شہید خلیل جان مینگل – بلوچ خان بلوچ

71

شہید خلیل جان مینگل

تحریر: بلوچ خان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

آج میں ایک ایسے دوست کی یاد میں لکھ رہا ہوں، جس کی استادی اس سفر میں ہمشہ میری رہنمائی کرتا رہا ہے، لیکن مجھ جیسا بد بخت انسان بہت عرصے سے ان کی یاد لیئے دل میں پھرتا رہتا ہوں۔ ہمیشہ سے میں سوچتا تھا کہ کبھی فرصت ملا میں لکھ لونگا بعض اوقات میں لکھنے پر بیٹھ بھی جاتا لیکن خوبصورتی سے لکھنے میں میرا دماغ میرا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔

شاید اس لیئے، کہیں میں انکے کردار میں جو کچھ بھی لکھ رہا ہوں، انکے ساتھ کہیں نا انصافی نہیں کرلوں۔ اس لیئے بہت عرصے بعد وہ ہمت آج کرکے لکھ رہا ہوں لیکن یقیناً انکا کردار مجھ جیسے نالائق کی سوچ و سمجھ سے بالا ہے۔ خیر پھر بھی کوشش کرکے تھوڑا بہت انکے یاد میں لکھ رہا ہوں۔

دنیا میں جتنی بھی قابض قوتیں و ظلم آج تک مظلوم اقوام کے ہاتھوں مات کھائی ہیں شکست سے دو چار ہوئے ہیں یا جتنے بھی قوموں کا دنیا میں جھنڈا لہرایا جاتا ہے، وہ محنت، لگن، ہمت اور لازال قربانی کی بدولت ہے۔ ان جیسا ہمت و حوصلہ جذبہ و قربانیاں، ان جیسے بہادر سپوتوں کی بدولت قوموں کو ملی ہیں.

خضدار شہر سے تعلق رکھنے والا یہ فرزند امیرالمک، سمیع مینگل، حئی نثار و سعید بارانزئی و دیگر ہزاروں شہیدوں کی طرح ہر وقت وطن کی فکر دل میں لیئے پھرتا وگھومتا تھا۔ اس کو دیکھ کر یہی لگتا تھا کہ وہ ہر وقت اپنے دشمن کو مات دیکر ہی شاید سکون کی نیند سوتا ہوگا، بغیر کام کے اس کو نیند بھی صحیح معنوں میں نہ آتی ہوگی۔

دیکھنے میں وہ لاغر بدن، سادہ مزاج، حوصلہ و ہمت اور صبر کا پیکر، وہ خود اپنی مثال آپ ہی تھا اور شہر میں رہنے کے باوجود آج بھی کسی شوان سے کم نہیں تھا۔

وہ کوئی اور نہیں شہید خلیل جان مینگل ہی تھا دن کو جاکر کالج میں نوجوانوں کی مدد کرکے انکے لیئے فارم بھرنا اور انکی کمک کرنا اور ساتھ ساتھ انکی شعوری تربیت کرنا کوئی ان سے سیکھتا اور بعض اوقات ہمیں کسی کام سے باہر جانا ہوتا تو خلیل جان سے کہہ دیتا کہ وہ ہمارا فلانہ کام کرلیں، یہ کوئی نئی بات نہیں تھی، ہمارے علاوہ ایسے سینکڑوں دوستوں کے کام میں وہ آتا رہتا۔ وہ ہر کسی کے کام میں آتا رہتا تھا اور انکی جان پہچان نہیں ہوتی تھی، پھر بھی قومی فکر کی وجہ سے وہ اپنا قومی فرض سمجھتا تھا اور انکے کام کرتا تھا۔

انکے خوش مزاجی کی وجہ سے اگر کوئی بھی شخص ان سے ملتا، تو کسی کا بھی دل و مزاج اور موڈ ان سے فوراً لگتا تھا، ہر کسی کا دل یہی کرتا کہ میں ہمشہ خلیل کی خوش گوار و خوش گفتار محفل میں مگن رہوں، کھبی ان سے رخصتی کے ٹائم جانا ہوتا تو دل ساتھ نہیں دیتا ان سے الگ ہونے کو اور جب بھی الگ ہوتا دل بیٹھ جاتا۔

اپنے دوسرے کاموں سے فارغ ہونے کے بعد شام کو اس نے اپنے لیئے کچھ بھیڑ بکریاں، اپنے شوق کی خاطر پال رکھا تھا، انکو پال پوس کر پالتا اور اپنے سادہ مزاج طریقے سے ٹائم پاس کرتا اور اپنے سوچ میں دشمن کے خلاف نئی حکمت عملی تیار کرنے میں لگا رہتا.

شام ہوتے ہی یہی سادہ سا خلیل اپنے اصلی کردار میں شیر کی طرح میدان میں اتر آتا تھا اور سنگت سعید بارانزئی کے ساتھ تو کبھی دوسرے فکری دوستوں کے ساتھ اپنے دشمنوں کے شکار کے لیئے نکلتا اور شیر کی طرح حملہ آور ہوتا اور کامیاب حملے کے بعد ہی گھر جاکر دم لیتا، بعض اوقات ایک دو دن بھی لگتا، بس یہی فکر و سوچ میں ڈوبا رہتا کے کہیں یہ کام خراب نا ہو جائے اور اسی بےچینی کے عالم میں محنت و ہمت سے اپنا کام سر انجام دیتا۔

وہ خود کو ہمشہ کیمو فلاج رکھنے میں اور راز داری میں بہت سخت تھا اور تنظیمی اصولوں کا بڑا ماہر تھا اور ہمشہ ہمیں بھی یہی درس دیتا رہتا تھا، ایسا لگتا کہ خلیل کبھی کسی دشمن کی نظر میں نہیں آئیگا، اپنے سادہ مزاجی، اپنے اصول اور اپنے کام کی حکمت عملی کی وجہ سے کبھی ظاہر نہیں ہوگا.

بد قسمتی کہیں یا کمزوری، اس ٹائم حالات بھی کچھ ایسے تھے، تربیت دینا اور نئے دوست بنانا انکا کام تھا، ادھر بھی بخوبی محنت و لگن سے اپنا کام سر انجام دے رہے تھے اور نئے دوست بنارہے تھے۔ اسکے علاوہ وہ اپنی قابلیت کی وجہ سے ہر کام منحت و لگن سے کرتا، اس وجہ سے دوست انکے حصے میں کچھ زیادہ ہی کام ڈال دیتے تھے۔

بی اس او کی وال چاکنگ، پمفلیٹ تقسیم سے لے کر دوسرے تنظمی کاموں کی وجہ سے ظاہر ہوجاتا، جو اکثر انکے ہی حصے میں آتے تھے اور وہ ہر جگہ اپنے کام کو پایہ تکمیل تک پہنچاتا رہتا تھا اور آزاد بلوچستان کے جھنڈوں سے ہر گلی کوچے کو رنگتا رہتا تھا۔

انکا نام شاید اسی وجہ سے دشمن کی لسٹ میں آیا تھا اور دشمن کی نظر میں بہت جلد آگیا، خلیل کو اور بھی رہنا تھا، کم سے کم اپنے لیئے نا صحیح اپنے تحریک قوم اور قوم کے آنے والے نسلوں کے لیئے، آپ کو زندہ رہنا تھا، آپ کو اور بھی کام کرنا تھا، اس وجہ سے کہ آپ کا لہجہ آپ کا اپنا تجربہ، آپ کی اپنی قابلیت، جو تربیت کے بارے میں تھا تحریک کیلئے بہت مفید ہوتا۔ وہ کسی تعریف کا محتاج نہیں تھا، اس لیئے آپ کو کچھ دن اور بھی زندہ رہنا تھا۔

میں کہتا تھا، یار خلیل تم جانتے ہو تم اشتہاری ہو. دشمن کی صرف گاڑیاں بھی تمہارے پیچھے پڑے ہیں، تم کہیں جاتے بھی نہیں ہو، وہ کہتا جاونگا پہلے یہ کام تھوڑا سنبھل جائیں، سعید جان بھی اب شہید ہوگیا ہے، اب ہمیں ہی یہ کام سنبھالنا ہوگا اور اس کے بعد دیکھتے ہیں کچھ سوچتے ہیں، خیر کچھ وقت نکل گیا وہ اپنی منزل کی جناب روانہ ہوا۔

اسکے بعد ہمیشہ ان سے فون پر حال احوال ہوا کرتا تھا اور پتہ چلا وہ پھر آیا ہے، اپنے جان کی پرواہ کیئے بغیر اپنے کام کو سر انجام دینے کے لیئے، پھر سے اپنے علاقے آیا تھا۔ خیر کسی مسئلے کی وجہ سےمیرا ملاقات ان سے نہیں ہو پایا۔

کچھ وقت کے بعد یہ سننے کو ملا دوشمن نے انکے گھرپر چھاپہ مار کر انہیں اور انکے بڑے بھائی کو اٹھایا ہے اور کچھ وقت کے بعد ایک دن نیوز چینل میں صبح صبح یہ خبر ملی کہ خلیل جان کی لاش گرائی گئی ہے اور بعد میں بعض دوستوں سے پتہ چلا کہ دشمن نے انہیں بے دردی سے شہید کیا ہے۔

جب میری آنکھوں سے یہ خبر گذرا، ایسا لگا کہ میرے پیروں تلے سے زمین نکل گیا اور ایسے عالم میں مبتلا ہوا کہ شاید میں بیان بھی نہیں کر سکتا، بس اسکے بعد انکا حوصلہ و ہمت، ایمانداری،آج تک ہر موڑ پر میری رہنمائی کرتے آرہے ہیں۔ ایسے فرندوں کے بدولت تاریخ ہمشہ بلندیوں کو چھوتے ہیں، دنیا گواہ ہے ان جیسے فرزندوں کی وجہ سے قوموں کی تعریف کی جاتی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔