علی حیدر کو آزاد کرو – چاکر بلوچ

44

علی حیدر کو آزاد کرو

تحریر: چاکر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تپتی سڑک، بدلتے موسموں کی ہوائیں، وہ کوئٹہ سے کراچی اور پھر کراچی سے اسلام آباد تک تھکا دینے والا سفر۔ کون ماں اپنے کمسن بچے کو خوشی سے روانہ کر دیتی.علی حیدر لانگ مارچ میں ہاتھ میں ایک ریڑھی کو اپنی زمہ داری سمجھ کر قبول کر لیتاہے، جس طرح ریڑھی کا وزن اس سے زیادہ تھا، اسی طرح اس کے خیالات بھی عمر کے لحاظ سے بھاری تھے۔

علی حیدر کے والد کو خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے 2011 کو مشکے سے گوادر جاتے ہوئے اوتھل کے مقام پر مسافر کوچ سے اتار کر اس کے آنکھوں کے سامنے لاپتہ کردیا، اس کے بعد وائس فار بلوچ مسنگ تنظیم نے لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کیا تو کم سن علی حیدر بھی لانگ مارچ میں شامل ہونے کے لیئے تیار ہوئے، اس وقت علی حیدر کا عمر گیارہ سال تھا۔

اس بچے کی عمر کھیل کھود کی تھی لیکن اس سے اپنے والد رمضان بلوچ کی گمشدگی کا درد سہا نہیں گیا، وہ اس لانگ مارچ میں ماما قدیر، فرزانہ مجید اور بیروخ بلوچ کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کیا اور ان کے ساتھ ہم قدم ہوا، علی حیدر کے حوصلوں کا ان چار ماہ کے پیدل سفر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کتنے مضبوط سوچ کا مالک ہے۔

علی حیدر کے والد کا قصور یہ تھا کہ وہ مظلوم قوم اور ظالم کے ظلم کے خلاف آواز بلند کررہے تھے اور علی حیدر کا قصور یہ ہے کہ وہ اپنے والد رمضان بلوچ کی جبری گمشدگی پر ریاستی اداروں کے خلاف آواز بلند کررہے تھے کہ اگر اس کے والد مجرم یا قصوروار ہیں تو اسے ریاستی آئین کے تحت عدالت میں پیش کیا جائے نا تو علی حیدر نے ریاست مردہ باد کا نعرہ لگایا ہے نہ ریاست کو نقصان دینے کے لیئے ایسی کوئی حرکت یا عمل کی ہے، علی حیدر بلوچ کی گمشدگی اس کے عمر کے لحاظ سے سوالیہ نشان بن چکی ہے، ریاست کو شاید علی حیدر سے اس بات کا ڈر ہے کہ کل علی حیدر ہمیں کوئی نقصان نہ دے، شاید ریاست نے اسے اس وجہ سے لاپتہ کردیا۔

پاوں زخمی سہی ڈگماتے چلو
اپنے زنجیر کو جگمگاتے چلو

ریاست نے علی حیدر کو اس کے باپ کے سائے سے محروم کردیا تھا، آج اسے اس کی ماں سے دور کرکے اس بات کی سزا دیی جارہی ہے کہ وہ ایک بلوچ ہے اور ایک مظلوم قوم سے تعلق رکھتا ہے۔ ریاست کی ظلم کی انتہاہ اس حد تک ہے آج اپنے سرزمین پر نہ تو ایک معصوم بچہ محفوظ ہے نہ ایک بہن محفوظ نہ ایک ماں آج ایک بیٹا اپنے باپ کے آنے کے انتظار میں خود ہی لاپتہ ہوا۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔