ایک نظریاتی سنگت شعیب جان ۔ زہیر بلوچ

104

ایک نظریاتی سنگت شعیب جان

‎تحریر: زہیر بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

‎شعیب جان ایک فکر اور نظریئے کا پابند ساتھی تھا، اس کے ساتھ مضبوط جسم نہیں بلکہ ایک مضبوط سوچ اور فکر تھا، وہ ایک مکمل نظریاتی ساتھی تھا۔ جس کیلئے زمین اور وطن سے بڑھکر کوئی بھی چیز اہمیت نہیں رکھتا تھا۔ شعیب ایک کھلی کتاب کی طرح تھا، جو صرف پڑھنے کا متلاشی تھا، شعیب حقیقت میں زمین کا بیٹا تھا، وطن سے اس کی محبت کا اندازہ شاید مجھ جیسا انسان نہ کر پائے، وہ جو راتوں کو بے نیند وطن کی خوابوں میں گذارتا ہو، وہ جو ہر کتاب میں اپنے شہیدوں کا مطالعہ کرتا ہو، وہ جو ہر وقت قومی آزادی کے فکر میں مگن ہو، وہ جو ہر نوجوان میں شہید امیر الملک کو دیکھتا ہو، وہ جو ہر خواہش میں بلوچستان کو آگے رکھتا ہو، اُس کے محبت کا پیمانہ میں کس طرح بیان کر سکتا ہوں، اُس کے دھرتی پر فدا ہونے کے جذبات اور احساسات کو میں کس طرح بھانپ سکتا ہوں، وہ مجھ سے آکر ہمیشہ کہتا تھا کہ میں کس طرح پڑھائی جاری رکھوں؟ میڈیکل کے کتابوں میں مجھے اب انسانی جسم کے بجائے اپنے دھرتی پر فدا ساتھیوں کی کہانیاں دکھائی دیتے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ میں کس طرح رٹا لگاؤں کہ میرے ذہن میں دن رات بلوچستان اور صرف بلوچستان کے ہی خیالات گھومتے ہیں، کبھی کبھی میں اس کی چاہت کو سمجھنے کی کوشش کرتا تھا لیکن بلوچستان کو کتنا چاہتا تھا اس کا اندازہ میں آج بھی نہیں لگا سکا ہوں۔

‎شعیب بہت ہی سادہ سا تھا، بہت ہی معصوم، اگر مجھ سے کوئی بلوچ تحریک کے شہید ساتھیوں میں سب سے معصوم شہید کے بارے میں پوچھے تو میں بلا جھجک شہید شعیب کا نام لے سکتا ہوں، لیکن اُس معصومیت میں ایک محبت چھپی تھی، اس دھرتی کیلئے، اس ماں کیلئے، اپنے زمین کیلئے اور اُس کیلئے وہ کچھ بھی کر سکنے کی ہمت رکھتا تھا۔ وہ بولتا کم لیکن سوچ کر بولتا تھا، وہ باتیں کم لیکن بہترین باتیں کرتا تھا، وہ ایک مکمل سیاسی ساتھی تھا، علم اور تعلیم کے ساتھ اچھے اور موثر حکمت عملیاں بھی اس کے پاس تھے، عام نوجوانوں کے ساتھ رشتے استوار کرنے میں ماہر تھا، وہ ہمیشہ کہتا تھا کہ اگر آزادی چاہتے ہیں تو ہمیں عوام کے اندر ہی رہ کر جدوجہد کرنا ہے، وہ سیاسی جدوجہد پر بہت زیادہ یقین رکھتا تھا، اُس کی ہمیشہ خواہش تھی کہ میں سیاسی پروسس کو مکمل کرلوں، وہ پڑھنے کا بےحد شوقیں تھا، بلوچستان کے علاوہ دیگر تحریکوں کا بھی مطالعہ کرتا تھا۔ وہ مطالعے کو ایک مضبوط ہتھیار سمجھتا تھا، مجھے آج بھی اس کی کہی ہر ایک بات یاد ہے، اُس نے اُن لوگوں کے بارے میں یہ کہا تھا کہ جو سختیوں کا سامنا کرنے کی ہمت نہ کر سکے، وہ جو سخت اور مشکل حالات میں اپنی دھرتی ماں کو چھوڑ کر قومی بندوق کو پھینک کر عظیم گلزمین کو چھوڑ کر بھگوڑا ہوئے، اس کی سب سے بڑی وجہ ان کی بےتعلیمی اور مطالعے سے دوری تھا، وہ جنگ کو صرف ایک شوق سمجھتے تھے، اس لیئے جب جنگ کی سختیاں آئیں، تو وہ رفو چکر ہو گئے۔ دھرتی ماں کو دشمن کے ہاتھوں تنہا چھوڑ کر چلے گئے۔ شعیب جان ان بھگوڑوں کے بارے میں کہتا ہے کہ اصل میں ان کے پاس قومی نظریہ نہیں تھا، قومی نظریہ رکھنے والا ساتھی چاہے جس بھی حالت میں رہیں، بھوک افلاس، پیاس، چاہے حالت جس نہج پر بھی پہنچ جائے لیکن وہ مرنے کو بھاگنے سے زیادہ ترجیح دینگے۔ وہ بے نظریہ لوگ تھے جو حالات کا مقابلہ کرنے کے بجائے دھرتی اور اپنے گلزمین کو چھوڑ کر چلے گئے، جب وہ دھرتی ماں کی رکھوالی کیلئے بندوق اٹھانے چلا گیا، تو ہمارا رابطہ بھی وہیں سے منقطع ہو گیا تھا۔

‎ دو مہینے پہلے ہی پہلی اور آخری بار تفصیل سے میرا حال احوال ہوا، میں پہلے سوچ رہا تھا کہ شاید وہ کچھ تھکا ہوا ہو لیکن جب حال احوال ہوا تو وہ انتہائی خوش تھا، اُس کی کچھ باتیں یہاں قوٹ کرنا چھاؤں گا۔

“یار آپ کو ان احساسات اور جذبات کے بارے میں کیا بتاؤں، یہاں آکر ایسا لگ رہا ہے جیسے میں جنت میں آ گیا ہوں، جو آزادی شاید میں زندگی میں حاصل نہیں کر سکا آج یہاں آکر ان آزاد فضاؤں میں بنا کسی خوف کے اپنے زمین پر آزاد پھر رہا ہوں۔ وہ خواب جو میں راتوں رات دیکھتا تھا کہ ایک دن بنا کسی ڈر و خوف کے چیخ چیخ کر اپنی دھرتی ماں سے اپنے محبت کا اظہار کروں گا اور آج یہ شرف بھی مجھے حاصل ہوا ہے، آج دشمن سے لڑنے کیلئے میرے پاس میرے قوم کا دیا ہوا قومی بندوق ہے اور مرنے کیلئے میری زمین، میری مٹی ہے۔ یہ صرف قابض پاکستانی فوج کے ساتھ میری جنگ نہیں بلکہ وہ بچپن کے خواب ہیں، جنہیں میں زندگی میں پورا کرنا چاہتا تھا، آج آزاد بلوچ دھرتی کے حفاظت کیلئے میرے ہاتھ میں بندوق اور مٹی پر قربان ہونے کا جذبہ سب کچھ ہے۔” ان باتوں سے مجھے اندازہ ہوا کہ اصل میں دھرتی ماں کی چاہت کیا ہوتی ہے۔

‎اس زمین اور مٹی پر قربان ہونے والوں کے پاس کیا جذبات ہوتے ہیں، اس کی ایک اور بات جب ایک دفعہ طالب علمی کے زمانے میں میں نے اس سے پوچھا تھا کہ شادی وادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہو یا نہیں؟ تو اُس کے الفاظ یہ تھے”منی دشتار منی زمین اِنت، ھما روچا کہ من پہ زمین ءَ شہید بوتان بزان من سالونک بوتگاں ءُ منی آروس ھما روچا اِنت” (میرا منگیتر، میرا دھرتی ہے، جس دن میں اپنے وطن کیلئے شہید ہوا تو سمجھو کہ میں دلہا بن گیا اور میری شادی اُس دن ہو گئی) لیکن زندگی میں ایک بات ہمیشہ ستائے گی کہ وہ کم عمری میں ہی دلہا بن گیا، وہ بہت کچھ کرنا چاہتا تھا، وہ دھرتی پر قربان ہونے سے پہلے آجوئی کیلئے بہت سی ذمہ داریاں نبھانا چاہتا تھا، آج بھی مجھے یاد ہے کہ وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے پی ڈی ایف میں درجنوں کتابیں رکھی ہوئی ہیں اور جب بھی فارغ ہوتا ہوں تو مطالعہ کرتا ہوں، مجھ سے بھی پی ڈی ایف میں کتابوں کی درخواست کی لیکن میں کچھ اسباب کے بنا اُنہیں کتاب پہنچا نہ سکا، وہ ایسے بات کرتا تھا کہ جیسے وہ جنگ میں نہیں بلکہ ایک تعلیمی ادارے میں چلا گیا ہے اور واقعی میں وہ ایک عظیم تعلیمی ادارے میں چلا گیا تھا، اپنے کچھ آرٹیکلز بھیج کر کہا کہ میں نے اب باقاعدہ آرٹیکل لکھنا شروع کیا ہے(وہ نودشنز کے قلمی نام سے دی بلوچستان پوسٹ میں تحریریں لکھتا تھا) اور اب بلوچی پر بھی زور دے رہا ہوں، انشااللہ جلد بلوچی لکھنا بھی سیکھ جاؤں گا، وہ بہت ہی محنتی تھا لیکن میرے لیئے جو سب سے بڑی چیز یہ تھی کہ وہ ایک نظریاتی ساتھی تھا۔ اُس کے دل میں قوم کیلئے دھرتی ماں کیلئے زمین کیلئے مرنے کا جذبہ تھا، وہ اکثر کہتا تھا کہ میں بچپن میں اپنی زندگی کو ایک بے مقصد زندگی سمجھتا تھا لیکن میں ناواقف تھا کہ دھرتی ماں سے محبت اور اس پر مرنے کا جذبہ اپنے آپ میں ایک بڑا مقصد ہے اور آج مجھے اپنا مقصد مل گیا ہے۔

‎شعیب جان دھرتی کے عشق میں شے مرید تھا، آج بھی اس کے ڈی پی کے بایو پر لکھا ہے( ما پہ وطن دیوانگیں) ہم دھرتی ماں کے دیوانے ہیں، اس جذبے کے ساتھ شعیب جان پہاڑوں میں دشمن کے خلاف لڑ رہا تھا، اُس کا کہنا تھا کہ ہمیں اپنے خون سے اپنے لوگوں کو اپنے قوم کو یہ باور کرانا ہے کہ سرمچار اپنے قوم کیلئے جیتا اور مرتا ہے، ایک سرمچار ہزار مشکلات اور مصائب ہنس کر قوم کیلئے سہتا ہے، لوگ کہتے ہیں کہ سرمچار سنگدل ہیں، اُن میں پیار محبت نامی چیز نہیں، اُن میں رحم اور معصومیت نہیں لیکن میں دعوے سے کہتا ہوں کہ اگر کسی نے شعیب کو دیکھا اور اس کے ساتھ وقت گذارا ہے تو وہ بخوبی جانتا ہوگا کہ سرمچار کس طرح کے لوگ ہیں اور ان کا موقف کتنا غلط ہے، میں کہتا ہوں کہ شعیب کے روپ میں ہمیں ہر بلوچ سرمچار اور فدائی کو دیکھنا ہے، جس کی آنکھوں میں صرف دھرتی کیلئے محبت اور محبت ہی ہے۔


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔