نظریہ دوستی اورشخصیت پرستی – نادر بلوچ

60

نظریہ دوستی اورشخصیت پرستی

تحریر: نادر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

نظریہ وہ مستحکم سوچ ہے جو آپ کو عملی زندگی میں قدم اٹھانے پر مجبور کرے. آپکا نقطہ نظر اور سوچ کسی بھی مسئلے کو لیکر کیا ہے؟ قومی سوچ کو جب قومی مسائل کے حل کیلئے تجویز کی جائے تو وہ قومی نظریہ بنتی ہے، جس پر سب متفق ہوکر عملی جامہ پہنانے کیلئے جہد کرتے ہیں۔ نظریہ اپنا راستہ خود بناتی جاتی ہے، افراد جڑتے جاتے ہیں جب تک اس مقصد کو حاصل کیا جائے۔ قومی سوال کو لیکر اسکے حل کی جانب پیش قدمی کرنے سے نظریہ آزادی جنم لیتی ہے۔ قومی آزادی کو حاصل کرنے کیلئے ضروری ہے کہ نظریہ اور سوچ واضح ہو کہ منزل کی جانب روانگی کے بعد پڑاو کہاں ہوگی، آخری منزل کیا ہے۔

نظریہ تشکیل کے مراحل میں جس حد تک واضح اور شفاف ہوتی ہے اسکو سمجھنے میں آسانی پیدا ہوتی ہے، مبہم نظریات متزلزل ہوتی ہیں، غیر واضح ہونے کی وجہ سے سوچ کو مستحکم نہیں ہونے دیتی ہیں۔ راستہ ابر آلود رہتی ہے جسکی وجہ سے منزل کا تعین کرنا ناممکنات میں شامل ہوجاتی ہے۔ نظریئے کو پنپنے کیلئے کوئی وقت مقرر نہیں کی جاسکتی ہاں البتہ تجرباتی و سائنسی تجزیات و مشاہدات سے مدد لیکر پیش بینی کی جاسکتی ہے۔ نظریئے کی کامیابی کا دارو مدار جہد کاروں کے کیڈر کے تسلسل پر منحصر ہوتی ہے، جو اسکے حل کیلئے شاملِ تحریک ہوتے ہیں۔ نظریئے کی بنیاد، فلسفہ ہے اسلئے جہاں جہاں سوالات سر اٹھاتے جاتے ہیں انکا حل اور جواب قومی امنگوں اور خواہشات کی بنیاد پر پیش کی جاتی ہے۔ سوالات اٹھنا کامیابی ہے اور جمود کے پگھلنے کی نشاندہی ہے، انکے جوابات میں دیر کرنا ناکامی ہے جو جمود کو وقت فراہم کرتی ہے، نظریاتی پختگی سوالات کے حل میں مدد کرتی ہے اور ہیجانی کیفیات کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے۔

نظریئے کی تشکیل عمل کا موجب بنتی ہے اور عمل سے کردار جنم لیتے ہیں، ان کرداروں کو فرد نبھاتے ہیں جس سے بعض اوقات شخصیت پرستی جنم لیتی ہے۔ ہیروازم نظریئے کو ڈھانپنے کا موجب بننے لگتی ہے، سوچ اور مقصد نظر انداز ہونے کے ساتھ شخصیات قد آور ہونے لگتی ہیں۔ قومی نظریہ فردی سوچ کے تابع ہونے لگتی ہے، قومی سوچ کے بجائے انفرادی سوچ کو اہمیت دی جانے لگتی ہے، جس سے قومی نظریہ اپنے اصل رخ سے ہٹ کر جمود کا شکار ہوجاتی ہے۔ جس سے کیمو فلاج جنم لیتی ہے۔ اس جمود کو توڑنے میں ہزاروں سیاسی کارکنوں کی قربانی دینی پڑتی ہے، سیاسی کارکن اور لیڈر قومی مقصد سے غافل ہوجاتے ہیں، ہیرو ازم ایک ایسی سحر بننے لگتی ہے جو مکڑی کی جال بن کر نظریئے کے اردگرد منفی اور نقصاندہ کردار پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔ شخصیت پرستی سے تخلیقی صلاحیتں معدوم ہوجاتی ہیں۔ دقیانوس خیالات اور غیر صحت مند رویے جنم لیتی ہیں، جو شخصی اجارہ داری کا سبب بنتے ہیں۔

شخصیت پرستی نظریاتی تحریک کو انتہائی کمزور کرتی ہے، مرکز نگاہ مقصد سے منتقل ہوکر شخصیت پر توجہ مرکوز ہوتی ہے۔جس سے انسانی کمزوریاں اور رویے دکھنے لگتی ہیں جو آگے چل کر مایوسی کا سبب بنتی ہیں۔ نظریئے کی عمر طویل ہوتی ہے۔ شخصیت پرستی کم عمر ہونے کی وجہ سے نظریاتی خلاء پیدا کرتی ہے۔ تحریک میں ہیرو پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے لیکن اسکو آیڈیل ازم کا شکار نہیں کرنا چاہیئے تاکہ شخصیت پرستی جیسا موذی مرض تحریک و اداروں میں شامل نہ ہو پائے۔

نیشنل ازم کی بنیاد قومی نظریہ و سوچ ہے، جسکے سبب ایک قوم کی تشکیل ہزاروں سال کا سفر طے کرکے ہوتی ہے، قومی آزادی کے بغیر نیشنل ازم نامکمل رہتی ہے۔ اقوام کو دنیاء میں اپنی قومی شناخت اور وجود کو لیکر جتنا خطرہ آج ہے اس سے پہلے کبھی نہیں رہی، اقوام کو درپیش چیلنجز میں شامل سکڑتی دنیا، طبقاتی نظریات اور امپریل ازم مسلسل خطرہ ہیں۔ اقوام کو اپنی شناخت و یکجہتی کو برقرار رکھنے کیلئے نظریہ آزادی سے قومی دفاع کے قابل بننے اور آزادی کے واضح ہدف کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ جسکے لیئے ضروری ہے کہ قوم پرستی پر مبنی نظریاتی جدو جہد کو اداروں کی شکل دیکر اس نظریئے کی دفاع کو مظبوط کی جائے۔ قابض قوتیں مظبوط نظریاتی جہد سے ہمیشہ خائف رہی ہیں، وہ نظریاتی جہد کو اداراتی بنیادوں پر پنپنے کے کبھی خواہیش مند نہیں رہتے، اس لیئے وہ نہ چاہتے ہوئے بھی شخصیت پرستی کو عام دیکھنا چاہتی ہیں کیونکہ شخصیتوں سے نمٹنا نہایت آسان ہے۔ جبکہ نظریئے کو فنا نہیں ہے۔

بلوچ قومی آزادی کی جہد خالصتا” ایک قوم پرست تحریک ہے جسکی بنیادیں نظریہ آزادی کو عملی جامہ پہنانے سے ہی مظبوط ہونگی، اس نظریہ و فکر کے لیئے نظریاتی کارکن اپنی قیمتی جانوں کی قربانی دیکر فکر آجوئی کا دفاع کررہے ہیں۔ مشکلات و مصائب کے باوجود شخصیت پرستی و غیر اداراتی جہد سے بلوچ قومی تحریک کو نکالنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم ان تبدیلوں سے اٹھنے والے کامیابیوں کو سمیٹنے کیلئے شخصیات کے سحر سے نکل کر قومی و نظریاتی سوچ کو اداروں کی بنیاد پراجاگر کرنے میں مدد کریں تاکہ نظریہ دوستی سے قومی آجوئی کے اس دیرینہ خواہش کو پورا کرکے بلوچ قومی تاریخ میں سنہرے دور کا آغاز کرسکیں۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔