عطا نواز بلوچ اور دیگر لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔ بی ایچ آر او

32

دی بلوچستان پوسٹ نمائندہ کوئٹہ کے مطابق بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کی جانب سے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے نواز عطا بلوچ اور دیگر لاپتہ افراد کی عدم بازیابی کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی مظاہرے میں سول سوسائٹی اور مختلف مکتبہ فکر کے لوگوں کے علاوہ لاپتہ افراد کے اہلخانہ نے بھی شرکت کیا۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن اور وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کے رہنماؤں نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ کمسن بچوں سمیت عورتوں اور نوجوانوں کی ماورائے عدالت جبری گمشدگی نے ہر طبقہ فکر کے لوگوں میں ایک خوف کے ماحول کو جنم دیا ہے اور ہر طبقہ فکر کے افراد کو ذہنی طور پر مفلوج بنا کر رکھ دیا ہے جسکی شدید مذمت کرتے ہیں۔

بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے مرکزی وائس چئیرپرسن طیبہ بلوچ نے کہا کہ عطا نواز بلوچ تنظیم کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری تھے جو بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف آواز بلند کررہے تھے جنہیں اٹھائیس اکتوبر دو ہزار سترہ کو رات کے دو بجے کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے اٹھا کر لاپتہ کردیا گیا جن کا تاحال کچھ پتہ نہیں، عطا نواز کی جبری گمشدگی کے خلاف تنظیم نے کراچی میں علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ بھی لگایا اور کوئٹہ اور کراچی میں احتجاجی مظاہرے بھی کیئے لیکن انہیں ابھی تک بازیاب نہیں کیا گیا۔ ہم نے اپنے احتجاج کے دوران متعدد بار اس بات کا بھی اظہار کیا کہ نواز عطا بلوچ اگر کسی غیر قانونی کام میں ملوث ہے تو اسے عدالتوں میں پیش کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔

بلوچستان میں انسانی حقوق کی پامالیاں اور جبری گمشدگی کا انسانی مسلئہ ریاستی اور حکومتی اداروں کی بے حسی کی وجہ سے ایک المیہ کی سی صورت اختیار کرتی جارہی ہیں جس نے بلوچستان میں بسنے والے تمام قومیتوں کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔

رہنماؤں نے مزید کہا کہ عطا نواز بلوچ اور دیگر تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے اور بلوچستان میں جبری گمشدگی سے متاثرہ خاندانوں کو ذہنی اذیت سے چھٹکارہ دلایا جائے۔ اگر کوئی بھی لاپتہ افراد ریاستی امور کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تو انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے اور قانون و آئین کے مطابق سزا دی جائے یوں بغیر کسی وجہ کہ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری و دیگر سیاسی افراد و عام افراد کو لاپتہ کرنا ملکی آئین کی خلاف ورزی ہے۔

رہنماؤں نے وفاقی حکومت، صوبائی حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ ہونے والے تمام افراد کو بازیاب کیا جائے اور ان کے خاندان کو اذیت کے عمل سے چھٹکارہ دلایا جائے