مقدار نہیں معیار – لطیف بلوچ

132

مقدار نہیں معیار

تحریر: لطیف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

مقدار، تعداد اور تعداد میں بے ہنگم اضافہ کرنا بہت سے سنگین پیچیدگیوں کو جنم دینے کا سبب بنتی ہے اور ہمارے ہاں عموماً معیار کو نہیں پرکھا جاتا بلکہ مقدار کو بڑھانے پر اکتفا کیا جاتا ہے۔ نمبر گیم دراصل ایک ایسا گیم ہے جس کے کوئی قواعد و ضوابط نہیں ہوتے۔ اس گیم میں قواعد و ضوابط، دیگر قوانین و اصولوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرکے تعداد میں اضافہ کرنے کے لیئے سیاسی و سماجی اصولوں کو روندا جاتا ہے بلکہ کوشش یہ ہوتی ہے کہ علم و عمل سے خالی ایک ایسا گروہ تشکیل دیا جائے جو صرف تعداد میں زیادہ ہو۔

سیاسی پارٹیوں اور مسلح تنظیموں میں ہر سطع پر جائزہ لیا جائے کوالٹی کے بجائے کوانٹٹی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ بلوچ سیاست میں آج جو خلا جنم لے رہی ہے، پارٹیاں ٹوٹ و پھوٹ کا شکار ہیں اور مزاحمتی محاذ پر بھی مختلف قسم کے مسائل و مشکلات جنم لے چکے ہیں، سیاسی قیادت گومگو کا شکار ہے، مزاحمتی محاذ مشکلات میں گرتا جارہا ہے، دن بدن نئے مسائل سر اٹھا رہے ہیں، ایک مسئلے کو اگر سلجھایا جاتا ہے تو ایک دوسرا مسئلہ سر اٹھا کر کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ تمام مسائل کا سبب معیار پر مقدار کو ترجیح دینا اور باصلاحیت، زیرک اور سلجھے ہوئے کارکنوں پر چاپلوس اور ابن الوقت افراد کو ترجیح دینا شامل ہے، جس سے بہت سے با علم و باعمل نظریاتی نوجوان مایوسی کا شکار ہوکر کنارہ کش ہوگئے ہیں۔

سیاسی و مزاحمتی قیادت اپنی ذہنی تسکین کے لئے کنارہ کش ساتھیوں و کارکنوں کو منانے اور ان کے باتوں کو سننے و درپیش مسائل کو حل کرنے کے بجائے ان پر مختلف الزامات گھڑ کر یہ ثابت کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں کہ وہ جو فیصلہ کررہے ہیں، وہ درست جبکہ اختلاف رکھنے والے غلط ہیں۔ جب انا کی تسکین کے لئے یا اپنے منفی فیصلوں پر کارکنوں کو قربان کی جائے گی، پھر معیار کے بجائے تعداد ہی قابل اعتماد ٹہرے گی اور قیادت اپنے ارد گرد چاپلوسوں کا ایک ایسا حصار بنائے گا، جو اس کے نظروں سے ہر مثبت چیز کو دور رکھنے کی کوشش کرینگے اور ہر منفی عمل کو حقیقت کا غلاف پہنا کر بڑھا چڑھا کر پیش کرتے رہینگے۔ کارکنوں اور عام لوگوں کے ذہنوں میں مثبت چیزوں کے بجائے منفی چیزوں کو زبردستی ٹھونس کر انہیں یہ باور کرایا جائے گا کہ قیادت کی پالیسی ہی قابل اعتماد و اعتبار ہے، ایسے منفی فیصلوں سے سیاسی عمل متحرک ہونے کے بجائے جامد ہوجاتی ہے، انتشار جنم لیتی ہے، فکری عمل و ارتقاء رک جاتی ہے، سیاسی عمل و فکر کو متحرک رکھنے کے لئے مثبت سوچ اپنا کر شعوری طویل المدتی فیصلے کرنے ہونگے، معیار کو مقدار میں تبدیل کرنے کے بجائے مقدار کو معیار میں تبدیل کرکے کارکنوں کا ذہنی و فکری تربیت کیا جائے، سیاسی و مزاحمتی محاذوں پر فیصلوں کا ازسر نو جائزہ لے کر سیاسی طریقہ کار اور مزاحمتی حکمت عملی میں تبدیلیاں لائی جائے۔

معروضی صورتحال کا تقاضہ ہے کہ بلوچ قیادت سیاسی و مزاحمتی محاذوں کو مضبوط و مستحکم کرنے کے لئے اپنے صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں اور اس فیصلہ کن مرحلے میں مقدار کو معیار میں تبدیل کرکے قومی آزادی کی جاری جنگ کو منظم و فعال کرکے وسعت دیں تاکہ قومی اہداف حاصل کی جاسکیں۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔