سسٹم کیا ہے – رحم دل بلوچ

66

سسٹم کیا ہے

رحم دل بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

سسٹم کیا اور کیوں ہے؟ یہ کس طرح دنیاکو اپنے فطری اور دنیاوی شکنجوں میں پھنساتا ہے اور یہ کس طرح ، کہاں اور کیسے فنکشن کرتا ہے؟ سسٹم کا فلاسفیکل ،سوشیالوجیکل اور پولیٹیکل نوعیت کیا ہے اور سسٹم سسٹم کو کیسے شکست دیتی ہے ۔ میں سسٹم کو بلوچ قومی تحریک کے تناظر میں آپ قارئین کے لئے لکھ رہا ہوں تاکہ ہمارے سیاسی اور مسلح جہد کار وں میں بحث کی ایک لہر اٹھے اور میں کس حد تک سسٹم کو پڑھ اور سمجھ پایا وہ آپ قارئین ہی فیصلہ کریں گے، کیوں یہ آرٹیکل قومی مفاد کے تناظر میری نگاہ میں ایک موثر عمل ہوگا۔

فلاسفیکل انٹرپریٹیشن:

سسٹم ایک میکانزم ہے جس کے معنی ہیں چھوٹی چھوٹی اکائیاں ایک مقصد کیلئے کام کریں یا اس طرح جڑے رہنے کی صلاحیت کو کہتے ہیں جس میں سب چھوٹی اکائیاں مل جل کر کسی ایک کام کو کرنے کا عمل سر انجام دیتے ہیں ۔ مگر سسٹم خود مخفی ہوتا ہے کیو نکہ اس میں صلاحیت ہے کسی عمل کے کسی کو کروانے کی۔ سسٹم ایک ایسی چیز نہیں جو کہ کوئی اسے بنائے یا تباہ کر سکے ۔ سسٹم ہے اور رہے گا، سسٹم کا کسی سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی سسٹم کسی کی پرواہ کرتی ہے ۔ بس سسٹم ہے اور عمل کر رہی ہے ۔ سسٹم نہ دیکھے گی نہ دیکھائی دیا جائے گا، اسی وجہ سے سسٹم ٹائم اور سپیس سے ماورا ہے۔ کیونکہ سسٹم تجربے سے پہلے آتا ہے نہ کہ تجربے کے بعد کیونکہ جیسا کچھ ہوتا ہے اس کے ہونے کا ہمیں تب پتہ چلتا ہے جب وہ ہوجاتا ہے اور ہمیں اس کا ہوجانا نظر آجاتا ہے حالانکہ ہمیں اس ہو جانے سے پہلے والے پروسس کا کچھ پتہ نہیں تھا کہ کیا ہو رہا ہے اسی وجہ سے سسٹم تجربے سے نہیں گزر سکتا اور نہ گزار ا جا سکتا ہے کیونکہ سسٹم کو صرف ہم فرضی انداز میں سمجھ سکتے ہیں یا فرضی انداز میں سمجھا سکتے ہیں، اسی کی وجہ یہ ہے کہ سسٹم ایک آئیڈیل چیز ہے ۔ کیونکہ آئیڈیل چیزیں صرف ورلڈ آف آئیڈیاز میں ہوتے ہیں وہاں صرف ہم انہیں پیور ریزن کی سطح پر سمجھ سکتے ہیں نہ کہ فزیکل ورلڈ میں۔ سسٹم اس وجہ سے آئیڈیل ہے کیونکہ ہم اس سسٹم میں پیدا ہوئے ہیں نا کہ سسٹم سے باہر کیونکہ سسٹم تھا ،ہے اور رہے گا۔ سسٹم کا کسی کے ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا کیونکہ سسٹم ہر کہیں ہے اور کوئی چیز سسٹم سے باہر یا ماورا نہیں ہے ۔ ہمارے ہونے سے پہلے سسٹم تھا اور ہم اسی سسٹم کے دائرہ کار میں پیدا یا ظہور پذیر ہوئے ہیں ۔ اسی وجہ سے سسٹم کا اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ اس کو کوئی فالو کر رہا ہے یا نہیں کیونکہ اس سے سسٹم کا واسطہ نہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اسی سسٹم میں سسٹم کے تحت ظہور ہوا اور خود ایک سسٹم کے میکانزم میں زندہ یا فنکشن کر رہا ہے تو اگر وہ خود سسٹم سے نہیں نکل سکتا اور خود سسٹمیٹکلی کام کررہا ہے اور سسٹم کو نہیں سمجھ رہا تو یہ اسی کی اپنی کمزور ہے۔ حالانکہ دنیا میں کوئی ایسی چیز نہیں جو بغیر سسٹم کے کام کر رہا ہو۔ جیسا کہ ہمارا جسم اور دماغ حتیٰ کہ ہر عضو رگیں ایک خاص سسٹم میں کام کر رہے ہیں اور ہمیں معلوم تک نہیں ۔ اور ہر زندہ انسان کے اندر تین ٹریلین کنسٹرکٹیو فورسسز اور تین ٹریلین انٹی باڈی ڈسٹرکٹیو فورسز ہمیں موت تک پہنچانے میں جنگ لڑ رہی ہیں، ان دونوں فورسسز کو باڈی کا امیون سسٹم بیلنس کرتا ہے ۔ تو اگر ہر آرگنزم کے اندر خود ایک بہت بڑا پیچیدہ سسٹم چل رہا ہے تو کون بد نصیب سسٹم سے انکار کر سکتا ہے۔

اس دنیا میں کوئی ایسا نہیں ہے جو سسٹم سے انکاری ہو مگر ہاں کسی کو اس سسٹم کے بارے معلومات ہے تو کسی کو نہیں مگر سب سسٹم کے رحم و کرم پر جی رہے ہیں اور سب جانے انجانے سسٹم چاہتے ہیں وہ بھی اچھا ۔ مثلاً ہر انسان پیدا ہوتے ہی منہ سے بول ،کھا اور پی رہا ہے،ناک سے سانس لے رہا ہے،کان سے سن رہا ہے،دماغ سے سوچتا ہے مگر کبھی کبھی ایسا نہیں ہوا کے ناک سے کھا ،پی اور بول رہا ہو، کان سے سانس اور سونگھ رہا ہو وغیرہ ۔ کیونکہ زندگی کا وجود اور تباہی سسٹمیٹیکلی ہوتا ہے تو انسان نے اس پیچیدہ نظام کو کسی حد تک اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق اس جیسا بنانے کیلئے کچھ ٹوٹکے بنائے ۔ کیونکہ آئیڈیل ورلڈ کے جیسا تو نہیں بنا سکتے مگر اسکی کرپٹ یا بگڑی ہوئی شکل اس فزیکل ورلڈ میں امپوز اور پریکٹس اپنے مفادات کو حاصل کرنے کیلئے ،یہ مفادات چاہے معاشرتی،سیاسی،تاریخی ،کاروباری یا کہ معاشی ہوں مگر انسان سسٹم سے جان چھڑائے بغیر نہیں رہ سکتا۔

سوشیالوجیکل انٹرپریٹیشن:

معاشرتی بیانیہ یہ ہے کہ فرد ملکر ایک کمیونٹی بناتے ہیں اور کمیونٹی معاشرہ،معاشرے سے قو میں تشکیل پاتی ہیں۔ یہ جو مل جل کر رہنے کا جو سسٹم انسان نے بنایا ہے اسے تنظیمی سسٹم کہتے ہیں جس میں انسانوں نے ایک خاص سسٹم بنایا تاکہ اس میں گڑ بڑ نہ ہو اور ہر کوئی اسی سسٹم کے تحت برابری کی بنیاد پر رہے ۔ یہ برابری چاہے کراس کلچر میں ہو یا ایک ہی میں ہو مگر یہ سسٹم فر د کو انوسٹیگیشن میں لاتے ہوئے کمیونٹی ،سوسائٹی اور قوموں کے ایک رہنے کے سسٹم کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسے خاص حد تک اپنا کے جیسا انسانی رویہ بھی ٹیسٹ کرتے ہیں کہ آیا اس سے سوسائٹی کس جانب اور کس انداز میں رویے اپنا رہا ہے ۔ جیسا کہ ہر قوم اور مذہب نے اس سسٹم کو کافی حد تک استعمال کیا۔ یہ سسٹم انسانی رویے کی بنیاد پر بنائے اور رد کیئے جاتے ہیں، جو انسان خود بناتے ہیں جیسا کہ NGEO’ S ۔ جیسا کہ ابتدائی ،جاگیردارانہ اورقبائلی نظام وغیرہ ۔ ان تمام کے انداز کے رویوں کو سوشالوجسٹ سمجھنے کی بعد اس کو پولیٹکل اسٹریکچر کے حوالے کر دیتے ہیں تاکہ پولیٹیکل اسٹرکچر اس نظام کو سمجھ کر انہیں ڈیل کرے اور ان پر تمام سرکاری پالیسیاں عمل کر وائی جاتی ہیں جیسا کہ پولیٹیکل اسٹرکچر نے مختلف اسٹرکچرزبنائے ہیں تاکہ انسانوں کو آسانی سے کنڑول کر کے ان کے رویے کو تبدیل کیا جائے جیسا کہ آج سول سوسائٹی اور اس سوسائٹی کو کچھ سوسائٹیز سرو کرتی ہیں ۔ مثلاً آج کے دور میں ایک عورت کو اگر زچگانہ مسئلہ ہو تو اسے فورا ہسپتال لے جایا جاتا ہے اور اگر ہسپتال نہ لے جایا گیا تو کسی دائی کی مدد لے کر مسئلہ تو حل کیا جاتا ہے مگر وہ ماں یہ سمجھے گی کہ خاوند نے یا گھر والوں نے میرے لئے یا میرا صحیح خدمت نہیں کیا، یا بچہ پیدا ہونے کے بعد اس بچے کو کچھ حفاظتی انجکشن لگا دیے جاتے ہیں اور پھر اس کے والدین سے کہا جاتا ہے کہ حفاظتی انجکشن کیلئے آپ کو اسے تین بار ہسپتال لاکر تین حفاظتی انجکشن لگانے ہیں تا کہ بچہ موزی مرضوں سے بچ سکے اور اس کے کچھ سالوں بعد بچے کو سکول ،کالج،یونیورسٹی اور پھر مارکیٹ میں کمپٹیشن کیلئے بھیجا جاتا ہے تاکہ سسٹم کو فالو کرے اور اسی کا حکم بجا لائے ۔ فرض کرو اگر کسی نے اس سسٹم کو فالو نہیں کیا تو وہ احساس کمتری کا شکار رہے گا یا پھر یہ سمجھے گا کہ میں نے قانون کی حکم بجا لانے میں کمی کی ہے۔

پولیٹیکل انٹرپریٹیشن:

سسٹم پولیٹیکلی گلوبل سسٹم ہے کیونکہ یہ کچھ سیاسی و کاروباری حضرات جو کہ دنیا کے امیر اور طاقتورترین انسانوں میں شمار ہوتے ہیں اور ان حضرات کے پاس کوئی شناختی کارڈ یا پاس پورٹ نہیں ہوتا کیونکہ انہیں ان فرائض کی ضرورت نہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ پوری دنیا انہیں کے اشاروں پر چلتی ہے۔ انہیں کے پیرول پر یہ پوری دنیا کا سیاسی ،معاشی،معاشرتی ،ادبی اور نفسیاتی سسٹم چل رہا ہے ۔ اور یہ اپنے کاروباری و سیاسی اغراض کے حصول کیلئے ہر وہ کام کرواتے ہیں جو عام انسان کی سمجھ بوجھ سے باہر ہے کیونکہ عام انسان اسے صرف انسانی جانوں کا ضیاع سمجھتا ہے مگر جو گلوبل سسٹم کو جانتے ہیں وہ یہی کہتے ہیں اس حادثے کے پیچھے کیا مقاصد کارفرما ہے۔ یہ گلوبل سسٹم اسی وجہ سے کہلایا جاتا ہے کیونکہ ان کے جو گروہ یا گروپ ہوتی ہے، وہ مکمل طور پر خفیہ ہوتی ہے، اسی وجہ سے اس کا کھوج لگانا مشکل ضرور ہوتا ہے مگر نا ممکن نہیں۔ یہ گروپس خفیہ سوسائیٹز کے نام سے جانے جاتے ہیں اور ان میں سے ایک سوسائٹی کا ابھی تک نام ظاہر ہوا جو کہ امریکن سوسائٹی ہے جو فری میسن سوسائٹی کے نام سے جانا جاتا ہے ۔ ان کے تنظیم میں دنیا کے ہر طبقہ فکر سے لیکر ایک عام انسان تک ہو سکتا ہے بلکہ دنیا کے تمام ریاستوں کے بڑے عہدے دار جو پارلیمنٹ ،فوج اور خفیہ اداروں تک انہیں کے ہیں۔ خفیہ سوسائٹیز کے لوگ فلاسفرز،آرٹسٹ، ماہر نفسیات، ماہرین معاشیات،پولیٹیکل تھیورسٹ، ناولسٹس، حساب دان، مذہبی اسکالرز اور سائینٹسٹس کمیونٹی کے لوگوں سے کام لیتے ہیں اور یہ تمام طبقہ فکر کے لوگ ان کے ممبر ہو سکتے ہیں۔ دنیا میں تمام خفیہ تنظی میں conspiracy theory کو فالو کرتی ہیں جو کہ ایک پیچیدہ اور most influential فلاسفیکل اور پولیٹیکل تھیوری ہے ۔ یہ کاروباری حضرات اپنے کاروبار کو وسیع کرنے کیلئے انٹر نیشنل کمپنیز بناتی ہیں جو کہ دنیا کے ہر کونے میں نیچرل ریسورسز کو نکالتی ہیں ۔ کیونکہ یہ کمپنیز جہاں اور جس ملک میں جاتی ہیں تو یہ تین شرائط یا اس سے زیادہ کی بنیاد پر معاہدات کرتی ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں ۔

۱ ۔ معدنیات کی ورتھ کی بنیاد پر اس ملک کی ریسورسز کو نکالنا ۔

۲ ۔ پروڈکشن سنٹر تک ریاست کے کسی عہدےدار کو آنے کی اجازت نہیں ۔

۳ ۔ پروڈکشن جس بھی حالت میں لے جایا جائے گا اس پر ریاست کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔

یہ ایسی معاہدات ہیں کہ ریاستیں بلواسطہ یا بلا واسطہ اس انٹر نیشنل کمپنی کی لونڈیاں بن جاتی ہیں کیونکہ ہاف پرسنٹ ریاست کو دیا جا رہا ہے اور دوسرا وہ پروڈکشن سنٹر میں check and balance کیلئے بھی نہیں آ سکتا کیونکہ ریاست کو کمپنی پرسنٹ پے کر رہی ہے اور ریاست اس پر سنٹ سے اپنے نظام کو چلا رہا ہے اور تیسرا پرڈکشن کمپنیز raw matterials کی حالت میں لے جاتی ہے تاکہ اس پہ ٹیکس لاگو نہ ہوں یہ raw matterials کا قانون بغیر ٹیکس کے انہیں کمپنیز کی مرہون منت ہے ۔ اور اگر ریاست کمپنی کے معاہدے سے انکار کرے تو کمپنی اسے اپنے مقاصد کیلئے بنائے گئے گلوبل کورٹ میں دھکیلے گا جو کہ انٹر نیشنل کورٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مثلا ٹیتھیان مائیننگ کمپنی ایک انٹرنیشنل کمپنی ہے جو بلوچستان میں سیندک چاغی کے مقام پر سونا اور کاپر نکال رہی ہے، تو وہ پاکستان کو اس معاہدے کے تحت پرسنٹ (30% پاکستان اور کمپنی خود 70% لے جاتی ہے)پے کرکے بلوچ وسائل کی لوٹ مار کر رہی ہے۔ اور پروڈکشن کو raw matterialکی شکل میں لے جایا جا رہا ہے ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یہ انٹرنیشنل کمپنیز ریاستوں کو چلاتی ہیں اور ریاستیں ان کے سامنے بے بس ہیں ۔ اسی طرح ہمارے ہاں اکثر سسٹم کو ریاست سمجھا جاتا ہے ۔ حقیقت میں ریاست تو سسٹم کا ایک چھوٹا سے پارٹیکل ہے جیسا کہ میڈیکل کی فیلڈ میںMRI کروایا جاتا ہے ۔ تاکہ چھوٹے چھوٹے پرابلمز واضح ہوں یا پھر ایٹم کا مائینوٹ پارٹیکل پروٹون بلکہ سسٹم کے اندر ریاست بھی ایسا ہی ہے ۔ ریاست ایک تنظیم ہوتی ہے جس کے دو شاخیں ہوتی ہیں ۔ ایک judiciary جو کہ قانون کو عمل میں لاتی ہے(فلاسفیکلی عدالت قانون بناتی ہے مگر پولیٹیکل پریکٹس میں قانون پارلیمنٹ بناتی ہے) کیونکہ ریاست کا اصل وجود و طاقت قانون ہے اور دوسرا پارلیمنٹ جو کہ قانون بنا کر متفقہ رائے سے پاس کر کے اسے مزید قانونی پیچیدگیاں دینے کیلئے بیروکریٹس (جو کہ پالیسی بناتے ہیں ) اور ٹیکنو کریٹس (یہ پالیسی کونافذ کرتے ہیں )کو دی جاتی ہیں تاکہ قانون عام عوام پر لاگو کی جائیں اور عوام کی ذہنیت قانونی بن جائے تاکہ ریاست کے بغیر سانس بھی نہ لے سکیں۔ ریاست یہی چاہتی ہے کہ روایتی، قبائلی اور قومی ادارے تباہ ہو جائیں جس سے ریاست کی من مانی زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ لوگ ریاست سے خوف زدہ ہوں اور قانون کی پاسداری کریں کیونکہ خوف ایک دماغی عمل ہے نہ کہ جسمانی۔ (مثلا خوف کسی ریاست اور خفیہ تنظیم کا سب سے بڑا ہتھیار ہے کیونکہ خوف محسوس ہوتا ہے، دکھائی نہیں دیتا، خوف جتنا بڑھے گا لوگوں کی ریزن اور فیصلہ لینے کی صلاحیت اتنی کم ہو جائے گی اسکی وجہ یہ ہے کہ دماغ میں خوف کے علاوہ کوئی خیال آ ہی نہیں رہا اور نہ سما رہا ہوتا ہے اور ریاست کی سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ عوام ریاستی قانون کو من و عن قبول کرے ۔

اگر دنیا میں کہیں ریاستی قوانین لوگ نہیں مان رہے بلکہ خوف سے کسی حد تک فالو کر رہے ہیں تو سمجھ لیجئے ریاست بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا بس مرنے کا انتظار ہے) ۔ اسی طرح ہر سسٹم کے کچھ تقاضے ہیں جو وہ اپنے ہر ممبر سے توقع رکھتی ہے جیسا کہ

۱ ۔ وفاداری:

سسٹم توقع کرتی ہے کہ ہر حصہ دار بننے والا سسٹم کا وفادار ہو اس وجہ سے ہر خفیہ تنظیم اور ریاستی سسٹم وفاداری کا حلف نامہ لیتے ہیں ۔

۲ ۔ پیچیدگیاں :

سسٹم کی پیچیدگیوں سے واقف ہونا تاکہ وہ سسٹم کی باریک بینیوں کو سمجھ سکے اور ہر ممبر کوسسٹم کی اچھی پرکھ ہونی چاہیئے تاکہ سسٹم کو مزید مضبوط اور چلا سکے ۔

۳ ۔ novelty:

سسٹم ہر ممبر سے توقع رکھتی ہے کہ وہ سسٹم کو نظریاتی حوالے نئے نظریات سے لیس کرے تاکہ سسٹم مستحکم رہے ۔

اسی لئیے سسٹم بلکل سمندر کی مانند ہوتا ہے اپنے اندر کچھ چیزیں لے جاتی اور کچھ باہر پھینکتی ہے ۔ اسلئے قابل لوگ سسٹم کی گہرائی تک پہنچ جاتی ہیں اور ناکارہ لوگ سسٹم کے احتساب پر منحصر ہے کب انہیں فارغ التحصیل کرے گی ۔ اسی طرح دنیا کے ہر سسٹم کے دو اہم تقاضے ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں ۔

ریٹائرمنٹ:

سسٹم لوگوں کو بھرتی اور ریٹائر کرتی ہے ۔ مگر خفیہ سسٹم کبھی کسی ممبر کو ریٹائر نہیں کرتی کیونکہ خفیہ سسٹم یہ جانتی ہے کہ ممبر بے شک جسمانی حوالے سے کمزور ہے مگر مینٹلی مکمل طور پر تجربہ کار ہونے کے ساتھ ساتھ دوستوں کو تربیتی مراحل سے گزار سکتا ہے اور لیڈرشپ کے طور پر رول ادا کر سکتا ہے ۔ ریاستی سسٹم لوگوں کو ریٹائر کرتی ہے کیونکہ ریاست کو اس چیز کا ڈر رہتا ہے کہ اب یہ ممبر بہت تجربہ کار ہو گیا کہیں سسٹم کو اپنے ہاتھ نہ لے کر استعمال کرے ۔ تو اسے ڈر کی وجہ سے ریٹائرڈ کر کے تمام اختیارات چھین کر یہ ٹھپہ لگاتا ہے کہ اب یہ ممبر مینٹلی اور فزیکلی ریٹائر ہو گیا اور یہی ٹھپہ اسے ہر وقت اسکی بیوی ،بچے اور معاشرہ کو ستے ہیں اور وہ اپنی موت آپ مر جاتا ہے ۔ حقیت میں تجربہ کار بندہ جسمانی و ذہنی حوالے سے ناکارہ نہیں ہو چکا ہوتا ہے ۔ بلکہ اسکی جگہ ایک نونہال نوجوان کو کچھ وجوہات کی بنا پر بھرتی کرتا ہے ۔ ایک تو وہ سسٹم کی پیچیدگیاں نہیں جانتا اور سسٹم کو اس سے خطرہ نہیں ۔ کیونکہ ریاستی سسٹم میں صرف اور صرف رٹامار اسٹوڈنٹس کی ڈیمانڈ ہوتی ہے ۔ اسے جو بھی ان پٹ دیا جائے گا وہ وہی آوٹ پٹ دے گا ۔ تو اس نونہال چہرے کو اختیارات سے لیس کر کے مارکیٹ میں لایا جائے گا ۔ اور نئی نسل کو جگہ دی جاتی ہے تاکہ سسٹم کا ہر ممبر سسٹم کی مشینری کو چلانے کیلئے تیار رہیں۔

پینشن:

پینشن کا مقصد یہ ہے کہ ریاستی مشینری کہیں پھنس جائے تو اسے بچانے کیلئے ہما وقت تیار رہے۔ مگر خفیہ سسٹم میں صرف اور صرف قابل لوگوں کو ترجیح دی جاتی بلکہ کمزوروں کو بھی کیونکہ وہ سسٹم کے اندر رہتے ہوئے اپنی چھپی قابلیت کا اچھے انداز میں اظہار کر سکتے ہیں۔

اسی طرح ہر سسٹم کے تین مسائل ہیں جو کہ مندرجہ ذیل ہیں ۔

۱ ۔ اخراج:

ہر پچیس سال بعد پرانے لوگ سسٹم سے نکل جاتے ہیں اور وہ سسٹم کو اپنے پچھلوں کے حوالے کرتے ہیں ۔ کہ آیا وہ ان اختیارات کے اہل ہیں کہ نہیں۔

۲ ۔ ارتقاء:

کیونکہ ہر انسان ارتقا کے عمل سے گذر رہا ہے اور زندگی کے ہر لمحے سے مسلسل سیکھ رہا ہے ۔ اور بوڑھوں کو اس بات کا خطرہ رہتا ہے کہ واقع ان نوجوانوں نے سسٹم سے کچھ سیکھا ہے یا نہیں اور اگر سیکھا تو اس پہ کتنا عمل کرتے ہیں اور کیا اس میں نیاپن لا سکتے ہیں ۔ کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انسانی دماغ کے unfolding reasons مسلسل ترقی کرتے ہیں ۔

۳ ۔ پروڈکشن:

آنے والی جو نسل ہوگئی آیا اس میں قابلیت ہے کہ وہ اس سسٹم کو چلا سکتے ہیں کہ نہیں ۔

اسی طرح سوا ل یہ پیدا ہوتا ہے کہ سسٹم کو کون شکست دیے سکتا ہے۔ ہم یہی سمجھتے ہیں کہ سسٹم ہی سسٹم کو شکست دے دیتا ہے بلکہ فرد واحد نہیں کیونکہ سسٹم خود افراد کا ایک گروہی ڈھانچہ ہے ۔ لہذا فلاسفیکلی یہ نہیں دیکھا جاتا جو سسٹم جس سسٹم کو شکست دینے جا رہا ہے وہ کتنے تعداد کا مالک ہے بلکہ یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک سسٹم کے خلاف دوسرا سسٹم کتنا مضبوط ،توانا اور ٹیکٹیکل ہے ۔ یاد رکھیئے فرد واحد کبھی کسی سسٹم کو شکست نہیں دے سکتا لہٰذا اس کیلئے افراد کو اجتماع کی شکل میں ایک چھوٹا سا سسٹم کھڑا کر کے بڑے سسٹم سے ٹکر لے۔ حقیقت میں دنیا کے ہر کونے میں چھوٹے سسٹموں نے بڑے سسٹمز کو شکست دیا ہے ۔ کیونکہ کسی سسٹم کی سب سے بڑی کمزوری جی حضوری، سب اچھا ہونا، خود غرضی اور انتشار کی روایت ہے اور دوسرا بڑے سسٹم چھوٹے سسٹم سے شکست سے دو چار ہوجاتے ہیں، اسکے کچھ وجوہات ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں۔ ۱۔ طاقت کے نشے میں کبھی اپنی خامیاں اور کمزوریاں دیکھائی نہیں دیتیں کیونکہ طاقت کی سب سے بڑی کمزور ہر خامی کو خوشنما لبادے میں اوڑھ کر اچھا ثابت کرنا ۔ ۲ ۔ سسٹم کے ممبران کا غیر سیاسی ہونا کیونکہ اسکی وجہ سے اکثر دشمن دشمن کے سپاہیوں کو بہکا کر دشمن میں سرائیت کر جاتا ہے اور سسٹم سسٹم کے لوگوں کو چن چن کر مارتا ہے ۔ ۳ ۔ کرایہ دار (جنرلز و کمانڈرز سے سپاہی تک)سپاہی کی مخلصی اسکی تنخواہ یا آپریشن دوران مال غنیمت کی حد تک مگر نظریاتی سسٹم میں یہ نہیں ہوتا ۔ ۴ ۔ ریاستی سسٹم کے سپاہی کا مقبوضہ ملک کے لوگوں سے مکمل طور پر بیگانگی(جب تک ریاستی سسٹم لوگوں سے بیگانہ رہی اس وقت تک گوریلاوں کی فتح ہوتی ہے) ۵۔ بڑے سسٹم کو یہ معلوم نہیں کہ اسکی کمزوری کہاں ہے ۔ کیونکہ اسکے سسٹم کا دائرہ کار بہت وسیع ہوتا ہے ۔ تو یہیں سے گوریلا وں کو فائدہ پہنچتا ہے اور گوریلا فورسز اسی راستے اپنے اسلحہ اور رسد کی ترسیل، اسی جگہ اس پر آسانی سے حملہ کرکے اسکے تمام لوگوں کو سرینڈر کروانا اور پھر ان کے رہائی کے بدلے اپنے لوگوں کو رہا کروانا،اسکے کمزور ایڈمنسٹریشن کے زریعے اپنے ممبران کو سسٹم کا حصہ بنواتے ہیں تاکہ اسے سیاسی، معاشی، ایڈمنسٹریٹولی کھوکھلا کیا جائے اور گوریلاؤں کیلئے سب سے بڑی کامیابی دشمن بارے معلومات لینا۔ کیونکہ گوریلا اپنے لوگوں کو سسٹم کی ظاہری شکل میں وفادار بنا کر دشمن کے سسٹم کا حصہ دار بنواتے ہیں تو اسی طرح ایک چھوٹے سسٹم کا ٹرینڈ سپاہی بڑے سسٹم کے لوگوں میں وفاداری ظاہر کر کے سسٹم کی تمام راز کو گوریلاوں تک پہنچاتا ہے اور اپنے نظریاتی اور تنظیمی دوستوں کو بھی اسی سسٹم میں حصہ دار بنوا کر پورے سسٹم کو اپنے کنٹرول میں لیتے ہیں۔ دنیا میں آپ کے سامنے ہزاروں مثالیں ہیں کہ بڑے سسٹموں کو چھوٹے سسٹموں نے شکست دی۔ جیسا کہ کیوبن اور ویت نامیوں نے آمریکہ ،الجزائریوں نے فرانس کو اور بنگالیوں نے پاکستان کو۔

اسی طرح بلوچ قومی تحریک بھی ایک چھوٹا سا سسٹم ہے، جو ایک بڑے سسٹم کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہے اور جلد بلوچ فتح یاب ہوں گے ۔ کیونکہ اب بلوچ گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر سسٹم کے خلاف سسٹم کا حصہ دار بن رہے ہیں مگر بد قسمتی یہ ہے آج تک ہم بلوچ صرف شکست کو جسمانی سمجھتے رہے، مگر شکست کو سسٹم سے سسٹم کے ذریعے کم سمجھے اور سسٹم

سے دور رہنے کی کوشش کی ۔ میں یہی سمجھتا ہوں بلوچ کوریاستی سسٹم کو شکست دینے کیلئے پانچ محاذوں پر لڑنا چاہیئے ۔ ۱ ۔ علم حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ نظریاتی تعلیم کی پرچار کی بنیاد پر ہر بلوچ طالبعلم کا فرض بنتا ہے کہ وہ بلوچ قومی تحریک (لبریشن کیلئے دشمن کے خلاف انٹیلیجنس کا کردار ،سیاسی تنظیم میں حصہ دار بننا) میں حصہ دار بنے اور اگر آپ بلوچ کے سسٹم کا حصہ بنو گے تو آپ دشمن کے سسٹم کو ایک خاص حکمت عملی کے تحت شکست دے سکتے ہیں۔

۲ ۔ جنگی محاذ پر لبریشنز آپسی اختلافات میں نہ پڑیں اور دشمن کے خلاف ایک مشترکہ حکمت عملی کے تحت نئے نظریات اور نئے گوریلا جنگی حکمت عملی کو اپناتے ہوئے شکست دیں کیونکہ گوریلا کا مطلب اسکا ہر ہونے والا حملہ گذشتہ حملے سے مکمل مختلف ہونا چاہیئے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ گوریلا کا ہر گذشتہ حملہ دشمن کے سپاہی کو گوریلا کے جنگی حکمت عملی کا تجربہ دے سکتا ہے۔ لہٰذا گوریلوں کو چاہیئے ان کا ہر حملہ دوسرے حملے سے بلکل مختلف ہو۔ کیونکہ اس سے دشمن کے سمجھے اور سمجھا ئے تمام جنگی حکمت عمل فیل ہو جاتے ہیں ۔ لہٰذا گوریلا کا ہر نیا حملہ دشمن کو نفسیاتی مریض بناتا ہے۔ اسکی وجہ یہ ہے کہ گوریلا جنگی حکمت عملی پیچیدہ ہوجائے گا۔

۳ ۔ حقیقت میں ریاست بیل کی طرح ہوتا ہے اسے ایک مکھی اس حد تک ڈسٹرب کرتاہے کہ اسے چلنے ،چرنے اور سونے قابل نہیں چھوڑتا ۔ بیل مکھی کے ڈسٹربنس سے بھگاتا ہی رہتا ہے آخر تھک کر کہیں گر پڑتا ہے تو مقصد یہ ہے کہ ریاست کے کچھ مہینوں سے چار علاقوں (خاران،بلیدہ،زامران،مند)پر مسلسل آپریشن جاری ہے مگر ہمارے گوریلہ بھی اسی سے انہیں علاقوں میں ٹکر لے رہے ہیں۔ میرے خیال میں یہ ایک غلط حکمت عملی ہے ۔ کیونکہ گوریلا کا جنگی حکمت عملی novelty یعنی نیا پن جسکی ریاست کو توقع تک نہیں ہوگی اور دوسرا گوریلا مکھی بن کر بیل کو بھگا بھگا کر گرائے ۔ میرے خیال میں طریقہ کار یہ ہے کہ اگر دشمن خاران، مند، زامران، بلیدہ میں آپریشن کی شروعات کرے تو لبریشنز ڈیرہ بگٹی، بولان، جیکب آباد، ڈیرہ غازیخان، جھل مگسی، کوئٹہ، قلات میں دشمن پر مسلسل حملے کرے تاکہ دشمن کا فوکس ایک علاقے پر نہ رہے شاید یہ کامیاب حکمت عملی ہوگا ۔

۴ ۔ سسٹم سسٹم کو شکست دیتا ہے تو بلوچ سیاسی لیڈران کو چاہیئے بلوچ سسٹم کو ایک انٹر نیشنل سسٹم سے دو قومی برابری کی بنیاد پر معاہدات کر کے سپورٹ حاصل کرے تا کہ سسٹم کے ذریعے سسٹم کو شکست دیا جائے یا پھر بلوچ اپنے سسٹم کیلئے اپنے معاشی پوزیشن کیلئے اپنے اندر اس طرح کے ریسورسز جنریٹ کرے تاکہ سو سال تک جنگ کو دشمن کے خلاف لڑ سکیں (تو اس کے لیئے دو طریقے ہیں ایک تو اپنے لوگوں کو پاکستانی سسٹم میں حصہ دار بنوا کر کرپشن کے ذریعے مسلح و سیاسی جدوجہد کو سپورٹ کرے جس سے پاکستانی معیشت کھوکھلا ہو جائے گا یا پھر اپنے لوگوں یورپین ممالک میں بھیج کر انہی سے معیشت جنریٹ کرنا دوسرا بلوچ اسٹوڈنٹس کو یورپین ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے بھیجا جائے تا کہ اس سے علم اور معیشت جنریٹ ہو سکے) ۔

حقیقت یہ ہے کہ جنگ ایک کاروبار ہے انٹرنیشنل سسٹم کیلئے، تو ہمیں اپنے آپ کو بکاو نہیں کرنا بلکہ کچھ معاہدات کی بنیاد پر ہم ان سے سپورٹ حاصل کر سکتے ہیں، مگر تاریخ میں ایسا کم ہوا ہے بلکہ انٹرنیشنل سسٹم نے چھوٹے سسٹموں کو صرف سیاسی و کاروباری مفادات کیلئے استعمال کرکے چھوڑ دیا، بد قسمتی سے کوئی کسی کو بغیر مقصد کے سپورٹ نہیں کرتا ۔

۵ ۔ سیاسی و جنگی حکمت عملی کو وسعت دیا جائے تاکہ بلوچ کو یکجا دشمن کے خلاف ابھارا جائے اور بلوچ مقاصد حاصل کئے جائیں مگر آج تک ایسا ہوا مگر بہت کم وسعت دی گئی مثلاً آج تک ہلمند، سیستان، ڈیرہ جات، کشمور و خان گڑھ کے بلوچ کوسیاسی و جنگی محاذ پر نہیں شامل کیا گیا۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔