درباری دانشور – کوہ گرد

92

درباری دانشور

کوہ گرد

دی بلوچستان پوسٹ 

اگر ہم تاریخ کے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کریں تو ہمیں درباری دانشور ہر جگہ اور آج بھی ہر مقام پر ملیں گے، اصل میں ایسے لوگ سستے داموں میں فروخت ہوتے ہیں، اگر ریاستوں کی بات کریں تو ایسے لوگوں کو پیسے یا تنخواہ دے کر ان کے قلم کو اپنے لیئے استعمال کرتے ہیں۔ درباری دانشور کا اپنا کوئی نظریہ، فکر، سوچ نہیں ہوتا ہے بلکہ اُنہیں صرف چند باتیں گنوائے جاتے ہیں، جب وہ لکھ رہا ہوتا ہے تو وہ سوچنے سمجھنے اور خیال و فکر کرنے کی کوشش نہیں کرتا ہے کہ میں جو لکھ رہا ہوں شاید اس سے کسی کا نقصان بھی ہو سکتا ہے، اس سے کسی کا دل آزاری بھی ہو سکتا ہے بلکہ زیادہ تر اپنے قلم سے سنگین جرم کرتے ہیں لیکن اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے ذہن میں اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ صرف درباری ہیں، قلم ان کا ہے، لکھ بھی یہ رہے ہیں لیکن صرف لکھ رہے ہیں اور کیا لکھ رہے ہیں ان کو خود بھی پتا نہیں ہوتا ہے۔

ایسے لوگوں کو اکثر پچھلے زمانوں میں بادشاہ، سردار اور نواب پیسے دے کر اپنے لیئے پالتے تھے لیکن چونکہ سیاست کا زمانہ آ گیا تو سب نے اپنے ارد گرد ایسے چاپلوس بٹھادیئے تاکہ ان کی تعریف و توصیف میں آسمان کو زمین سے جوڑ دیا جائے، پچھلے زمانے میں بادشاہ ایسے دانشور اس لیئے رکھتے تھے کہ آئندہ نسلوں کو ہمارے بارے میں اچھی باتیں یاد رکھنی چاہیئے، ہم تاریخ کے آئینے میں دیکھتے ہیں کہ درباری دانشور اپنے بادشاہ کو خوش کرنے کیلئے کیا کیا نہیں لکھتا تھا، جیسے اپنے بادشاہ کو دیالو، سمجھدار، تعلیم یافتہ ایسے پیش کرتا تھا جیسے اس کائنات میں کوئی دوسرا اچھا بہادر طاقت ور دلیر اور تعلیم یافتہ بادشاہ اس کرہ ارض پر وجود نہیں رکھتا۔ پچھلے وقت میں ویسے لوگ کم لکھنا جانتے تھے، اس لیئے ایسے لوگوں کی بھی عزت ہوا کرتی تھی، بادشاہوں کے پاس لیکن چونکہ ان کا اپنا ضمیر مرا ہوا ہوتا ہے، اس لیئے ان کو پتا نہیں ہوتا ہے کہ ان کی بےوقوفانہ عمل اور کردار کی وجہ سے ایک قاتل، جابر، بادشاہ رحم دل لکھا پڑھا اور عظیم سوچ رکھنے والا انسان بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ اکثر اُس وقت صرف بادشاہ کی تعریف و توصیف میں اپنا سارا وقت نچوڑتے تھے، جیسے کہ اُس وقت درباری دانشور اپنے آقا کیلئے لکھتے تھے کہ اس کے جیسا بہادر دلیر اور قربانی دینے والا بادشاہ موجود نہیں، اس دنیا میں ایسے لوگوں کے سارے وسائل اور زور صرف ایک فرد کو بادشاہ بنانے کی تگ و دو میں خرچ ہوتا تھا۔

میں نے پہلے ہی عرض کیا تھا کہ ایسے لوگوں کا اپنا کوئی ایمان، ضمیر، سوچ و سمجھ اور فکر و خیال نہیں ہوتا ہے، یہ اپنا دماغ استعمال ہی نہیں کرتے ہیں بلکہ ان کو دو چار الفاظ رٹے جاتے ہیں کہ بادشاہ کی شان میں تعریف و توصیف میں جتنا بھی بہتر لکھ سکتے ہو لکھو، الفاظ کو اُس کی تعریف و توصیف میں خرچ کر سکتے ہو کرو، لوگ ایسا کہتے ہیں کہ پہلے وقت میں درباریوں کا مقابلہ ہوتا تھا کہ مطلب بادشاہ کی جو بھی سب سے زیادہ تعریف و توصیف کرے گا، اس کو اتنے ہی زیادہ پیسا ملیں گے، ان کو اتنا ہی زیادہ مال و مڈی ملے گا اور جو بہتر تعریف کرے گا، وہ بادشاہ، آقا، نواب کو زیادہ پسند آئے گا اور انہیں زیادہ خرچہ پانی ملے گا۔

ایسا بھی نہیں ہے کہ درباری دانشور صرف پہلے ہوا کرتے تھے، حقیقت میں اس میں بڑی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اب چونکہ ایک ایسا ڈیجیٹل زمانہ آ گیا ہے کہ درباریوں کو اپنے لکھنے کی صلاحیت منوانے کیلئے کاغذ و قلم کی ضرورت نہیں ہوتا ہے بلکہ ایک آئی فون اور لیپ ٹاپ کی ضرورت ہوتی ہے، پہلے ایسا ہوتا تھا کہ بادشاہ اپنی تعریف میں کتابیں لکھواتا تھا کہ جو زیادہ کتابیں لکھتا تھا اور تعریف و توصیف زیادہ کرتا تھا بادشاہ سے زیادہ مال و مڈی وہی پاتا تھا لیکن اب جبکہ سوشل میڈیا کا زمانہ آ گیا ہے تو ہر درباری آسانی سے اپنے آقا کو خوش کرنے کیلئے اپنے صلاحیت منوانے کی جتن کر سکتا ہے۔ اب ہر درباری اپنے آقا کو بتا سکتا ہے کہ میں کتنا زیادہ ایکٹیو ہوں۔ چونکہ پہلے بادشاہت تھا اس لیے بادشاہت کے مطابق درباری دانشور ہوتے تھے، اب چونکہ ایسے درباری بازار میں بھرے ہوئے ملیں گے، جیسے کہ کچھ اخباروں میں ایک شخص کو خدا ظاہر کرنے کی کوشش کرتا ہے، خاص کر ملکی سیاست میں اور الیکشن کے دوران تو ایسے درباریوں کی قیمت دگنی ہو جاتی ہے۔ اُن کا کیا ہے، پیسہ، موبائل، لیپ ٹاپ اور کھانے پینے کی اشیاء سمیت مہینے کا تنخواہ بھی ملتا ہے، اس لیئے انہیں بس بیٹھ کر کالم کی صورت میں یا سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے نامراد اور مجرم اور چور کو خدا بنانے کی کوشش کرنا ہوتا ہے تاکہ قوم کے دل میں اس کیلئے محبت جنم لے۔

اس طرح کے لوگ صرف ریاستوں میں ہی نہیں بلکہ جنگ زدہ خطوں میں بھی ہوتے ہیں، جنہیں کچھ مفادات چاہیئے ہوتا ہے۔ اس کے بدلے وہ اپنا ضمیر، اپنا ایمان، اپنا تن و دھن اور من، اپنا عزت احترام سب کچھ بس کچھ مفادات کیلئے بیچ دیتے ہیں۔

بلوچ سیاست کی بات کیا جائے تو ایک ایسا سردارزادہ ہمارے یہاں بھی ہے جنہوں نے کچھ لوگوں کو پیسہ، بہتر رہائش اور بہتر سہولیات اور جو چاہیئے تھا وہ فراہم کرکے ان کے قلم کو دن رات اپنی تعریف و توصیف میں استعمال کرتا رہتا ہے، اب اگر قوم ایسے لوگوں کو سیریس لینا شروع کر دے تو ہماری حالت پہلے جیسی ہوگی، اور اگر ہم اس امید میں ہیں کہ درباری دانشور ایک دن احساس کریں گے تو ہمیں تاریخ سے سبق حاصل کرنی ہوگی، تاریخ میں یہ بات درج ہے اور واضح ہے کہ جو لوگ کچھ مفادات کی خاطر اپنا ایمان اور اپنا ضمیر بیچ دیں وہ کبھی بھی راہ راست پر نہیں آ سکتے، ایسے لوگ اپنا ضمیر بیچ چکے ہیں اس لیئے ان سے امید رکھنا فضول ہوگا۔ یہ اپنے آقا کو، اپنے نواب اور سردار اور اپنے بادشاہ کو خوش کرنے کیلئے کسی بھی طرح کا الفاظ استعمال کر سکتے ہیں کیونکہ ان کا ایمان ان کا ضمیر بک چکا ہے۔ ایسے بکے لوگوں کیلئے شہیدوں کی تذلیل کرنا بھی بڑی بات نہیں ہوتی ہے، ہم جو بار بار کہتے ہیں کہ اپنا گریبان جھانک کر دیکھ لو کردار کیا ہے؟ بھائی کردار سے بات کرو کیا کیا ہے قوم کیلئے وطن کیلئے، کیا عیاشی میں زندگی گذارنا قوم کیلئے قربانی ہے؟ بہتر رہائش، آرام دہ زندگی، قربانی ہے؟ لیکن درباری اس کو قربانی میں تبدل کرنے کی کوشش کرتا ہے، جیسے کہ ہمارے یہاں اس کو سفارتکاری کے لبادے میں اوڑھ لیا جاتا ہے لیکن آپ درباریوں سے سوال کریں کہ سفارتکاری کا ٹھیکہ صرف سردار اور جنگ کا ٹھیکہ عام تعلیم یافتہ طبقے نے لیا ہے، تو وہ آگ بگولا ہو جاتے ہیں کیونکہ ان کی ذہنیت ایسے بن چکی ہے کہ فلانی خدا ہے، خدا غلط ہو سکتا ہے لیکن میرا نواب، میرا سردار، غلط نہیں ہو سکتا، آپ اس سے التجاء کریں کہ اپنی آنکھیں کھولو اور دیکھو سوائے فیسبک کے تم اور تمہاری اوقات ختم ہو چکی ہے لیکن درباری جس کا کام اپنے آقا کی تعریف و توصیف ہے اور اس کی مثال دینے کی ضرورت نہیں آٹھ سال سے کچھ درباری دانشور ایک شخص کو خدا بنانے نکلے تھے چونکہ اب اس کی حیثیت گراؤنڈ پر ختم ہو چکی ہے تو درباری دانشور مزید ایکٹیو ہو گئے ہیں لیکن قوم کو یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ لالچی، تنخواہ دار لوگ ہیں جن کے مفادات جڑے ہیں، تعریف اور توصیف کرنے میں۔ درباری دانشور کا اپنا ایمان نہیں ہوتا وہ سب کچھ بیچ چکا ہوتا ہے۔

قوم کارکردگی پر بھروسہ کرتا ہے اور بادشاہ اپنی ذات کی تعریف و توصیف میں اپنا مقام دیکھتا ہے، ایک سردار زادہ زیرو کارکردگی کے ساتھ دس پندرہ درباریوں کے ذریعے لیڈر بنا پھرتا ہے لیکن لیڈر معنی لیڈ کرنے والا اور آج جنگ کو، سیاست کو، سرمچاروں کو، پارٹیوں اور تنظیموں کو لیڈ کرنے والے ان کے ساتھ ان کے ہمراہ قدم بہ قدم ہیں اور جو نام نہاد خود ساختہ درباریوں کے لیڈر ہیں، ان کا قوم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کو اپنی اوقات دیکھنی چاہیئے لیکن چونکہ درباری دانشور اندھا اور گونگا بھی ہوتا ہے، اس لیئے مزید گلہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

حرف آخر میں یہی کہوں گا کہ درباری کبھی نہیں سدھرتا، اس لیئے اگر ہم پھر سے درباریوں کے پیچھے پڑ گئے ہم پھر سے نقصان میں چلے جائیں گے، ہمیں ان درباریوں کو ان کے حالت پر چھوڑ دینا چاہیئے، اب اگر کوئی معصوم سردار اپنے آپ کو لیڈر کہلوانے سے خوش ہوتا ہے تو اس میں ہمیں تکلیف نہیں بلکہ اُس سے ہمدردی ہونی چاہیئے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔