زاکر مجید بلوچ کی عدم بازیابی انسانی حقوق کے اداروں اور عدلیہ کی ناکامی ہے – والدہ 

52

لاپتہ افراد کمیشن زاکر مجید کا کیس بنا کسی وجہ کے بند کرچکی ہے۔ زاکر مجید کے کیس کو خارج کر دینے سے یہ صاف ظاہر ہے کہ کمیشن سمیت تمام ادارے لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔ 

.دی بلوچستان پوسٹ نمائندہ کوئٹہ کے مطابق ایک دہائی سے زائد عرصے سے جبری طور پر لاپتہ بی ایس او آزاد کے سابقہ وائس چیئرمین اور سیاسی رہنما زاکر مجید بلوچ کے والدہ نے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں ان کے جبری گمشدگی کے دن کے مناسبت سے پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا ہے کہ میرے بیٹے زاکر مجید کے گرفتاری اور گمشدگی کو آج دس سال مکمل ہوچکے ہیں، میرے بیٹے زاکر مجید کو 8 جون 2009ء کو مستونگ کے علاقے پڑنگ آباد سے اس کے دو دوستوں کے ہمراہ سیکیورٹی فورسز کے اہلکار گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے، اس کے دونوں دوستوں کو بعد میں رہا کردیا گیا لیکن میرا بیٹا زاکر مجید تاحال لاپتہ ہے۔

انہوں نے کہا زاکر مجید ایم۔اے کا طالب علم تھا۔ اس کی اس طرح بغیر کسی ثبوت و جرم تحویل میں لینا اور گمشدگی انسانی حقوق کے اداروں اور عدلیہ کی ناکامی ہیں۔ زاکر مجید کی جبری گشدگی کے دس سالوں کے دوران ہم نے ہر فورم پر ان کی بازیابی کے لیے آواز اٹھائی، پریس کانفرنس کیئے، ریلیاں نکالی، میری بڑی بیٹی فرزانہ مجید نے کوئٹہ سے اسلام آباد تک کے تاریخی لانگ مارچ میں شرکت کی، سپریم کورٹ آف پاکستان سمیت بلوچستان آئی کورٹ اور لاپتہ افراد کے کمیشن میں کیس جمع کیئے، یو این کے ورکنگ گروپ کے سامنے زاکر مجید کا کیس پیش کیا اور ان کی یقین دہانی کرانے کے باوجود زاکر تاحال بازیاب نہیں ہوسکا جبکہ لاپتہ افراد  کمیشن جسے لاپتہ افراد جیسے سنگین مسئلے کو حل کرنے کیلئے بنایا گیا تھا وہ زاکر مجید کا کیس بنا کسی وجہ کے بند کرچکی ہے۔

زاکر مجید کے والدہ کا کہنا تھا کہ لاپتہ افراد کا کمیشن اپنا کردار ادا کرنے میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔ اس کی کارکردگی پر ہمیں پہلے سے ہی خدشات لاحق تھے کیونکہ یہ شفاف طریقے سے کام نہیں کر پارہی تھی اور اس کے تمام کاروائی اطمینان کن نہیں تھے مگر اس طرح زاکر مجید کے کیس کو خارج کر دینے سے یہ صاف ظاہر ہے کہ کمیشن سمیت تمام ادارے لاپتہ افراد کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا جبری گمشدگیاں انسانی حقوق کے سنگین خلاف ورزی ہیں۔ جسے دنیا کے کسی بھی قانون میں جگہ نہیں ہیں۔ اقوام متحدہ کے منشور کے دفعہ پانچ کے تحت کسی شخص کو جسمانی اذیت یا ظالمانہ، انسانیت سوز سزا نہیں دی جائیگی اور کسی فرد کو حراست میں لینے کہ بعد اسے چوبیس گھنٹے کے دوران عدالت میں پیش کرکے اسے اپنی دفاع کا موقع دیا جاتا ہیں۔ میں کئی مرتبہ کہہ چکی ہو کہ اگر میرے بیٹے نے کوئی جرم کیا ہے تو اسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائے جبکہ خود پاکستان کا آئین بھی ماروائے عدالت گرفتاریوں کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

زاکر مجید کے والدہ نے کہا میرے بیٹے کو پچھلے دس سالوں سے کس گناہ کی سزا دی جارہی ہے؟ کیا پاکستانی ریاست میرے بیٹے کے پچھلے دس سال واپس کر سکتی ہے؟ ان دس سالوں میں ہم نے جس کرب سے زندگی گزاری ہے اس کا حساب کون دے سکتا ہے؟ سیکورٹی فورسز نے بنا کسی ثبوت کے میرے گھر کے چراغ کو بند سلاسل رکھا ہے۔ پچھلے دس سالوں سے میں بے بس زندگی گزار رہی ہوں۔ ایک دہائی سے ایک معصوم انسان کو بغیر کسی جرم کے انسانیت سوز سزائیں دی جارہی ہیں یہ انسانیت کی سب سی بھیانک خلاف ورزی ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ میرے بیٹے کی زندگی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ میں اسی امید میں بیٹھی ہوں کہ کسی نہ کسی دن میرا بیٹا لوٹ کر آ جائیگا ۔

انہوں نے کہا میں اس پریس کانفرنس کے توسط سے انسانی حقوق کے اعلی اداروں اور حکومت پاکستان سے اپیل کرتی ہوں کہ میرے بیٹے زاکر مجید کو رہا کیا جائے اور مجھ سمیت میرے خاندان کو اس کرب سے نجات دلائے۔