ایغور مسلمانوں پر رمضان کے دوران مذہبی رسومات پر پابندی عائد کی ہے – چینی سفیر کا اقرار

54

ایغور مسلمانوں  کو سور کا گوشت دے کر  انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ اپنے خاندان کے ساتھ اسے کھائیں۔

تفصیلات کے مطابق  پاکستان میں چینی سفارت خانے میں ڈپٹی  چیف آفیسر لیجئین زہاؤ کا کہنا تھا کہ چین نے سنکیانگ کی ایغور کمیونٹی پر رمضان کے دوران مذہبی رسومات پر جزوی پابندی عائد کی ہے، روزہ رکھنے پر کلی پابندی نہیں ہے۔

عالمی نشریاتی ادارے  سے بات  چیت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ یہ پابندیاں کمیونسٹ پارٹی کے ممبران پر ہیں جو کہ ملحد ہوتے ہیں یا سرکاری افسران، جنہیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوتی ہیں اور ایسے طلبا پر ہیں جنہیں لازمی تعلیم اور سخت مشکل کام کرنے ہوتے ہیں۔

چینی حکام کی جانب سے یہ بیان ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں انسانی حقوق کے کارکنان اور ایغور مسلمانوں کی حمایت میں کام کرنے والے گروپ ہزاروں ایغور مسلمانوں پر رمضان کے شروع ہونے کے بعد چینی حکومت کی جانب سے پابندیاں لگائے جانے پر اپنی پریشانی ظاہر کر چکے ہیں۔

جرمنی میں قائم ورلڈ ایغور کانگریس کے سربراہ ڈالکن عیسیٰ نے بتایا کہ جو ایغور پبلک سیکٹر میں کام کرتے ہیں اور جو طلبا ہیں انہیں کہا گیا ہے کہ وہ روزانہ کینٹین میں آئیں ورنہ ان پر خفیہ طور پر روزہ رکھنے کا الزام لگایا جاتا ہے اور یہ کہ ان میں انتہاپسندی کے اثرات ہیں۔

لیجئین زہاؤ کے بیان سے اختلاف کرتے ہوئے ڈالکن عیسیٰ نے دعویٰ کیا کہ مسلمان سرکاری اہلکاروں کو گھر لے جانے کے لئے بھی کھانا دیا جاتا ہے اور انہیں کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے گھر کے افراد کے ساتھ اسے کھائیں۔ اس کے علاوہ مقامی افراد کے لئے مسلمانوں کی دوسری رسومات جیسے مساجد میں نماز باجماعت پڑھنا اور سر پر سکارف لینے پر پابندی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ کیسز میں ایغور اہلکاروں کو سور کا گوشت دیا گیا اور انہیں حکم دیا گیا کہ اپنے خاندان کے ساتھ اسے کھائیں۔ 2016 کے بعد سے رمضان میں ایسی پابندیاں عائد کی جاتی ہیں جو اس برس زیادہ سخت ہیں۔

چین کی حکومت پر حالیہ برسوں میں دس لاکھ سے زائد ایغور اور دوسری مسلمان قومیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو حراستی مراکز میں قید کرنے پر عالمی طور پر تنقید کا سامنا ہے۔