کشیدگی کے باوجود ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے – ٹرمپ

56

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بات واضح کردی ہے کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے، جس کے بعد واشنگٹن میں موجود سینئر حکام نے ایران کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کی راہیں تلاش کرنی شروع کردیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے قائم مقام سیکریٹری ڈیفنس پیٹرک شناہن کو بتایا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ نہیں کرنا چاہتے۔

میڈیا رپورٹس  کے مطابق امریکی اخبار کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی جانب سے اس بیان کا مطلب اپنے جگنجو ساتھیوں کو اس بات سے آگاہ کرنا ہے کہ وہ ایران پر دباؤ ڈالنے والی امریکی کوششوں میں شدت لا کر اسے تنازع میں تبدیل نہیں کرنا چاہتے۔

ایک دوسرے بیان کے مطابق امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے عمان کے سلطان قابوس بن سعید سے ایرانی خطرات کے بارے میں گفتگو کی، عمان کو طویل عرصے سے مغرب اور ایران کے درمیان ثالث کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

اس کے علاوہ مائیک پومپیو نے کشیدگی کم کرنے اور ایران کو قائل کرنے کے لیے یورپی حکام سے بھی بات چیت کی، یہ صورتحال امریکی خفیہ اداروں کی ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی جس میں بتایا گیا تھا کہ خلیج فارس میں ایران کے پاس میزائل سے لیس چھوٹی کشتیاں موجود ہیں۔

اس اطلاع سے اس بات کو تقویت ملی کہ تہران امریکا یا اس کے اتحادیوں کے فوجی دستوں اور اثاثوں کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

اس حوالے سے جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا-ایران کے ساتھ جنگ کرے گا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’مجھے نہیں اُمید ہے‘۔

یہ پیش رفت امریکی حکومت میں داخلی تناؤ کی جانب اشارہ کرتی ہے اور اس بات خطرہ پیدا ہوسکتا ہے کہ امریکی صدر ایران کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے تیار نہیں لیکن ان کے کچھ اتحادی ضرور ایسا کرسکتے ہیں۔

اس وقت امریکی حکام میں اندرونی طور ’ایران سے لاحق خطرات کی شدت‘ پر بھی بحث جاری ہے جبکہ حکام اور برطانوی اتحادیوں کا کہنا ہے کہ ایران سے حقیقی خطرہ ہے۔

دوسری جانب کچھ اراکین پارلیمنٹ اور حکومت کے عہدیداروں نے امریکی صدر کے اتحادیوں پر الزام لگایا کہ وہ ایران کے ساتھ فوجی لڑائی کے جواز کے طور پر خفیہ اطلاع اور خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ ایران، امریکی صدر کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کی تجویز کو مسترد کرچکا ہے اور اس سلسلے میں ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کا کہنا تھا کہ ’امریکی جارحیت ناقابلِ قبول ہے‘۔