تحاریک آزادی اور دہشت گردی میں فرق – عبدالواجد بلوچ

147

تحاریک آزادی اور دہشت گردی میں فرق

تحریر: عبدالواجد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

دہشت گردی کیا ہوتی ہے اورتحریک آزادی کیا ہوتی ہے؟ پچھلے کئی برسوں میں اقوام متحدہ بھی اس فرق کو واضح نہیں کر سکی مگر یہ ایک اٹل عالمی اصول ہے کہ کسی بھی استعماریت، جابریت، مظالم اور قبضہ گیریت کے خلاف جدو جہد تحریک آزادی ہوتی ہے نیلسن منڈیلا نے سفید فام استعمار کے خلاف جدو جہد کی دنیا نے وقتی طور پر اسے دہشت گرد کہا مگر ایک وقت آیا کہ اسے امن کا نوبل انعام دیا گیا کسی دہشت گرد کو تو آج تک یہ انعام نہیں دیا گیا یاسر عرفات نے اسرائیلی استعمار کے خلاف عملی جدو جہد کی اسے وقتی طور پر دہشت گرد کہا گیا مگر ایک وقت آیا کہ اسے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کی دعوت دی گئی دنیا نے آج تک کسی دہشت گرد کو جنرل اسمبلی میں مدعو نہیں کیا۔

امریکہ نے برطانوی ا ستعمار کے خلاف جنگ آزادی لڑی اور برطانیہ سے طاقت کے بل پر آزادی حاصل کی کہنے کو برطانیہ اسوقت امریکہ کودہشت گرد کہہ سکتا تھا  شاید کہا بھی ہو مگر جب آزادی اور دہشت گردی کے فرق کو برطانوی استعمار خوب سمجھتا تھا (قطع نظر اس کے کہ برطانیہ نے بلوچ آزادی پسند تحریک بی ایل اے کو دہشت گرد قرار دیا ہے).جیسے امریکہ نے برطانیہ سے لڑ کر آزادی حاصل کی تھی  جیسے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان نے لڑ کر آزادی حاصل کی تھی جیسے بوسنیا نے لڑ کر آزادی حاصل کی تھی، جیسے چین میں ماؤزے تنگ نے عوامی طاقت سے اقتدار پر قبضہ کیا تھا،  جیسے ایران میں امام خمینی نے بھی عوامی طاقت سے شاہ ایران کو بھاگنے پر مجبور کیا یہ مذکورہ تحریکیں کبھی بھی دہشت گرد نہیں ٹہرائے گئے.

بالکل اسی طرح عالمی مروجہ قوانین کے تحت موجودہ دور میں بلوچ اور کُرد اپنی قومی آزادی کے لئے قبضہ گیریت کے خلاف بر سر پیکار ہیں یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ معاشی اور سیاسی ناانصافی سے تلخی اور کشیدگی پیدا ہوتی ہے جو اکثر تشدد کا رخ اختیار کر لیتی ہے ان مسائل کے بارے میں وسیع نظری سے کام لینا چاہیے وگرنہ عالمی برادری مسائل کی جڑ تک نہیں پہنچ سکے گی.

حالیہ دنوں بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بی ایل اے کو امریکہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دینا یقیناً امریکی مفادات کی عکاسی کرتا ہے کیونکہ وسط ایشائی خطے میں بالخصوص افغانستان میں جاری جنگ امریکہ کا دردِ سر بن چکا ہے اور وہ اس خطے سے با عزت نکلنا چاہتا ہے اور اس باعزت نکلنے کے لئے پاکستان کی عیاری اور ہمیشہ آزمائی گئی دوغلی پالیسیوں کے سامنے سجدہ ریزی پر مشروط ہیں امریکہ آج بھی اس امر کو سمجھنے میں ناکام ہے کہ  پاکستان دہشت گرد ملک ہے، کیا یہ دہشت گردوں کی سرپرستی کرتا ہے جیش محمد ، لشکر طیبہ، جماعت الدعوہ، فلاح انسانیت، حقانی نیٹ  ورک وہ دہشت گرد گروپس ہیں جن کی ریاست پاکستان  سرپرستی کرتی ہے۔ حقیقت یہ کہ پاکستان تو پچھلے پندرہ سولہ برسوں سے افغانستان سمیت بلوچستان اور انڈیا میں دہشت گردی پھیلا رہا ہے بجائے اس کے کہ امریکہ اس حقیقت کو سمجھے کہ اس خطے میں انڈیا افغان اور بلوچوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے اصل چہرے کو بے نقاب کرکے دہشت گردی کے جڑ کو بنیاد سے اکھاڑ پھینکے لیکن بدقسمتی سے امریکہ سمیت وہ تمام عالمی قوتیں اپنے عارضی مفادات کے پیش نظر پاکستان اور چائینا کے ہاتھوں بلیک میل ہو کر بیک جنبش افغانستان بلوچستان اور انڈیا کے حقیقی امن کو تہہ و بالا کرنے کے مرتکب ہورہے ہیں. انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ امریکہ کی طرف سے بلوچ مسلح تنظیم بی ایل اے جو خالص عالمی قوانین کے مطابق اپنا جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے کو دہشت گرد قرار دینے کے خلاف انڈیا اور افغانستان ہنوز خاموش ہیں حالانکہ 2017 کو اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کی طرف سے تجویز کردہ دہشت گردی کے بارے میں بین الاقوامی کنوینشن کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں دہشت گردی اور حق خود ارادیت کے لیے جاری جائز تحریکوں کے درمیان فرق کو واضح کیا جانا چاہیے اور آج اسی فرق کو عالمی سطح پر انڈیا نے واضح کرنا ہے جس کے خلاف پاکستان ہمیشہ شاطرانہ کھیل کھیلتا ہے اس کے ساتھ ساتھ امریکہ سمیت اقوام متحدہ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ دہشت گردی اور قومی آزادی کے تحریکوں کے بین ایک بڑا فرق ہے اور اس فرق کو بجائے نجی مفادات کے بھینٹ چڑھائے جانے کے ان جاری تحریکوں کو کمک و مدد فراہم کرکے ان خطوں میں جاری تحریکوں کے اصل لوازمات کو سمجھیں تاکہ دنیا میں دوغلی پالیسیوں کے شہنشاہوں کے عزائم کو خاک میں ملا کر ان قوتوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کا قلعہ قمع کیا جا سکے نا کہ دہشت گردوں کے سامنے سجدہ ریز ہو کر اصل قومی قوتوں کو دہشت گرد قرار دیکر بری الذمہ ہوا جائے.


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔