نوشکی: ڈاک میں پانی بحران کے خلاف عوام کا احتجاج

43

مظاہرین نے پی ایچ ای آفس کے سامنے احتجاجی دھرنا دیا۔

دی بلوچستان پوسٹ نمائندہ نوشکی کے مطابق درزی چاہ ڈاک میں پانی بحران نے سنگین صورتحال اختیار کرلی ہے جس کے خلاف علاقہ مکین سراپا احتجاج ہے ۔

درزی چاہ ڈاک میں پانی بحران کا مسئلہ حل نہ کرنے کے خلاف نوشکی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرین نے کہا کہ اگر 72 گھنٹوں کے اندر مسئلہ حل نہیں کیا گیا تو انام بوستان روڈ کو غیر معینہ مدت تک بلاک کرنے کے ساتھ احتجاج کا دائرہ کار کو شہر تک وسیع کیا جائے گا۔

مقررین نے مزید کہا کہ جب مسائل کے حل کرنے کے حوالے سے حکام بالا کو کہا جاتا ہے تو جواب میں فنڈز نہیں ہونے کا کہا جاتا ہے۔ کئی سالوں سے پانی بحران کا سامنا ہے جس کے باعث علاقہ مکین دور دراز علاقوں سے پانی لانے پر مجبور ہے۔

مظاہرین نے مزید کہا کہ عوامی نمائندے ہمارے علاقوں تک بھی نہیں آسکے کہ ہماری کیا حالت ہے۔

دریں اثناء درزی چاہ ڈاک کے عوام نے پریس کلب کے سامنے مظاہرے کے بعد پی ایچ ای آفس میں احتجاجی دھرنا دیا اس موقع پر پی ایچ ای ایس ڈی او عثمان بادینی نے ان کے مساحل سنیں اور مسئلے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

علاوہ ازیں گذشتہ روز ڈپٹی کمشنر نوشکی عبدالرزاق بلوچ نے درزی چاہ کا دورہ کیا تھا، انہوں نے پانی کے مسئلے کو فوری حل کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

واضح رہے درزی چاہ ڈاک ڈیورنڈ لائن سے متصل علاقہ ہے جس کی آبادی سات سو افراد پر مشتمل ہےجہاں لوگ پانی کی قلت کے باعث تین سے چار کلو میٹر دور پانی لانے پر مجبور ہے۔

علاقے میں سابقہ ایم پی اے کی جانب سے ایک آبنوشی اسکیم کا آغاز کیا گیا تھا لیکن وہ تاحال مکمل نہیں ہوسکا ہے۔