اظہار رائے کی آزادی اور ہمارے سیاسی رویئے – عبدالواجد بلوچ

149

اظہار رائے کی آزادی اور ہمارے سیاسی رویئے

تحریر: عبدالواجد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

مشہور برطانوی مفکر برٹرینڈرسل اپنے مضمون ’’آزادی اور معاشرہ‘‘ میں فرد کی آزادی میں معاشرے کے مداخلت کے بارے میں رقم طراز ہیں ’’میں ان معاملات میں معاشرے کی مداخلت کو بالکل تسلیم نہیں کرتا، جہاں ایک آدمی کے اعمال دوسرے آدمی کی آزادی پر کوئی اثر نہیں ڈالتے، اگر کسی سماج کی اکثریت کسی رائے کو پسند نہیں کرتا تو اس کو ہرگز یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ان لوگوں کی رائے میں دخل اندازی کرے جو اس کو اچھا سمجھتے ہیں، اسی طرح اگر کسی معاشرے کی اکثریت کسی حقیقت کو جاننا نہیں چاہتی تو اسے یہ حق حاصل نہیں کہ جو لوگ اسے جاننا چاہتے ہیں انہیں قید میں ڈال دیں۔‘‘

جدید دنیا میں جمہوری ریاستوں کے قیام کے بعد سے اظہار رائے کی آزادی کا حق بنیادی انسانی حقوق کی فہرست میں سرفہرست تصور کیا جاتا ہے، جدید جمہوری معاشروں میں آزادی اظہار پر کسی بھی قسم کی قدغن لگانے کو دیگر تمام بنیادی حقوق پر قدغن لگانے کے مترداف سمجھا جاتا ہے۔ خیالات و نظریات کا آزادانہ اظہار اور تنقید و اختلاف رائے کا حق کسی بھی جمہوری معاشرے کا بنیادی اصول ہوتے ہیں، معلومات و افکار کے آزادانہ بہاؤ کو یقینی بنانے سے شہریوں کے درمیان دلائل پر مبنی مکالمے کو ترویج حاصل ہوتی ہے۔ جو آگے چل کر معاشرے میں رواداری و برداشت کو فروغ دینے کا باعث بنتا ہے۔ ریاضی کی اصطلاح میں بات کی جائے تو سماج کی فکری، علمی اور مادی نشوونما اظہار رائے کی آزادی کے Directly Proportional ہے یعنی جن ممالک میں افراد کو جتنی زیادہ آزادی اظہار کا حق حاصل ہے، وہ قومیں فکری علمی اور مادی ترقی میں دیگر اقوام کو اتنا ہی پیچھے چھوڑ گئی ہیں۔ اس کے برعکس جن معاشروں میں اظہار رائے پر، نظریے, سلامتی اور مذہب سمیت کسی بھی قسم کی قدغن رہی وہ فکری،علمی اور مادی طور پر پسماندہ رہ گئے۔ سادہ لفظوں میں اظہار رائے کی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ ہر انسان تقریر و تحریر اور خیالات و نظریات کے اظہار اور ترسیل میں آزاد ہے۔ وہ کسی بھی فکر، نظریئے اور نظام کے بارے میں نا صرف اپنا ایک خاص نکتہ نظر تشکیل دے سکتا ہے بلکہ وہ کسی بھی فکر نظریئے اور نظام پر تنقید کا حق بھی رکھتا ہے.

بلوچستان میں بلوچ قومی آزادی کی بحالی کے لیئے ریاستی قبضہ گیریت کے خلاف جاری تحریک ایک لحاظ سے اپنے عروج پر ہے، جہاں پاکستان سمیت طاقتور چائینا کی سامراجی پالیسیوں کے خلاف “مجید بریگیڈ” کے فدائین سیسہ پلائی دیوار ثابت ہورہی ہیں (گو کہ سیاسی حوالے سے کچھ خاص پالیسیاں مرتب نہیں کی گئیں) لیکن اس رواں تحریک کے لیئے خطے کی بدلتی صورت حال کے پیش نظر انتہائی سخت چیلنجز ہیں، اگر بلوچ انقلابی معاشرے میں پائی جانے والی سیاسی رویوں پر از سر نو پالیسیاں ترتیب نہیں دی گئیں تو یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ خطے میں پائی جانے والی سامراجی طاقتوں کے بین رسہ کشی ہمیں مسل کر رکھ دے گا۔.وقت و حالات کی نزاکت جدید دنیا کے پیش نظر بلوچ انقلابی پارٹیوں سے یہ تقاضہ کررہا ہے کہ اپنے بین سیاسی رویوں کے فروغ پر زور دیں، سیاسی حوالے سے مکالمہ بازی، اظہار رائے، خیال کی اہمیت اور اس سے بڑھکر اپوزیشن کے کردار کی اہمیت کو سمجھنا ہوگا کیونکہ جب تک ہمارے درمیان برداشت، روا داری کا عنصر غائب ہوگا، تب تک پیچیدہ مسائل حل کی جانب نہیں بڑھیں گے۔

سیاسی طالب علم کی حیثیت سے میں آج تک اس بات کو سمجھنے سے قاصر ہوں کہ بلوچ قومی آزادی کے لیئے برسر پیکار جھدکار اور کچھ سیاسی پارٹیوں کے درمیان چنداں اختلافات کو نظریاتی اختلاف کا نام دیا جارہا ہے اور یہ “امر” آج تک جواب طلب ہے کہ وہ نظریاتی اختلاف ہیں کیا؟ اصل میں ہمارے ہاں سیاسی رویوں کو دفن کیا گیا ہے، اظہار رائے خیال کی آزادی کو منفی پروپیگنڈہ کہہ کہ اپنی ذمہ داریوں سے فراریت اختیار کی گئی، جو ہنوز جاری ہیں، کارکنان کی تربیت پر کسی طرح زور نہیں دیا جارہا، یہ وہ چند چیزیں ہیں جن کو بنیاد بنا کر ہم اپنے اندر مثبت سیاسی رویوں کو فروغ دے سکتے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے ہاں سنجیدگی کا جنم ہو.اظہار رائے کی آزادی، برداشت، ایک دوسرے کو سننا یہ وہ اعمال ہیں، جن کی ترویج وقت کی ضرورت ہے لیکن یہاں بدقسمتی سے ستر سالہ اس تحریک میں ابھی تک ہم پاکستانی نفسیات سے نہیں نکل پائے ہیں۔ ہمارے ہاں ایک المیہ یہی ہے کہ ہمارے سیاسی دوست دشمن کے اعمال کو کسی بھی طرح Follow نہیں کرتے روزمرہ رونما ہونے والے رویوں پر نگاہ رکھ کر دیکھا جائے تو عدم برداشت اظہار رائے پر قدغن یہ وہ اعمال ہیں جو پاکستانی نفسیات کی دین ہیں.

بلوچ سیاسی پارٹیوں کو یہ بات سمجھ لینا چاہیئے کہ سوشل میڈیا کے اس دور میں پالیسیوں کی ترتیب، کارکنان کی اہمیت اور صرف یک طرفہ موقف کی ترویج کے پیش نظر اظہار رائے کے حق پر قدغنیں لگائے رکھنا زیادہ دیر ممکن نہیں رہے گا۔ سماج کی فکری، علمی اور مادی ترقی و نشوونما کو یقینی بنانے کیلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے انقلابی معاشرے میں اظہار رائے کے حق کو مسدود کرنے والی رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے جائیں، جس سے کارکن اپنی سیاسی تربیت کے مراحل کو طے کرکے اپنا نشونما، مثبت سیاسی رویوں سے کریں اور مستقبل میں ایک آزاد و خودمختار بلوچستان میں پھر سے ایک نئی آمریت جنم نا لے اور خطے میں عدم برداشت پر ایک نیا ملک معرض وجود میں نہ آئے.

امید کرتا ہوں کہ وقت و حالات کے سخت لہروں سے کچھ سیکھ کر ہم اس مقام پر کھڑے ہونے کی کوشش کریں گے جہاں جمہوری اقداروں کی اہمیت ہو.


دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔