ڈاکٹر دین محمد سمیت دیگر لاپتہ افراد کا جرم یہ ہے کہ انہوں نے ظلم کے خلاف آواز بلند کی – بی ایس او آزاد

38

بی این ایم کی اعلان کردہ احتجاج کی حمایت کرتے ہیں – بی ایس او آزاد

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد کے مرکزی ترجمان نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ 28 جون 2009 کو پاکستانی فورسز اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغواہ ہونے والے بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی رہنماء ڈاکٹر دین محمد بلوچ کی جبری گمشدگی کو دس سال کا طویل عرصہ مکمل ہورہا ہے لیکن تاحال ان کے بارے میں اہلخانہ کو کوئی علم نہیں کہ وہ کہاں اور کس حال میں ہے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ ڈاکٹردین محمد سمیت تمام جبری طور پر لاپتہ لوگوں کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ اپنے لوگوں پر ہونے والےناانصافیوں اور ظلم اور جبر کے خلاف آواز بلند کرتے تھے اظہار رائے کی آزادی دنیا کے تمام انسانوں کا بنیادی حق ہے دنیا کے تمام قانون عقائد اور روایات کسی کویہ اجازت نہیں دیتے کہ وہ انسانوں سے انکے بنیادی حقوق چھین لے مگرریاست پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کو پاؤں تلے روندا جارہا ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ آج بلوچستان میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ اس امید میں بیٹھے ہیں کہ انکے پیارے بازیاب ہوکر آئیں گے لیکن دس دس سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود ان کی کوئی خبر نہیں اور لاپتہ لوگوں کے انتظار میں ان کے خاندان نہ جانے کیسے کیسے اذیتوں سے گزر رہے ہیں۔

ترجمان نے اپنے بیان کے آخر میں بلوچ نیشنل موومنٹ کی جانب سے اعلان کردہ احتجاجی مظاہروں ریفرنسز اور آن لائن کمپئن کی حمایت کرتے ہوئے کہ کہا کہ تمام ممبران اور کارکنان کو تاکید کی جاتی ہے کہ وہ بلوچ نیشنل موومنٹ کے احتجاجی مظاہروں ریفرنسز اور آن لائن کمپئن میں بھرپور حصہ لیں۔