفاکیت کے مدمقابل مسلح جدوجہد کے بغیر یہ سب بے سود اورلاحاصل ہیں گوکہ ان کے بغیر مسلح جدوجہد بھی لاحاصل ہوگا مطلب لازم و ملزوم ہیں۔

تحریر و تقریر، سیاست و سفارت وہ عوامل ہیں جو آپ کے جنگ کو شکل دیکر اس کے مقاصد واضح کرتے ہیں اور فوائد حاصل کرتے ہیں۔ اگر یہ سیاسی و ادبی ٹولز آپ کے تحریک کا حصہ نا ہونگے تو یہ واضح امکان موجود ہے کہ آپ جنگ کا خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکو گے اور مطلوبہ ہدف حاصل نہیں کرسکوگے لیکن یہ بھی یاد رکھیں گے کہ اگر جنگ ہی نہیں ہوگی تو فائدہ کس چیز کا اٹھاؤ گے، رخ کس چیز کو دوگے؟

لیکن اہم سوال یہ ہے کہ انقلابی سرفیس سیاست، سفارتکاری، تقریر و لٹریچر، سیاسی سرگرمیاں وغیرہ وغیرہ کا معیار کیا ہے؟ آیا پاکستانی پارلیمانی یا روایتی طرز ہے؟ یا مکمل غیرروایتی و انقلابی طرز سیاست ہے؟

ایک دفعہ نہیں بلکہ کئی دفعہ سنا تھا کہ لوگ ہمیں یعنی بی ایل اے والوں کے بارے میں یہ تاثر دے رہے ہیں کہ آپ لوگ صرف اور صرف مسلح جدوجہد اور جنگ کے قائل ہو، تو “جناب” اس وقت فخریہ اور طنزیہ انداز میں کہتا تھا بہت اچھا ہے، ہمارے بارے میں یہ تاثر قائم کرنا، واقعی ہم مسلح جدوجہد اور جنگ کے علاوہ اور کچھ نہیں جانتے ہیں اور جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتے ہیں اور سیاست ویاست کی ضرورت بھی نہیں، سرفیس سیاست سے “بھگڑا” یعنی چَنا بیچنا بھی ٹھیک ہے۔

مگر آج کیوں؟ اتنے بے شمار قتل و غارت، لوگوں اور دوستوں کی شہادت، لاکھوں خاندانوں کی دربدری، اس کے بعد آخرکار مسلح جدوجہد سے انحراف اور دستبرداری بغیر دلیل و منطق، تشریح و وضاحت کے حتیٰ کہ مسلح جدوجہد کرنے والوں مخلص، ایماندار، دوستوں پر من گھڑت الزام لگاکر بدنام کرکے نظر انداز کرنا اور دیوار سے لگانے کی کوشش کرنے کی پھر کیا ضرورت تھی؟ اگر شف شف کے بجائے صاف صاف شفتالو ہوتا تو بہتر نہیں ہوتا؟

جنوبی افریقہ کے عظیم لیڈر نیلسن منڈیلا 27سال جیل میں بند تھا، بار بار ہرسال اس عظیم انسان کو مذکرات کی دعوت ہوتی، مگر وہ انکار کرتا، جب آخری بار دعوت دیا گیا تو وہ عظیم انسان حالات کا ادراک و بصیرت رکھتے ہوئے مذکرات کی دعوت قبول کرتے ہیں لیکن پھر بھی اپنے تمام دوستوں اور عہدیداروں کو اعتماد میں لیکر، ان کے سامنے دلیل و منطق کے ساتھ وضاحت و تشریح کرکے انہیں مطمین کرتے ہیں۔ بجائے نیلسن منڈیلا مذاکرات کی خاطر اپنی دوستوں پر من گھڑت الزام لگاکر سازش کرکے انہیں بدنام کرنے کی کوشش کرتے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو آج نیلسن منڈیلا عظیم انسان نہیں بلکہ نشان عبرت ہوتے۔

مطلب کیوں ایسا ہوتا ہے، 73 میں مسلح جدوجہد شروع ہوتی ہے، کیسے اور کیوں پھر ختم ہوتا ہے؟ یہ الگ بحث ہے مگر پھر سارے مسلح دوست اور ان کے خاندان ہزاروں کی تعداد میں افغانستان کے شہر ہلمند ہجرت کرتے ہیں، جب افغانستان سے سوویت یونین کا انخلاء ہوتا ہے تو افغانستان پر مجاہدین اور طالبان کے قبضے ہونے کا امکان تیز ہوتا ہے، افغانستان کی سرزمین بلوچوں کے لیئے تنگ ہوتا ہے، پھر اس وقت بھی کوئی متبادل منصوبہ بندی، حکمت عملی، مہاجرین اور دوستوں کی دفاع اور حفاظت کے خاطر ٹھوس اقدامات کے بجائے گزینی و بجارانی کا تضاد جنم لیتا ہے اور بجائے لوگوں کو خود حکمت عملی یا ایک قدم پیچھے کے پالیسی کے تحت مطمیئن کرنے کی کوشش ہوتی، براہِ راست جنرل حمید گل اور کرنل امام ہلمند آکر بلوچ مہاجرین اور مسلح دوستوں کے درمیان بیٹھ کر ان کو مطمین کرتے ہیں کہ ابھی افغانستان کے حالت خراب ہیں، ہم آپ لوگوں کو واپس لیجائینگے، میرے خیال میں یہ بلوچ لیڈرشپ کی ذمہ داری بنتی تھی کہ اپنے دوستوں اور لوگوں کے درمیان بیٹھ کر ان کو تمام صورتحال سے آگاہ کرتے، متبادل راستہ دکھاتے اور مطمین کرتے، جنرل حمید گل اور کرنل امام کیوں؟

کیا آج ایک بار پھر عالمی حالات کروٹ بدل کر، ہمیں کروٹ بدلنے پر مجبور نہیں کررہے ہیں؟ کیا آج ایک بار پھر ہمارے پاس مستقبل کا کوئی پلان، منصوبہ، متبادل راستہ اختیار کرنے اور اپنے لوگوں اور دوستوں کی حفاظت کی منصوبہ بندی ہے یا پھر دوبارہ مصنوعی تضاد، انتشار، خلفشار، من گھڑت الزامات وغیرہ کا سہارہ لیکر یا دوستوں اور لوگوں کو بے یارو مدگار چھوڑنے کے فارمولے پر عمل پیرا ہیں تاکہ وہ خود مجبور ہوکر دشمن سے بغل گیر ہوکر بدنامی و رسوائی بھی ان کے سر پر ہو یا کوئی جنرل حمید گل اور کرنل امام آئے؟

گوکہ آج نہ ہی وہ دور ہے، نہ ہی آج وہ جدوجہد ہے، نہ ہی ایسا ہوگا، جنگ جاری ہے اور جاری رہیگی، مگر عمل و نیت، طرز سوچ، ارادہ و عزائم، سب کچھ وہی ہیں، مگر شکل مختلف ہے، خدا کرے ایسا نہ ہو یہ صرف بدگمانی اندیشہ اور خدشہ ہو۔

قومی آزادی کی جنگ سے متاثر ہوکر آج لاکھوں کی تعداد میں بلوچ مہاجرین خاص طور پر ہزاروں شہداء کے خاندان افغانستان و مغربی بلوچستان اور خلیجی ممالک، سندھ وغیرہ میں دربدر کی زندگی گذار رہے ہیں۔ کیا ان کے بارے میں کوئی خاص اور موثر حکمت عملی اور منصوبہ بندی مرتب ہوچکی ہے؟ اگر خدانخواستہ نہیں تو آنے والوں دنوں میں خطے کی صورتحال کے پیش نظر بلوچ مہاجرین کے لیئے انتہائی مشکلات میں اضافہ ہوگا اور اس کا ذمہ دار بلوچ مہاجرین نہیں ہونگے، براہ راست قیادت ہوگی اور یہ خود پھر قیادت کی نااہلی، بے حسی اور حالات سے عدم واقفیت اور عدم ادراک کا منہ بولتا ثبوت ہوگا۔

میں پہلے بارہا کہہ چکا ہوں، بلوچ قوم کے پاس ایک مثبت اور بہترین موقع کے ساتھ بلوچ قوم اس وقت انتہائی مشکل دور سے گذر رہا ہے، اگر بلوچ اپنی قومی جنگ میں تیزرفتاری اور مزید شدت پیدا کرے تو بلوچ کے لیئے مواقعوں کے اور بھی راستے کھل جائینگے، اگر بلوچ مزاحمت سست روی اور کمزوری کا شکار ہوا تو بلوچ کے لیئے ہر طرف میدان تنگ ہوکر بلوچ قومی بقاء اور شناخت فناء کے مزید قریب تر ہوگا۔

قومی آزادی اور قومی انقلاب کی جنگ بھی جب طویل ہوگی تو ضرور تھکاوٹ، مایوسی اور خوف کی کیفیت آہستہ آہستہ ذہن پر اس وقت تک سوار ہونگے، جب فکر کمزور ہو، اپنے مقصد پر پورا بلکہ محکم ایمان نہ ہو، پھر جنگ سے انحراف اور دستبرداری کی خاطر خوبصورت حیلے و بہانے جنم لینگے۔

تحریکی تواریخ عالم واضح کرتے ہیں کہ ایسے حالات و صورتحال میں حقیقی و فکری، بہادر اور دوراندیش لیڈر شپ اور جہدکار حالات اور صورتحال کے شکار نہیں ہوتے بلکہ مستقل مزاجی کے ساتھ حالات کو تبدیل کرتے ہیں، اپنی قومی و تنظیمی اور مجموعی مفاد کی خاطر اور پھر کامیابی ان ہی کے قدموں کو چومتی ہے، بلوچ قوم، بلوچ تحریک اور بلوچ سرزمین اب بھی بانجھ نہیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔