راجن پور میں جبری گمشدگیوں اور لوگوں کو علاقے سے بیدخلی کی مذمت کرتے ہیں – بلوچ راج ڈیرہ غازی خان

72

راجن پور روجھان مزاری میں بے گناہ لوگوں کی جبری گمشدگیاں اور گورچانی قبیلے کے لوگوں کو ان کے آبائی علاقوں سے نکالنے کی کوشش کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں ۔ بلوچ راج ڈیرہ غازی خان

بلوچ راج ڈیرہ غازی خان نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ راجن پور کے علاقے روجھان مزاری میں پچھلے چند مہینوں سے بے گناہ لوگوں کی جبری گمشدگیوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوچکا ہے. جہاں سرکاری اہلکار عام بلوچ نوجوانوں اور بزرگوں کو ماورائے عدالت غیرقانونی طریقے سے لاپتہ کرکے ان کو نامعلوم مقام پر منتقل کر رہے ہیں ۔ قانون اور آئین کو بالائے طاق رکھ کر ہمارے بے گنا لوگوں کو قید خانوں میں بند کرکے ان سے غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے، اسے ہم اپنے لوگوں کے ساتھ ظلم و ستم کے زمرے میں دیکھتے ہیں جبکہ آئین میں جو شخصی آزادی ہر شہری کو دی جاتی ہے ایسے اعمال سے وہ حقوق بھی چھین گئے ہیں. گذشتہ کچھ ہی مہینوں میں روجھان مزاری میں بغیر کسی قانونی طریقہ کار کے سو سے زائد بے گنا لوگ لاپتہ کیئے گئے ہیں جو سراسر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گمشدگیوں کے ساتھ ساتھ پچھلے کچھ مہینوں سے مسلسل راجنپور گورچانی قبیلے کے لوگوں کو ڈرایا و دھمکایا جارہا ہے کہ وہ اپنے آبائی علاقے چھوڑ کر قریبی شہروں میں قیام پذیر ہوجائیں ان علاقوں میں مرنج، کلیری تھل، بلو پہواد، چھمبڑی اور چیل بارغ شامل ہیں۔ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے قریب لوگوں کو ان کے اپنے علاقوں سے بدر کرنے کی کوشش ایک سوچی سمجھی سازش ہے جو ہمارے لیے کسی بھی طرح قابلِ قبول نہیں ہے۔ اس سازش کے تحت تقریباً 50 کلومیٹر پر محیط پرامن بلوچ آبادی کو ان کے علاقوں سے بدر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے. لوگ اپنا آبائی علاقہ چھوڑ کر مہاجرین کیمپ کی صورت آباد ہونے پر مجبور ہوجائیں گے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ان حالات میں عام لوگوں کی یہ تشویش ہے کہ ان کے آبائی علاقوں کو ان سے مستقبل میں ضبط کیا جائے گا، جس سے ہمارے لوگ بھوک پیاس سے مرجائیں گے کیونکہ یہاں ذریعہ معاش صرف مال مویشی ہے شہروں میں ان لوگوں کو دھکیلنے سے ان کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔

بلوچ راج ڈیرہ غازی خان کے مطابق ان علاقوں کو خالی کرانے کیلئے ہزاروں کی تعداد میں فوجی دستے بھی مذکورہ علاقوں کی طرف بڑھنے کی اطلاعات آرہی ہیں ان حالات کو دیکھ کر ہمیں تشویش یہ ہے کہ علاقہ مکینوں کے خلاف علاقہ نہ چھوڑنے کی صورت میں فوجی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اپنے مدبر لیڈران، صوبائی و وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ ذمہ داران سے دست بستہ اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرتے ہوئے پرامن بلوچوں پر جاری اس ظلم کو ختم کرنے کیلئے اپنا کردار ادا کریں، بلوچوں کی زمینیں بندوق کے نوق پر چھینے جانا سراسر ان کی قانونی اور آئینی حق پر ڈاکہ ہے۔