پشتونوں کے ساتھ ناانصافی کے خاتمے تک ہمارا لہجہ یہی رہے گا – منظور پشتین

91

اُنھوں نے یہ بات عالمی نشریاتی ادارے کو  دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی ۔

جب اُن سے اورکزئی کے قبائلی ضلع میں پاکستان کے  وزیر اعظم عمران خان کے دیے گئے بیان کے بارے میں پوچھا گیا، تو منظور پشتین نے کہا کہ ہمارا لہجہ یہی ہے، اور یہی طریقہ کار رہے گا جب تک کہ زیادتی اور بے انصافی ختم نہیں ہوتا ۔

اورکزئی میں خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کہا تھا کہ پی ٹی ایم کے مطالبات جائز ہیں، لیکن اختیار کردہ لب و لہجہ درست نہیں۔

اسی بابت منظور پشتین نے کہا کہ کون سا لہجہ صحیح ہے اور کون سا درست نہیں ہے؟ ہم نے کافی عرصے سے بیان بازی دیکھی ہے۔ لیکن ہمارے مسائل کو کسی نے حل نہیں کیا۔

منظور پشتین نے مزید کہا کہ ہماری سرزمین پر نہ ہمارے گھر محفوظ ہیں نہ ہماری عزتیں نہ ہی ہمارے بزرگ۔ اس بارے میں کسی نے نہیں کہا کہ یہ طریقہ کار غلط ہے؟

انھوں نے کہا کہ ہماری سرزمین پر بم باری ہوئی۔ کسی نے اسے غلط قرار نہیں دیا۔ لوگ دس دس سال سے لاپتہ ہیں۔ یہ غلط بات ہے کہ لوگ لاپتہ ہیں۔ لیکن اسے کسی نے غلط نہیں کہا۔

پشتین نے کہا کہ ڈیڑھ سال قبل جب پی ٹی ایم بنا کوئی بھی ہمارے مسائل نہیں سنتا تھا۔ بقول اُن کے، چوکیوں پر لوگوں کو غیر قانونی طور پر ہلاک کیا جاتا تھا۔ لیکن ہماری کوششوں سے دھماکے اور ظلم و زیادتی میں کمی ضرور آئی ہے۔

انھوں نے کہا  کہ ماضی کی پالیسیاں اور غلطیاں اب بھی جاری ہیں۔

پی ٹی ایم کے رہنما نے کہا کہ اگر ہم سچ بولتے ہیں تو پاکستان ناراض ہوتا ہے اور اگر ہم جھوٹ بولیں گے تو خدا ناراض ہوگا۔

اُنھوں نے کہا کہ مہمند ضلع میں اب بھی بھتہ وصول ہوتا ہے اور لوگ ہلاک کیے جاتے ہیں۔