چاغی، مقبوضہ بلوچستان کا ہیروشیما ہے۔ بی ایل ایم

121

اٹھائیس مئی کے مناسبت سے بلوچ لبریشن موومنٹ کی طرف سے پمفلٹ کا اجراء

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کے مطابق بلوچ لبریشن موومنٹ نے 28 مئی کو بلوچستان کے ضلع چاغی میں ہونے والے ایٹمی تجربات کے بابت ایک پمفلٹ ” چاغی، مقبوضہ بلوچستان کا ہیروشیما” کے عنوان سے جاری کی ہے۔ پمفلٹ میں اس دن کو بلوچوں کیلئے ایک سیاہ دن قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ” اٹھائیس مئی بلوچ قومی تاریخ میں سیاہ دن کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن پاکستانی قابض فوج نے بلوچ سرزمین پر اپنے تباہ کن ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ چاغی کے پہاڑی علاقے راسکوہ میں عین آبادی کے قریب کرکے بلوچ قوم کو تباہی اور مہلک بیماریوں سے دوچار کردیا، جس کے اثرات چاغی اور اسکے ملحقہ علاقوں میں صدیوں تک برقرار رہیں گے۔”

پمفلٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ “بلوچ عوام کی تباہی کو قابض ریاست جشن سے یوم تکبیر کے طور پر مناتی ہے جبکہ اسے بلوچ تاریخ میں ایک سیاہ دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور یہ اس بات کی غماز ہے کہ پاکستانی ریاست اور بلوچ عوام کے درمیان رشتہ صرف قابض اور غلام کا ہے۔

اقوام متحدہ کے تخفیف اسلحہ کے ادارے کے مطابق کسی بھی ملک کو یہ اجازت نہیں کہ وہ انسانی آبادی پر کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرے لیکن پاکستان نے بین الاقوامی اصولوں کو مسترد کرکے اپنی دہشت گردی اور جارحانہ پن کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے۔ آبادی سے دو سو کلومیٹر تک کسی بھی ملک کو ایٹمی پلانٹ لگانے کی اجازت عالمی ادارے نہیں دیتے لیکن پاکستان نے نہ صرف حبکو پاور پلانٹ جیسے تباہ کار ایٹمی پلانٹ بلوچ آبادیوں کے نزدیک نصب کر رکھے ہیں بلکہ پاکستان نے چاغی میں ایٹمی تجربات کرکے انسانی اقدار کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔

ضلع چاغی میں بلوچ سرزمین پر ایٹمی تجربات کے باعث وسیع علاقے میں جو تابکاری پھیل گئی تھی، اس کے اثرات ابھی تک وہاں موجود ہیں۔ لاکھوں نفوس پر مشتمل بہت سے دیہات میں جوہری تجربات کی وجہ سے لوگوں کے لئے پینے کا صاف پانی ناپید ہو چکا ہے۔ تابکاری نے لوگوں کے اربوں مالیت کے باغات تک کو تباہ کردیا ہے۔ شدید خشک سالی کی وجہ سے لوگ مجبوراً راسکوہ کے دامن آباد متاثرہ کئی دیہات جن میں پدگ، چھتر، چارسر، دالبندین اور چاغی سے نقل مکانی کرنے میں مجبور ہوئے ہیں۔”

بی ایل ایم نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ “انہی دھماکوں سے کینسر، ٹی بی اور دمے جیسے خطرناک موذی امراض کا بھی جنم ہوا ہے، دھماکوں کے بعد راسکوہ کا تاریخی پہاڑ جل کر راکھ بن گیا اور ارد گرد موجود کئی علاقوں میں ان دھماکوں نے تباہی مچا دی، کئی افراد اس آگ کے لپیٹ میں آکر شہید ہو گئے، جنم لینے والی بیماریوں سے لوگوں کا فوت ہونے کا سلسلہ آج 22 سال بعد بھی تواتر کے ساتھ جاری و ساری ہے۔

قابض فوج کی جانب سے دھماکے کرنے سے پہلے لوگوں کو معلومات بھی فراہم نہیں کیا گیا تاکہ وہ اپنی جان بچا سکیں، دھماکوں سے پہلے پہاڑ کے نزدیکی علاقوں کے لوگوں کو قابض فوج نے ہراساں کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو اپنی گھروں سے دربدر کیا گیا اور کئی دن تک بے سر و سامان کھلے آسمان تلے چھوڑا گیا۔

ایٹمی تجربے سے ہونے والی تباہی نے چاغی اور اسکے گرد ونواح کے علاقے کے عوام کو شدید متاثر کیا ہے، ایٹمی تجربے موسم میں تبدیلی کا باعث بنے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں گرمی کی شدت میں خاصا اضافہ ہوچکا ہے اور بارشیں نہ ہونے کے برابر ہے اور انسانی زندگی شدید بحرانی صورتحال سے دوچار ہے ، چاغی اور اسکے گردونواح کے علاقے کے عوام کا ذریعہ معاش مال و مویشی اور گلہ بانی ہیں لیکن ان دھماکوں کی وجہ سے مال و مویشی کی ہلاکت اور فصلوں کی تباہی نے عوام کو دو وقت کی روٹی سے بھی محروم کردیا ہے۔ انہی ایٹمی تجربات سے ہونے والی مہلک بیماریوں نے بلوچستان کو اپنی لپیٹ میں لیکر وہاں اموات کی شرح میں خاصا اضافہ کردیا ہے، نوشکی اورخاران تک اس کے اثرات پڑے ہیں، جن سے بیشتر لوگوں میں جلد کے بے شمار امراض خارش، پھوڑے اور جلد کی خشکی، بالوں کا گرنا عام سی بات ہے. ان علاقوں میں موجود بیشتر خواتین میں اسقاطِ حمل کی پریشان کُن صورت حال موجود ہے. دھماکوں کے بعد تابکاری سے پید اہونے والی بیماریوں نے لوگوں کی زندگی اجیرن بنادی ہے۔ کینسر ،خاص کر جلد کا کینسر، آنکھوں کی بیماریاں سمیت زچگی میں پیچیدگیاں اورپیدائشی معذور بچوں کی شرح میں ہوش ربا اضافہ ہوچکاہے ۔اس کے ساتھ ہی ان دھماکوں سے نہ صرف انسان متاثر ہوئے بلکہ جنگلی حیات اور چراہ گاہیں تباہ ہوگئی ہیں۔ علاقے میں پانی کے چشمے سوکھ گئے ہیں اور تاریخ کے بدترین قحط سالی نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔

نیوکلیئر تابکاری کی وجہ سے آج تک بچے بوڑھے اور عورتیں مختلف بیماریوں میں مبتلا ہیں۔ جسے ہم بلوچ قوم کی نسل کشی اور بلوچ قوم کی سرزمین پر قبضہ آور پاکستانی فوج کا ایٹمی حملہ سمجھتے ہیں۔ میڈیا کی خاموشی اور عالمی اداروں کی غفلت سے ایک ایسا انسانی المیہ جنم لے چکا ہے جس کا سدباب نہ کرنا انسانی جانوں کے مزید ضیاع کا سبب بن سکتا ہے۔”

بی ایل ایم نے پمفلٹ میں مزید کہا کہ “یہ دھماکے اتنے شدید تھے کہ کئی میلوں تک بلوچ گلزمین ہل گیا، راسکوہ کے پہاڑوں میں موجود سارے جانور مر گئے اور پہاڑ جل کر راکھ میں تبدیل ہو گئے، اسی دوران قابض پاکستانی فوج کی جانب سے ان بلوچ کش دھماکوں پر جشن منایا گیا، سیمینارز منعقد کیئے گئے ، ریلیاں نکالی گئیں اس کے حق میں مظاہرے ہوئے، پاکستان نے اپنے روایتی حریف بھارت کو للکارا اور پاکستانی مولویوں نے انڈیا کے خلاف فتوے دینا شروع کی اور اس کو پاکستانی تاریخ میں سب سے بڑی کامیابی قرار دیا گیا۔

ان بلوچ کش دھماکوں کو ’یوم تکبیر‘ جیسے نام دیے گئے لیکن جس وقت یہ جشن منائے جا رہے تھے۔ اسی وقت بلوچستان کا سرزمین آگ کے شعلوں میں جل رہا تھا لوگ مر رہے تھے لیکن دشمن سے یہی توقع رکھا جا سکتا ہے، مگر اس جشن میں کچھ ضمیر فروش نام نہاد بلوچ بھی شامل تھے جنہوں نے کچھ لالچ کی خاطر اپنا ضمیر پنجاب کو بیچ دیاہے ۔ ایک طرف بلوچ مر رہے تھے۔ بچے اور عورتیں تڑپ رہے تھے اور دوسری جانب یہ غدار پنجاب میں بیٹھ کر دشمن کے سامنے اپنی وفاداریاں پیش کر رہے تھے، دشمن کے ساتھ جشن وخوشیاں منا رہے تھے۔ لیکن یہ قومی دلال ومجرم یاد رکھیں کہ دنیا میں غداروں کا کیا حشر ہوا ہے دلال کیسی موت مرے ہیں ان کا انجام بھی وہی ہوگا، قومی مجرموں کا عاقبت یہی ہونا ہے جو بنگلہ دیش میں ہوا جہاں دنیا میں قومی مجرموں کو قطعی معاف نہیں کیا گیا ہے بلوچ قوم بھی ان مجرموں کو معاف نہیں کرے گا۔

بلوچ عوام کی زندگیاں دشمن ریاست کے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتے جس کی مثال ہمیں چاغی میں ہونے والے ایٹمی دھماکوں سے ملتی ہے۔ ہر سال 28 مئی کو جہاں پاکستانی قوم بلوچستان کے سنگلاخ پہاڑوں کا سینا چیر کر کامیاب ایٹمی تجربے کے جشن مناتا ہے وہاں بلوچ قوم کیلئے یہ ایٹمی دھماکے، بلوچ عوام کی جبری اغوا نما گرفتاریاں بعد میں انکی مسخ شدہ لاشیں پھینکنا، بلوچستان بھر میں منشیات عام کرنا اور بلوچ قوم کی ذاتی مال و معیشت کو تباہ کرنا قابض ریاستی اداروں کے بلوچ عوام کی نسل کش پالیسی اور منصوبہ بندی کا حصہ ہیں۔”

بی ایل ایم نے عالمی اداروں سے پاکستانی جوہری پروگرام کے سدباب کا اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ “عالمی طاقتیں ایرانی جوہری معاہدے اور شمالی کوریا کے جوہری پلانٹ اور تجربات پر تو واویلا مچا رہے ہیں لیکن پاکستان کے عین آبادی کے قریب تجربات کو نظر انداز کرکے سنگین غلطی کا ارتکاب کررہے ہیں۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان مذہبی دہشت گردوں کا سرپرست اعلیٰ اور ان دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والا ملک ہے اور اپنے دوغلے پن سے پوری انسانیت کو خطرے میں مبتلا کرچکا ہے۔

پاکستان نے جوہری ہتھیاروں کو بلیک مارکیٹ میں پیش کرکے پوری دنیا کو بارود کا ڈھیر بنا دیا ہے۔ اس بارود کو اڑانے کی کنجی مذہبی دہشت گردوں کے دسترس سے دور نہیں کیونکہ خود پاکستان مذہب کو ہتھیار کے طور استعمال کرکے اپنی فوج کی تربیت مذہبی بنیادوں پر کر چکی ہے۔ اس وقت پاکستان دہشت گردوں کی نرسری اور محفوظ آماجگاہ ہے۔ پاکستانی ریاست اور فوج نے باقاعدہ فوج کے متوازی دہشت گردی کے مراکز قائم کر رکھے ہیں، جن کے ذریعے پوری دنیا میں دہشت گردی پھیل رہا ہے۔ اس بات کے قوی امکان ہیں کہ پاکستان کے دہشت گرد فوج اور پراکسی تنظیموں کی ملی بھگت سے دنیا بڑی تباہی سے دوچار ہوسکتاہے ۔

پاکستان مقبوضہ بلوچستان کی سرزمین کو فائرنگ رینج کے طور پر استعمال کرکے سنگین جرائم کا ارتکاب کرچکا ہے لیکن عالمی اداروں کی خاموشی اور اقوام متحدہ کے تخفیف اسلحہ کمیشن کی نا اہلی نے بلوچستان میں ایٹمی اسلحہ کے استعمال کی پاکستان کو چھوٹ دیکر ایک سنگین انسانی المیہ کو جنم دیا ہے جس کا سدباب نہ کرنا ان اداروں کے منہ پر طمانچہ ہے۔

اقوام متحدہ سمیت عالمی اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں پرنہ صرف سخت پابندیاں عائد کریں بلکہ پاکستان جیسے دہشت گرد ملک کو ایٹمی ہتھیاروں سے صاف کرے کیونکہ غیر ذمہ دار پاکستانی ریاست کے ہاتھوں ایٹمی ہتھیاروں کا ہونا عالمی امن اور انسانیت کیلئے ایک سنگین خطرہ ہے۔ اس خطرہ سے بچنے کیلئے مہذب اقوام کو چاہئے کہ وہ پاکستان کے خلاف عالمی قوانین کے مطابق ایکشن لیں۔ اس کے علاوہ دنیا کو اس بات کا بھی ادراک ہونا چاہئے کہ اس خطہ میں پائدار امن و سلامتی کے قیام کیلئے بلوچ قوم ہی وہ واحد قوم ہے جس پر پوری عالم دنیا اور انسانی حقوق کے ادارے مکمل یقین کر سکتی ہے لہذا ان کا انسانی و اخلاقی فرض بنتا ہے کہ کھل کر بلوچ تحریک آزادی کی بلا جھجک بھرپور ومکمل حمایت کا اعلان کرے اور پاکستان کی دہشت گردانہ تجربات کا نوٹس لیکر بلوچستان اور دنیا کو پاکستان کی شر انگیزیوں سے محفوظ کرانے میں اہم کردار ادا کرے۔