پاکستان آرمی پشتونوں کے خون سے منافع بخش کاروبار کررہا ہے – منظور پشتین

911

طالبان کی دربارہ آبادکاری کے لئے پشتونوں کی سرزمین استعمال نہیں ہونےدیں گے ۔

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے پشاور میں جاری دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

انہوں نے کہا کہ ‏وزیرستان میں طالبان کو پروٹوکول کیساتھ دوبارہ لایا جارہاہے، اگر دہشتگردی ریاست کی پالیسی مجبوری ہے تو بے شک انکے لئے ماڈل ٹاؤن بنائیں ہم انکی آبادکاری کیکیلئے شتونوں کی سرزمین دوبارہ استعمال نہیں کرنے دینگے اور اسکے خلاف مزاحمت جاری رکھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ فوج ہمارے خون پر اب تک اربوں ڈالروں کا کاروبار کرچکا ہے اب چونکہ ہم نے انکے کاروبار کا راستہ روک کردیاہے تو انہوں نے پہلے مرغی اور انڈوں کے زریعے، پھر بیرونی امداد کی بھیک مانگ کر، اور آخر میں کراچی کے سمندر سے تیل نکلنے کی امید کے سہارے اپنی معیشت بچانے کی ناکام کوشش کی اور ان کوششوں میں ناکامی کے نتیجے میں اب وہ  ( پاکستان آرمی) دوبارہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ شاید پشتونوں کے خون کے منافع بخش کاروبار کے علاوہ انکے پاس کوئی چارہ ہے ہی نہیں اس لیے اب ہم سن اور دیکھ رہے ہیں کہ طالبان دوبارہ قبائلی علاقوں میں نمودار ہونا شروع ہو رہے ہیں۔

منظور پشتین نے کہا کہ آخر یہ طالبان دہشتگرد کہاں سے نازل ہونا شروع ہورہے ہیں، سارا علاقہ تو فوج کے قبضے میں ہے، بارڈر کو اپنے سیل کیا ہوا ہے، ہر جگہ اور راستے پر آپکی 950 نئے بنائے گئے قلعے اور چیک پوسٹیں ہیں آخر یہ لوگ کہاں سے آرہے ہیں، ہمیں انکے ارادوں کا علم ہے، پہلے وہ ہم پر دہشتگردوں کو مسلط کروا کر ہمیں دوبارہ قتل کریں گے، پھر ہمیں اُن سے  جاں خلاصی کیلئے فوج کو بلانے پر مجبور کیا جائےگا، اور پھر فوج آکر ہمیں پھر قتل کریگی اور اس طرح سے ہمارے خون سے انکا کاروبار چلتا رہیگا۔

 انہوں نے کہا ‏تم نے ہمارے ساتھیوں کو خریدنے کی ہر ممکن  کوششں کر، چونکہ وہ بکے نہیں تو تم نے ان پر غداری کے الزام لگادیا۔ ہم پر راء اور این ڈی ایس پر بکنے کا الزام ہے، آپ زرا دوگنی بولی لگا کر دیکھ لیں کہ کیا ہم بک سکتے ہیں، بکنے والے پشتون وہ دلال ہیں جو تمہارے ساتھ ہیں۔

 انہوں نے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ‏پشتو کی کہاوت ہے “ہم نہیں کہتے کہ تم چور ہو لیکن تم جب بھی ہمارے گھر آتے ہو ہماری چوری ہوجاتی ہے”۔ ہم کہتے ہیں کہ کہ تمہاری معاشی ترقی اُسی وقت ہوتی ہے جب ہمارا خون بہنا شروع ہوجاتا ہے، ‏ڈالروں کے عوض تو تم نے اپنے وطن، عزت اور ناموس کو بیچا، ہم نے نہیں، اسلئے تمہیں لگتا ہے کہ ہر کوئی تمہاری طرح بکاؤ مال ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ  وہ کہتے ہیں کہ فوجی دہشتگردوں کے ہاتھوں مرے ہیں، مان لیا، لیکن دہشتگردوں کو کس نے بنایا؟ کیا وہ کرنل امام کے شاگرد نہیں،کیا وہ جنرل حمید گل کے دل کے ٹکڑے اور مشرف کے ہیروز نہیں تھے؟ اگر تمہارے فوجی تمہارے ہی پالیسیوں کے ہاتھوں مرے تو ہم سے کیا شکوہ؟

تمہاری پالیسیوں کے نتیجے میں ہمارا جو خون بہا ہم اسکا حساب کس سے مانگیں؟ تم اگر مرے تو کم از کم اسکا معاوضہ تو وصول کیا، ہمیں کیا ملا؟ تمہارے جرنیل تو اپنے ہی فوجیوں کو مروا کر انکی شہادت کا کارڈ اپنے آپکو احتساب سے بچانے کیلیے استعمال کرتے ہیں ہمیں کیا ملا ؟

 انہوں نے کہا کہ آج تک جتنے فوجی بھی مرے ہیں انکو فوج ہی کی پالیسیوں کی خاطر قربانی کا بکرا بنایا گیا، اور آج انہی کی موت کو فوج ہم پر کیش کرتی ہے،انکی موت کسی کرنیل،میجر یا جرنیل کی انفرادی فیصلے نہیں بلکہ فوج کی منظم پالیسی کا نتیجہ تھے۔اسلئے فوجیوں کی دہشتگردوں کے ہاتھوں موت ہم پر مت بیچو۔