کچکول آج بھی مسکراتا ہے – دلجان بلوچ

188

کچکول آج بھی مسکراتا ہے

دلجان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

پانچ سال پہلے کی بات ہے انقلاب زندہ باد کا نعرہ مکران کے ہر گلی کوچے میں گونج رہا تھا، اُس وقت بی ایس او خود اپنے آپ میں ایک انقلاب تھا، جہاں بی ایس او کے جذباتی کارکنان موجود تھے، وہاں بلوچستان زندہ باد اور پاکستان مردہ باد کا نعرہ لازمی لگتا تھا چونکہ مسلح جنگ نئی نئی پنپ رہی تھی، اس لیئے بی ایس او اور بی این ایم نے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی تھی، عام لوگوں کے مجلسوں اور دیوانوں میں صرف بلوچستان ہی موضوعِ گفتگو تھا۔ اس دوران بی ایس او کے جذباتی کارکنان( جذباتی لفظ اس لیئے استعمال کر رہا ہوں کہ اُس وقت زیادہ تر کارکنان صرف جذبات کے بنیاد پر تنظیم میں شامل تھے جبکہ شعوری طور پر شامل کارکن گنے چنے تھے اور حسابی تھے جس کی مثال ریاستی جبر کے بعد اُن کی تنظیم سے رفو چکر ہونا تھا، جنہوں نے ریاستی طاقت کے ایک سال کے دورانیئے میں تنظیم سے اپنے آپ کو فارغ کردیا ) سمجھتے تھے کہ آزادی نعرے لگانے سے ملتی ہے، جبکہ جبر، طاقت، وحشیانہ ریاستی مظالم، بربریت اور ظلم و ستم، لاشوں کے انبار سے ناواقف تھے لیکن اس دورانیئے میں بھی کچھ ساتھی جذبات سے زیادہ شعوری بنیاد پر جدوجہد کر رہے تھے۔ ہاں البتہ وہ الگ بات تھی کہ وہ سیاسی اور علمی حوالے سے بہت ہی زیادہ کمزور تھے، لیکن پھر بھی جدوجہد سے مخلص تھے، قربانی دینے کا جذبہ رکھتے تھے، وطن اور دھرتی پر کچھ کرنے کا جذبہ ان کے دل میں موجود تھا۔

ہوشاب، تجابان، ہیرونک اور ان کے نزدیک کے علاقے ایسے تھے جہاں سیاسی جہد ناپید رہی ہے بلکہ نہ ہونے کے برابر رہی ہے جبکہ انقلاب کی نئی نئی پرچار شروع ہوئی تو کچھ نامراد، ناسمجھ، شوقِ سرمچاری اور کچھ اپنے مفاد کی خاطر جذباتیت کے بنیاد پر شامل ہوئے لیکن زیادہ تر مستقل نہیں تھے۔ علمی سطح سب کا زیرو تھا، اس کی ایک وجہ ان علاقوں کی نئی آبادی تھی کیونکہ یہ علاقے نئے نئے آباد ہو رہے تھے جبکہ ان کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں اور انقلاب سے پہلے ان علاقوں سے تعلق رکھنے والا کوئی بھی سیاسی رہنماء نہیں نکلا ہے، یہی وجہ تھا یہاں انقلاب صرف جذبات کے بنیاد پر تھا، جبکہ علمی حوالے سے بہت ہی زیادہ کمزور تھے لیکن بی ایس او میں کچھ نوجوان ایسے تھے جو علمی حوالے سے کمزور تھے لیکن ان میں وطن دوستی، دھرتی ماں پر فدا ہونے کا جذبہ پھوٹ پھوٹ کر بھرا تھا۔

انہی ساتھیوں میں سے ایک سنگت کچکول بلوچ تھا، میں نے اتنا ہی کچکول میں پایا کہ وہ کاز سے، قومی پروگرام سے، آزادی سے، مخلص ہے۔ یہ پانچ سال پرانی باتیں ہیں کچکول میں ایک جذبہ قربانی میں نے ہمیشہ محسوس کیا لیکن ہم سب خود ہی جذباتیت کے شکار تھے، اس لیئے ہم اُس وقت سب کو ایک ہی آنکھ سے دیکھتے تھے لیکن کچکول کی ایک بات آج بھی مجھے یاد ہے جو اُس نے ایک سرکل کے دوران کی تھی کہ ہمارے حقیقی ساتھیوں کا پتا تب چلے گا جب یہاں پر قابض پاکستان کی فوج ریڈ مارے گا، جب آپریشن ہونگے، شہادتیں ہونگی، گمشدگی اور مسخ شدہ لاشیں یہاں برآمد ہونا شروع ہونگے، ہم پہلے یہی سمجھتے تھے کہ لاش صرف کمبر چاکر، الیاس نظر، غلام محمد اور انہی کے ساتھیوں کی ملی ہے لیکن جس جبر، ظلم و بربریت، وحشت و درندگی کا سامنا بولان، خضدار، کوئٹہ، قلات، مستونگ اور ڈیرہ بگٹی کے نوجوان، بزرگ، ماں اور بہنیں کر رہے تھے، ان کا احساس ہمیں نہیں تھا بلکہ ان کے بارے علم بھی سطحی تھا لیکن کچکول کو سب پتا تھا، وہ جانتا تھا کہ آگے جاکر حالات کیا بنیں گے۔ وہ سمجھتا تھا کہ جدوجہد کو جاری رکھنا کتنا کھٹن ہے، جو بھی تھا لیکن وہ ہماری طرح صرف جذباتیت ہی کی بنیاد پر شامل نہیں تھا، کچھ جانتا سمجھتا تھا، اُس کے ساتھ میری خاصی دوستی اُس وقت نہیں رہی تھی، اس لیئے زیادہ کہنے کی جسارت نہیں کروں گا، جتنا جانتا ہوں اتنا ہی لکھنے کی کوشش کروں گا چونکہ ہم تنظیم میں نئے نئے شامل ہوئے تھے اور اُس وقت تنظیم میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے، اس لیئے ہماری زیادہ نزدیکیاں قائم نہیں ہوئیں لیکن چھوٹے ملاقات ہوتے رہتے تھے۔ اُس وقت وہ بہت ہی زیادہ پتلا تھا، اُس کی سب سے پیاری چیز اُس کی مسکراہٹ تھی، وہ ہمیشہ ہنستا تھا، مزاق کرتا تھا، حالات چاہے جس طرح بھی ہوں لیکن وہ مسکرانا نہیں چھوڑتا تھا۔ جب بھی ہم ملاقات کرتے تو سب سے پہلی چیز اُس کی مسکراہٹ تھی، مجھے اُس کا آخری ملاقات آج بھی یاد ہے۔

جب ہم کتابیں پہنچانے ہوشاب گئے تھے اور وہیں ہمارا آخری ملاقات ہوا، چونکہ اُس وقت حالات کافی بگڑ چکے تھے، فوج اب روزانہ کی بنیاد پر تربت سے ہوشاب آتا تھا، اب وہی حالات آ گئے تھے جس کے بارے میں کچکول جیسے ساتھی ہمیشہ ڈسکس کرتے تھے۔ ہم بھی اسی دوران علاقوں سے نکل کر شہروں کی جانب آگئے پھر کسی دوست سے پتا چلا کہ کچکول نے بی ایس او کو خیرباد کیا ہے، تو پھر معلومات سے پتا چلا کہ کچکول جان نے مسلح جنگ کا راستہ اپنایا ہے اُس کے بعد کبھی حال احوال نہیں ہوا، چونکہ ہم شہروں اور علاقوں میں بیٹھے ہوئے تھے اس لیئے حال حوال کی کوشش بھی نہیں کی۔ اُس کے بعد ہم نے بھی سیاسی جدوجہد جاری رکھی، تنظیم کو ہمیشہ فعال کرنے کی جدوجہد کرتے رہے لیکن ہوشاب کے اندر تنظیم کو مزید فعال کرانے کیلئے ہمیں ہمیشہ کچکول کی یاد آتی رہتی تھی، وہ بہت ہی زیادہ مخلص ساتھی تھا۔ کچکول ہوشاب میں تحریکِ آزادی کا بامِ ستارہ تھا، کچکول کے بعد یہاں سیاسی جدوجہد کو بہت زیادہ نقصان پہنچا، وہ بہت ہی خوش مزاج اور مستقل ساتھی تھا، یہ میں اس کی شہادت سے پہلے دعویٰ کرتا تھا، وہ ان علاقوں میں تنظیم کا واحد ساتھی تھا جس کو اُس وقت ہر کوئی قبول کرتے ہوئے اس کی تعریف کرتا تھا۔

پانچ سال کے طویل عرصے کے بعد یعنی شہادت سے تین چار مہینے پہلے کی بات ہے وہ ایک مقام پر پہنچ چکا تھا اور میں ایک اور مقام پر، وہ مسلح جدوجہد میں کافی آگے آ چکا تھا (مجھے اتنا معلوم نہیں تھا، وہ اب باقاعدہ مجید برگیڈ میں شامل ہو گیا ہے) ایک دن کسی سے رابطے کا ذریعہ لیکر مجھ سے حال حوال کیا۔ اُس کی آواز بھی میں بھول چکا تھا تو حال حوال پر اپنا نام بتایا، یہ پانچ سال کے بعد ہمارا پہلا حوال تھا، پھر کچھ پرانی باتیں ہوئیں لیکن اُس کی مسکراہٹ اور ہنسی غائب نہیں ہوئی تھی۔ اب اس کی آواز میں زمین کا درد بھی تھا اور اب وہ سیاسی حوالے سے بھی کافی شعور یافتہ ہو چکا تھا۔ ان پانچ سالوں میں پتا نہیں کیا پڑھا ہوگا، کن دوستوں سے تربیت لی ہوگی لیکن کچکول کو میں نے مزید مخلص، مزید مہروان، مزید پڑھا لکھا پایا۔

پانچ سالوں کا بڑھاس ہم نے تین گھنٹے مسلسل بات کرتے ہوئے خوب نکالا، سیاست سے لیکر علاقائی نوجوانوں کی سوچ و فکر اور تربیت پر خوب ڈسکس کیا، مسلسل دو مہینے تک ہمارے بیچ حال حوال ہوتا رہا اور پھر ہمارے بیچ رابطہ منقطع ہو گیا لیکن ان دو مہینوں میں کچکول جان سے بہت سی یادیں جڑگئیں جو آخری سانس تک میرے ساتھ رہیں گی۔

کچکول جان نے مسکراتے ہوئے اپنا فرض پورا کیا، اب ہمیں اُس کی راہ پر چلتے ہوئے اپنی ذمہ داریاں پورا کرنا چاہیئے۔ کچکول جان نے ہوشاب سے ایک فدائی بن کر قومی آزادی پر اپنا جان نچھاور کردیا، اب وہاں کے نوجوانوں کو بھی کچکول کو اپنا مشعل راہ بنانے کی ضرورت ہے، یہ وہ علاقے ہیں جہاں لوگ طعنے مارتے تھے کہ یہاں جہدکار بچے ہیں، جو شوق پورا کرنے کیلئے جدوجہد کر رہے ہیں لیکن کچکول کی شہادت اُن کی آنکھ کھولنے کیلئے کافی ہے کہ یہ جدوجہد ایک شعوری، فکری اور علمی جدوجہد ہے۔ جہاں اب جذبات کی جگہ شعور نے لے لی ہے، کچکول تو ہنستے ہوئے شہادت نوش کر گئے، اب ہماری باری ہے کہ اس کے فلسفے کو زندہ رکھیں اور اپنے بساط کے مطابق جدوجہد کا حصہ بنیں، ہمیں ہر حال میں دشمن کو شکست دینا ہوگا، ورنہ تاریخ کے دوراہے میں ہم وہ مجرم ہونگے جو آنے والے نسلوں کیلئے غدار کے نام سے یاد رکھے جائیں گے کہ ایک طرف شعور یافتہ نوجوان فدائی بنتے جا رہے تھے اور دوسری طرف ہم صرف تماشائی بنے ہوئے تھے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔