آؤ ایک اور لانگ مارچ کریں – بالاچ قادر

104

آؤ ایک اور لانگ مارچ کریں

تحریر: بالاچ قادر

دی بلوچستان پوسٹ

تم آئے تھے اس رات گیٹ کے باہر، تم نے فون کیا باہرآجاؤ ضروری کام ہے۔
ہاں علی کیا ہوا؟
“گاڑی والے آئے، مجھے بلایا اور کہا آئندہ ایسا کیا تو آگے خود جانتے ہو کیا کرینگے”
میں رات بھر جاگتا رہا اسی سوچ میں کہ تم نے ایسا کیا کیا ہے؟
آرمی اسکول پر حملہ۔۔۔۔ کہیں تم کوئٹہ کے سول ہسپتال میں شہید ہونے والے وکلاء کے قتل میں ملوث تو نہیں ہو؟ یا لال مسجد پر بم گرائے تم نے؟
اس رات گیٹ کے باہر تمہاری آنکھیں سوال کررہے تھے گاڑی والوں سے کہ “میں نے کیا کیا ہے؟”

پھر ایک دن تم نے بتایا ” یاربالاچ ماسٹر نے اسکول سے نکال دیا ہے”
میں نے ماسٹر کو فون لگایا، کہتا ہے “معاف کیجئے نہیں ہوسکتا”

علی تم تو بڑے دہشت گرد نکلے یار، اسکول کے ماسٹر بھی ایڈمیشن دینے سے انکاری تھے، پھر مجھے کیوں نہیں بتایا؟ تم نے کیوں اتنا بڑا راز چھپائے رکھا مجھ سے؟

تم نے تو صرف مجھ سے کہا تھا کہ میں لاپتہ رمضان کا بیٹا ہوں۔ والد کا سایہ سر سے اٹھ جانے سے گھر کے رات قیامت جیسے ہیں۔ تم نے تو بتایا تھا کہ میں ایک مجبور، بے کس اور بے سہاراہ آدمی ہوں۔ اپنے والد کو ڈھونڈ رہا ہوں تو پھر کیوں تمہیں لاپتہ کردیا گیا؟

مجھے توآج معلوم ہوا کہ اس رات کے گاڑی والے اپنا وعدہ نبھا کرچلے۔

علی ایک بات بتاؤ؟ تم نہیں ہو تویہ تصویر کون اٹھائے گا؟ شال کی یخ بستہ سڑکوں پر کون چیختے چیختے زندگی کی تلاش میں نکلے گا؟ یہاں تو سب گونگے ہیں، میری طرح۔ کون بولے گا انسانیت کی عصمت دری کے خلاف؟ کون نکلے گا تاریک راہوں میں شمع لیکر۔

علی۔۔۔ پھر آؤ نا! اب بھی سفر باقی ہے ویرانوں کا، اب بھی تاریکی ہمارے بچوں کو نگل رہی ہے۔ علی آؤ اس بار ساتھ چلتے ہیں امیدوں کا شمع لیکر۔ آؤ پھر ایک اور لانگ مارچ کریں، اقتدار کیلئے نہیں، حکومت گرانے کیلئے نہیں، بجٹ کیلئے نہیں، آسائشوں کیلئے نہیں بلکہ ہزاروں لاپتہ رمضانوں کیلئے جن کے گھر میں تاریکی ہے، ڈر ہے، بے بسی ہے، بھوک ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔