شہید ساتھی سرمچاروں کو سرخ سلام و خراج عقیدت پیش کرتے ہیں – بی ایل ایف

189

شہدا کے مشن اور فلسفہ قربانی کی پیروی کرتے ہوئے آزاد بلوچستان کو دنیا کے نقشے میں ایک دفعہ پھر نمودار کرکے شہدا کی ارمانوں کی تکملیل کریں گے – گہرام بلوچ

بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان گہرام بلوچ نے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں شہید ہونے والے سرمچاروں کو سرخ سلام اور خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ آج بلیدہ کے علاقے گردانک میں سرمچاروں اور قابض فوج کا اس وقت سامنا ہوا جب وہ گردانک میں معمول کی گشت پر تھے۔ یہاں ایک جھڑپ شروع ہوئی جو قریباً بیس منٹ تک جاری رہی، جس میں ظہیر عرف مراد سکنہ مشکے، نعیم عرف جلال سکنہ بلیدہ اور خیر محمد عرف رحمت سکنہ گردانگ بلیدہ بہادری سے لڑتے ہوئے وطن کی دفاع میں جام شہادت نوش کر گئے۔

قابض فوج کو پراکسی ڈیتھ اسکواڈوں کی مدد بھی حاصل تھی۔ ظہیر بلوچ سات سالوں سے بی ایل ایف کے پلیٹ فارم سے مسلح جد و جہد میں شامل تھے اور تین سالوں سے وہ کیمپ کمانڈر کے فرائض ادا کر رہے تھے۔ وہ مشکے، بلیدہ، پروم، بالگتر، زعمران، جھاؤ اور گریشہ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ اسی طرح نعیم بلوچ بھی کیمپ کمانڈر کی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے اور تین سالوں سے بی ایل ایف سے وابستہ تھے۔ نعیم بلوچ چھ سالوں سے مسلح جد وجہد میں بر سرپیکار تھے۔ اس سے پہلے وہ ایک اور مسلح بلوچ تنظیم کی پلیٹ فارم سے فرائض انجام دے رہے تھے۔ خیر محمد بی ایل ایف کے ایک سینئر ساتھی سرمچار تھے۔ انہوں نے بلیدہ، زعمران و گرد و نواح میں بلوچ قومی جد وجہد میں خدمات سر انجام دیئے ہیں۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ کل ضلع خضدار کے علاقے گریشہ میں پاکستانی فوج اور مسلح دفاع کے کارندوں نے ایک مشترکہ کارروائی میں بی ایل ایف کے ایک سائیڈ کیمپ پر حملہ کیا جو ایک گشتی ٹیم نے قائم کیا ہوا تھا۔ اس حملہ اور جھڑپ میں تین سرمچار مجید عرف کمک، جاوید عرف ساشا اور امداد عرف شہباز جام شہادت نوش کر گئے۔ وہ نہایت بہادری سے قابض فوج اور اس کی پراکسی تنظیم مسلح دفاع کے کارندوں سے ایک گھنٹے تک لڑتے رہے۔ شہید جاوید 2015 اور شہید مجید 2016 سے بی ایل ایف سے وابستہ تھے اور قومی ذمہ داریاں ادا کر رہے تھے۔

گہرام بلوچ نے کہا کہ کل ہی ضلع کیچ کے علاقے بالگتر میں پاکستانی فوج نے سرمچاروں کی گشتی ٹیم کا راستہ روکنے کی کوشش کی جس سے دو بدو جھڑپیں شروع ہوئیں۔ اس میں سرمچار اکبر عرف مراد شہید ہوئے جبکہ دوسرے تمام سرمچار بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ شہید اکبر چھ سالوں سے بی ایل ایف سے وابستہ تھے اور ڈپٹی کیمپ کمانڈ کی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے تھے۔ ان جھڑپوں میں قابض بفوج کے کئی اہلکار ہلاک اور زخمی ہوئے۔

انہوں نے کہا ہم تمام شہدا کو سرخ سلام اور خراج عقیدت پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے قومی آزادی کیلئے مسلح جد وجہد کے راستے کا انتخاب کرکے آخری سانس تک دشمن کے خلاف بر سر پیکار رہے۔ ہم شہدا کے مشن اور فلسفہ قربانی کی پیروی کرتے ہوئے آزاد بلوچستان کو دنیا کے نقشے میں ایک دفعہ پھر نمودار کرکے شہدا کی ارمانوں کی تکملیل کریں گے۔ اس جنگ میں شکست قابض پاکستان کا مقدر ہے۔