تناسبی کیفیت – میرک بلوچ

73

تناسبی کیفیت

میرک بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تناسبی کیفیت اور مضمرات کہیں بھی اور کسی بھی وقت اپنے جلووں کو بڑی تیزی سے بکھیرتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ فیصلہ کن لمحات قریب ہیں ۔ کسی بھی طرح واقعات جب انتہائی سرعت کے ساتھ عمل پذیر ہو جائیں تو ان کو روکنا کسی کے بھی اختیار میں نہیں ہوتا۔ معاشرتی سائنس کو سمجھنے والے ان حالات سے گھبراتے نہیں بلکہ صورتحال کو اپنے حق میں موڑنے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں ۔ بعض اوقات ان مضمرات کے دوران ایک ہلکی سی بریک آجاتی ہے۔ مگر جدلیات کو نہ سمجھنے والے اس بریک کو سب کچھ ختم ہونے کا عندیہ سمجھتے ہیں اور راہ فرار اختیار کر جاتے ہیں یا پھر منافقانہ روش پر گامزن ہوتے ہیں۔ ساز گار اور معروضی حالات کا انتظار کب تک ساز گار حالات تو پیدا کئے جاتے ہیں۔ اختیاراتی مرکزیت کو کہیں اور سے برآمد کرنے یا ہونے کا انتظار کب تک مرکزیت کی موجودگی میں اختیار تو انبار کی طرح موجود ہوتے ہیں۔

بلوچ قومی آزادی کی جاری تحریک کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ موجودہ جاری تحریک واضح، شفاف اور کافی وسیع ہے۔ 1948ء 1958ء 1962ء 1973ء فیصلہ کن ابھار نہیں تھے بلکہ ان میں وسیع البنیاد کی یکسانیت عنقا تھا۔ خاص طور پر 1960ء کی دہائی پراری تحریک اور 1973ء کی تحریک میں کچھ پیش رفت ضرور نظر آتی ہے لیکن ان تحریکات کے دوران صرف مطالبات پر زیادہ زور تھا۔ 1973ء تا 1977ء کا عرصہ جنگ میں تنظیم کی پہلی باقاعدہ بنیاد بلوچ پیپلز لیبریش فرنٹ کے نام سے ہوئی تھی جسکا ایک ترجمان جریدہ “جبل” بھی تھا لیکن 1977ء کے بعد BPLF تقریبا غیر موثر ہوکر رہ گئی۔ 1978ء میں افغان ثور انقلاب نے خطے کے حالات پر دورس اثرات مرتب کیئے مگر بلوچ قیادت تذبذب کا شکار ہوئی مگر اس صورتحال میں بابا خیر بخش مری کے موقف کو زیادہ پذیرائی ملی، بابا نے تقریبا پاکستانی ریاست سے اپنے تمام تعلقات توڑ دیئے۔ اس کے برعکس دوسرے بلوچ قائدین پاکستانی ریاست کے ساتھ رشتہ جوڑنے پر بے قرار نظر آئے۔ نیشنل عوامی پارٹی کے ان باقیات نے بلوچ قومی تحریک کو بے پناہ نقصانات سے دوچار کیا۔

مگر 1990ء کی دہائی میں ساری دنیا میں تبدیلیوں سے عبارت تھی۔ اور 21 ویں صدی کا طلوع بلوچ قومی آزادی کی تحریک شاندار اور بے مثال انگڑائی ثابت ہوئی۔ دنیا اور خطے کے حالات نے بلوچ قومی آزادی کی جاری تحریک نے ماضی کے برعکس کھل کر اپنے موقف کو دنیا کے سامنے برملا پیش کیا اور موقف صاف شفاف اور بغیر کسی چونکہ، اگر مگر سے مبرا موقف تھا۔ یعنی بلوچ وطن کی مکمل آزادی بلوچ قوم کا کھویا ہوا اقتدار اعلیٰ کی بحالی ۔ ماضی کی طرح خودمختاری یا اگر مگر نہیں بلکہ ٹھوس موقف یہاں سے مرکزیت واضح ہوئی۔

مرکزیت واضح ہوئی تو تناسبی کیفیت اور مضمرات بھی روشن ہوئے۔ اسی ہمت و تدبر سے عظیم قائدین پیدا ہوئے۔ واجہ شہید قائد غلام محمد، شہید خالد، ڈاڈائے بلوچ شہید اکبر خان ، شہید جنرل بالاچ، شہید کمانڈر سگار، شہید استاد قندیل اور شہیدوں کا لامتنہائی سلسلہ جو ابھی تک ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں استاد جنرل اسلم شہید اور ریحان کی عظمت بھری فدا کاری اور فدائین کا ایک شاندار سلسلہ جو جاری و ساری ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے ان قربانیوں نے پاکستانی ریاست اور اسکے کاسہ لیس تلوے چانٹنے والے نام نہاد بلوچ قوم پرستوں، نام نہاد پارلیمنٹیرین کے ہوش اڑا دیئے ہیں اور ساری دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔

بعض لوگ اور کچھ تحریک کے ہمدرد دانشور بلوچ قومی تحریک کا تجزیہ یہ کرکے کبھی فلسطین ، و کردوں کی تحریکات کے تعریف میں زمین و آسمان کے قلابے ملاتے اور ان تحریکوں کا جب تجزیہ بلوچ قومی آزادی کی تحریک کے ساتھ کرتے ہیں تو اپنی تحریک کو طفل مکتب کہتے ہیں اور یہ فرماتے ہیں کہ کردوں اور فلسطینیوں کی تحریک ہم سے زیادہ مستحکم و پائیدار ہیں۔ یہ موقف سراسر غیر سائنسی اور بغیر غور و فکر سے بھرپور ہیں۔ کیونکہ واقعات اور مواقع کسی بھی چیز میں اہمیت کے حامل ہوتے ہیں اور وقت بھی۔

یہاں خوش قسمتی سے بلوچ قوم کو 1990ء کی دہائی کے آخری سالوں میں اور 21 ویں صدی کی ابتداء ہی میں بھرپور مواقع ہاتھ آئے اور اس خطے کی تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی صورتحال نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ انہی لمحات میں بلوچ قومی آزادی کی تحریک نے زبردست طریقے سے کروٹ لی اور تحریک کو بلوچستان کی مکمل آزادی کیلئے مربوط کرکے شاندار کردار ادا کیا اور یہی وجہ ہے کہ گذشتہ تحریکات کو پیچھے چھوڑ کر عظیم قربانیوں سے ہم آغوش کیا۔

اب آیئے ذرا کردوں کی تحریک کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔ کرد تحریک میں جو زبردست ابھار 1960ء کی دہائی میں آیا مگر اس کے بعد کرد تحریک پراکسی کا شکار ہوئی ۔ اس کی عبرت ناک مثال کردوں کا چار مختلف ممالک میں بیک وقت تقسیم ہونا اور چاروں ممالک کے پراکسی کا حصہ ہونا ہے۔ وہ یوں کہ 1969ء سے لیکر اب تک کردوں کو ایران، عراق، شام اور ترکی مسلسل اپنی پراکسی میں استعمال کررہے ہیں۔ ایران کے زیر قبضہ کرد ایران سے اپنی آزادی کی تحریک چلارہے ہیں اور ایرانی کردوں کا پشت پناہ عراق رہا ہے اور عراق کردوں کا پشت پناہی ایران نے کی ہے، 1980ء کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے زمانے میں یہ اپنے عروج پر تھا۔ اسی طرح ترکی کے زیر قبضہ کرد اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ان کی پشت پناہی شام نے کی اور شام کے کردوں کی پشت پناہی ترکی کرتی رہی ہے۔ تو کرد آزادی کی تحریک کہا کھڑی ہے؟ ابھی حال ہی میں کردوں کو داعش وغیرہ سے جنگ لڑنی پڑی اور اس وقت شامی کرد اور ترک کرد آپس میں برسرپیکار ہیں۔ حاصل یہ کہ ہوشیار اور زیرک کرد تحریک مختلف پروکسیز میں تباہ و برباد ہیں۔ مثالیں تو بہت زیادہ ہیں لیکن اس مختصر تحریر میں احاطہ نہیں کرسکتی لہٰذا پھر کبھی۔

بلوچ قومی آزادی کی جاری تحریک کے پاس مرکزیت بھی ہے، اختیارات بھی، شاندار مواقع بھی خطے اور بین الاقوامی حالات بھی اس کے حق میں ہیں۔ اور قابض ریاست اپنی بدترین بحرانوں میں دھنستا چلا جارہا ہے۔ لہٰذا یہ وقت تحریک کے تمام پرتوں کیلئے نہایت ہی اہم ہے اور فیصلہ اور اختیارات بھی ان کے پاس ہیں۔

اب بس صرف ہمت، تدبر، دانائی کی ضرورت ہے، ہمارے عظیم سرمچار جانگسل جدوجہد میں مصروف عمل ہیں ۔ اس وقت سرفیس کو دوسری طریقے سے اب آگے بڑھنا ہوگا۔ مزید آگے۔ اور اب ایک باہمت کام بھی اب ان کے ذمہ ہے اور وہ ہے آزاد جلا وطن عبوری حکومت کا قیام یہی موقع ہے اور یہی لمحات ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔